خلیجی ریاستوں کا مثبت فیصلہ
عراقی فوج نے عراق کے مختلف اہم شہروں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے
عراقی فوج نے عراق کے مختلف اہم شہروں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
KARACHI:
مغربی میڈیا میں ایسی خبریں شایع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے امریکا کی اپیل پر عراق اور شام میں انتہا پسندوں کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی مدد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ شام اور عراق میں داعش و دیگر جنگجو گروپوں کی نمایاں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد چھ خلیجی ریاستوں پر مشتمل ''خلیج تعاون کونسل'' نے' جس میں سعودی عرب سمیت خلیج عرب کی پانچ ریاستیں شامل ہیں' کہا ہے کہ انھیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ کا انتظار ہے تاکہ اس کی مدد کی تفصیلات طے کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی صدر اوباما کی خصوصی ہدایت پر مشرق وسطیٰ کا دورہ شروع کر رہے ہیں۔ اس خطے خصوصاً عراق، یمن اور لیبیا کی حکومتیں اس حالت میں پہنچ گئی ہیں کہ ان کی رٹ کہیں موجود نہیں ہے اور ہر طرف مسلح گروپوں کا راج ہے۔ اب داعش یا آئی ایس جیسی مسلح تنظیموں کا عمل دخل عراق اور شام میں حد سے بڑھ گیا ہے۔ ادھر عراق صدر صدام حسین کی پھانسی کے بعد سے مسلسل آگ میں جل رہا ہے۔
اب تازہ خبروں کے مطابق عراقی فوج نے عراق کے مختلف اہم شہروں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملٹری ایکشن شروع کرنے کا پیغام بھجوایا ہے اس پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے موصوف بنفس نفیس عراق کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ادھر سعودی فرمانروا نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایس کو ابھی سے روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو ان کا اگلا نشانہ مغرب ہوگا۔
بہرحال خلیجی ریاستوں نے انتہاپسند گروپوں کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ زیادہ بہتر ہوتا، اگر یہ ریاستیں امریکا کی اپیل سے پہلے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے فعال کردار ادا کرتے۔ عرب دنیا کے خوشحال ممالک کی خاموشی اور مصلحت اندیشی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ساری عرب دنیا خلفشار کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ عراق، شام اور یمن تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے، فلسطینیوں پر اسرائیل ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، لیبیا بھی انتشار کا شکار ہے، سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ آ جا کے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک انتشار اور خلفشار سے محفوظ ہیں۔ اب اگر ان ممالک کو ہوش آیا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔
مغربی میڈیا میں ایسی خبریں شایع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ریاستوں نے امریکا کی اپیل پر عراق اور شام میں انتہا پسندوں کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی مدد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ شام اور عراق میں داعش و دیگر جنگجو گروپوں کی نمایاں پیش رفت کی اطلاعات کے بعد چھ خلیجی ریاستوں پر مشتمل ''خلیج تعاون کونسل'' نے' جس میں سعودی عرب سمیت خلیج عرب کی پانچ ریاستیں شامل ہیں' کہا ہے کہ انھیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ کا انتظار ہے تاکہ اس کی مدد کی تفصیلات طے کی جا سکیں۔
واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی صدر اوباما کی خصوصی ہدایت پر مشرق وسطیٰ کا دورہ شروع کر رہے ہیں۔ اس خطے خصوصاً عراق، یمن اور لیبیا کی حکومتیں اس حالت میں پہنچ گئی ہیں کہ ان کی رٹ کہیں موجود نہیں ہے اور ہر طرف مسلح گروپوں کا راج ہے۔ اب داعش یا آئی ایس جیسی مسلح تنظیموں کا عمل دخل عراق اور شام میں حد سے بڑھ گیا ہے۔ ادھر عراق صدر صدام حسین کی پھانسی کے بعد سے مسلسل آگ میں جل رہا ہے۔
اب تازہ خبروں کے مطابق عراقی فوج نے عراق کے مختلف اہم شہروں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ ختم کرانے کے لیے آپریشن کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ملٹری ایکشن شروع کرنے کا پیغام بھجوایا ہے اس پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے موصوف بنفس نفیس عراق کے دورے پر آ رہے ہیں۔ ادھر سعودی فرمانروا نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئی ایس کو ابھی سے روکنے کی کوشش نہ کی گئی تو ان کا اگلا نشانہ مغرب ہوگا۔
بہرحال خلیجی ریاستوں نے انتہاپسند گروپوں کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کر کے درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ زیادہ بہتر ہوتا، اگر یہ ریاستیں امریکا کی اپیل سے پہلے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے فعال کردار ادا کرتے۔ عرب دنیا کے خوشحال ممالک کی خاموشی اور مصلحت اندیشی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ساری عرب دنیا خلفشار کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ عراق، شام اور یمن تباہ ہو چکے ہیں۔ مصر کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے، فلسطینیوں پر اسرائیل ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، لیبیا بھی انتشار کا شکار ہے، سوڈان دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ آ جا کے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک انتشار اور خلفشار سے محفوظ ہیں۔ اب اگر ان ممالک کو ہوش آیا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔