تحریک تحفظ آئین پاکستان کا بیرسٹر سیف کے بیان پر سخت ردعمل، شوکاز نوٹس دینے کا مطالبہ

بیرسٹر سیف کی اب نوکری چلی گئی ہے، ان کا پی ٹی آئی سے بھی کوئی تعلق نہیں، اخونزادہ حسین یوسفزئی

اسلام آباد:

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بیرسٹر سیف کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا سے درخواست کی ہے کہ انہیں شوکاز اور شٹ اَپ کال دی جائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان تحرک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ بیرسٹر سیف کی اب نوکری چلی گئی ہے، انہیں کوئی لفٹ نہیں کروا رہا اور ان کا پی ٹی آئی سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، وہ کس حوالے سے پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ ہماری حکومت کو کے پی کے میں غیر آئینی طور پر ختم کیا گیا، وہاں ایک غیر اعلانیہ مارشل لاء لگا ہوا ہے۔

اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی، مذاکرات اصولوں کی بنیاد پر ہوں ناکہ سرنڈر کی بنیاد پر، 4 نومبر کو متحدہ اپوزیشن کا اجلاس بلانے جا رہے ہیں جس میں آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا حتمی فیصلہ ہوگا۔

اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ پہلے پیپلز پارٹی ثابت کرے وہ کس طرف کھڑے ہیں، آئین کی بات کرنے والے بھٹو کو نکال کر آئین سامنے رکھیں تو وہ شرمندہ ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور اس کی حکمت عملی سے متعلق جو اختیار محمود خان اچکزائی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دیا گیا ہے کہ اسے کیسے لے کر آگے بڑھنا ہے، اس متعلق دونوں کی ملاقات نہیں ہو سکی۔

اخونزادہ حسین یوسفزئی نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے حوالے سے جو کہا جا رہا ہے اس پر ہم کچھ نہیں کہ سکتے، جب تک بانی چیئرمین سے ملاقات ہوتی رہی انہوں نے محمود خان اچکزائی اور علامہ راجا ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بانی چیئرمین کی ہدایت کے مد نظر اپنی حکمت عملی تیار کی لیکن ان کی جانب سے کہا جا رہا کہ بانی کی بہنیں مسئلہ کرتی ہیں، ہم نے ایک اصولی موئقف اختیار کیا ہے اور بانی نے بار بار ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے بانی کی قربانیوں پر کوئی سودا نہیں کیا، ہم نہ ایسا خود کریں گے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیں گے، یہ جدوجہد پاکستان کے جمہوری حقوق کی ترجمان ہے۔

Load Next Story