سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے

اسلام آباد میں ہفتے کی رات جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوناک اور قابل مذمت ہے .

اسلام آباد میں ہفتے کی رات جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوناک اور قابل مذمت ہے. فوٹو؛ایکسپریس نیوز

اسلام آباد میں ہفتہ کی رات عوامی تحریک اور تحریک پاکستان کی جانب سے دھرنے وزیراعظم ہاؤس کے سامنے منتقل کرنے کے اعلان کے بعد صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی اور وہی افسوسناک واقعہ رونما ہوا جس کا خدشہ کافی دنوں سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔

دھرنے کے شرکاء کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کے بعد پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہو گیا اور ریڈ زون میدان جنگ بن گیا۔ لاٹھی چارج' آنسو گیس کی شیلنگ' ربڑ کی گولیاں چلانے اور پتھراؤ کے باعث سیکڑوں افراد زخمی ہو گئے جن میں خواتین' بچے اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں' سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے،گزشتہ روز پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد تین ہوگئی۔

اسلام آباد میں ہفتے کی رات جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوناک اور قابل مذمت ہے۔ پولیس نے عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں پر بدترین تشدد کیا جس سے پرامن مظاہرین میں سے تین قیمتی جانیں ضایع ہو گئیں۔ عوامی تحریک اور تحریک انصاف والے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کے ساتھ ساتھ کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

پولیس نے صحافیوں پر ڈنڈے برسائے' ان کے کیمرے توڑ دیے، اس تشدد کے نتیجے میں کئی صحافی زخمی ہو گئے۔ یوں لگتا تھا جیسے پولیس نے ایک منصوبہ بندی کے تحت صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے تاکہ شہری اصل حقائق اور واقعات سے آگاہ نہ ہو سکیں۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافیوں پر پولیس تشدد کے عینی شاہد ہیں،انھوں نے اس واقعے پر معافی مانگی ہے۔ جب وفاقی وزیر خود یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ پولیس نے صحافیوں کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا تو حکومت کو فوری طور پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنا اور صحافیوں کو تحفظ دینا چاہیے۔

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، صحافی وہی واقعات دکھاتے ہیں جو رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد حکومت کے غیرقانونی اقدامات کو طشت ازبام کرنے پر کیا جاتا ہے۔ حکمران صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بجائے اپنے رویوں پر نظرثانی کریں۔ دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں پر پولیس تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے زخمی صحافیوں کو فوری علاج اور طبی سہولیات کی فراہمی کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں کہ صحافی ریاست کا چوتھا ستون ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی کوئی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے، اس حوالے سے حقیقی معنوں میں ایکشن ہونا چاہیے۔ صحافتی تنظیموں نے بھی صحافیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں پولیس کی جانب سے جو کچھ ہوا اس کی کوئی جمہوریت پسند حمایت نہیں کر سکتا۔

اگر ہر دو جانب فریقین صبر وتحمل سے کام لیتے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے تو ممکن ہے کہ مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکل آتا اور معاملات یہاں تک نہ پہنچتے۔ افسوس کہ سیاسی قیادت بحران کو حل کرنے میں ناکام رہی اور معاملہ تشدد اور خون خرابے تک جا پہنچا۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریق اب بھی مذاکرات کریں۔ اب مذاکرات ہوتے ہیں یا نہیں اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن سابق صدر نے بھی اس بحران کو حل کرنے کے لیے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی ان سے توقع کی جا رہی تھی۔


وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ان واقعات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایک گروہ پیش قدمی کر کے پارلیمنٹ ہاؤس' ایوان صدر اور کیبنٹ ڈویژن سمیت متعدد اہم و حساس اداروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ان اداروں کی سیکیورٹی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، مظاہرین کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا چاہے اس کے لیے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین نے طاقت کے استعمال پر مجبور کیا۔

اطلاعات کے مطابق حکومت اور تحریک انصاف میں ہفتے کو مذاکرات کا ساتواں دور ہوا تھا جس میں تحریک انصاف نے گیارہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومتی کمیٹی کے حوالے کیا تھا۔ اس کے بعد مذاکرات کا اگلا دور اتوار کو ہونا تھا مگر اس کی نوبت ہی نہ آ سکی اور اسلام آباد میں تشدد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس پولیس تشدد کے خلاف متعدد شہروں میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لاہور میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، مظاہرین نے رات گئے متعدد مقامات پر ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں۔

ان مظاہروں کے بعد صوبہ پنجاب میں امن وامان کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی جس کے تحت کسی بھی عوامی مقام پر پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔ شہر میں جلسے جلوس یا ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس سلسلے میں ترجمان حکومت پنجاب نے وضاحت کی کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال پہلے ہی خراب ہے اور ان حالات میں اگر ریلیاں اور جلسے جلوس نکالے جاتے ہیں تو دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔ ایم کیو ایم نے اگلے روز یوم سوگ منایا اور ایم کیو ایم کی قیادت نے مظاہرین پر پولیس تشدد کی مذمت کی۔

اس وقت اسلام آباد میں جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اگر اس کا فوری کوئی حل نہ نکلا اور یہ سلسلہ یونہی آگے بڑھا تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں مزید سیکڑوں افراد زخمی ہو سکتے ہیں جس سے معاملات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے کیونکہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکن بدستور دھرنے میں موجود ہیں۔ جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، معاملات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نہ ہو جائیں، اگر حکومت اور مخالف فریق سمجھداری' صبر وتحمل سے کام لیں تو مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آتا ہے۔

مذاکرات کے دوران اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات کے تمام دروازے بند کر کے تشدد کا راستہ اپنا لیا جائے۔ مذاکرات کے دوران کسی فریق کو کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے جسے پورا کرنا دوسرے فریق کے اختیار میں نہ ہو یا اس کے مفادات کو شدید نقصان پہنچتا ہو۔ اگر معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائیں تو اسے نتیجہ خیز بنانے کا واحد حل یہی ہے کہ تمام فریقین معاملات کو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل کریں۔ اسلام آباد میں پولیس تشدد کے خلاف عمران خان نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

متحدہ اور مجلس وحدت المسلمین نے بھی اس واقعہ کے خلاف یوم سوگ منانے کا اعلان کیا جب کہ الطاف حسین نے وزیراعظم نواز شریف سے رضاکارانہ طور پر منصب چھوڑنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اگر حکومت اور اس کے مخالف فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے اور حکومت کے خلاف احتجاج اور تشدد کا سلسلہ پورے ملک میں پھیل اور طویل ہو جاتا ہے تو اس سے جہاں ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو گی وہاں حکومت کے اقتدار کو لاحق خطرات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نہ تو حکومت پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی اس کے مخالف فریقین اپنے مطالبات میں کسی لچک کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان اور علامہ طاہر القادری وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ بیانات دینے کے بجائے حکومت اور اس کے مخالف فریقین مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں تاکہ اسلام آباد میں جو ہیجانی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کا جلد ازجلد خاتمہ ہوسکے۔

اگر جمہوری حکومت مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر تشدد کی راہ اپنا لے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود حکومت ہی کو پہنچتا ہے۔ اس کے خلاف عوامی نفرت اور اشتعال میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور حکومت عوامی اعتماد کھو بیٹھتی ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت، تحریک انصاف اور عوامی تحریک ہوش کے ناخن لیں اور ملک کو کسی ناخوشگوار صورت حال سے نکالنے کے لیے افہام و تفہیم کا مظاہرہ کریں۔ اسی طرح پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی قیادت پر بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ معاملات کو بگاڑنے کے بجائے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ وقت نکل گیا تو پھر پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
Load Next Story