عالمی معاشی بحران سے غریب ممالک میں ترقی کا عمل رک گیا

ایل ڈی سی ممالک معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں ناکامی کے خطرات سے دوچار ہیں

زمبیا کی آمدنی 22 فیصد گھٹ گئی، اقوام متحدہ فوٹو: اےایف پی/ فائل

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری معاشی بحران اور کمزورہوتی ہوئی عالمی اقتصادی گروتھ نے غریب ترین ملکوں میں ترقیاتی عمل روک دیا ہے ۔

ایک رپورٹ میں خبردارکیاگیا ہے کہ دنیا کے کم سے کم ترقی کے حامل ممالک معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں ناکامی کے خطرات سے دوچارہوچکے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی تجارت اورترقی پرکانفرنس کے تحت تیارکی گئی ایل ڈی سی کی رپورٹ جس میں زمبیا ، بینن اورکمبوڈیا کا مطالعہ کیا گیا ہے ۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی سطح پر جاری معاشی بہتری کیلیے انقلابی اقدامات کے باعث دنیاکے 48 انتہائی کم ترقی یافتہ ملکوںکی معیشت کمزور ہوئی ہے اورکچھ ممالک میںمعاشی ترقی کی شرح نیچے آگئی ہے۔

ڈائریکٹریو این سی ٹی اے ڈی برائے افریقہ ، ترقی پذیر ممالک اور خصوصی پروگرام ٹیفرٹیس فاچیونے بتایاکہ زمبیا میں 2009 اور2010 کے دوران مائننگ پیداوار اور برآمدات میں کمی ریکارڈکی گئی جس کی وجہ سے حکومت کومحصولات کی مد میں 22 فیصدخسارے کاسامناکرناپڑا۔


جبکہ اس سے گزشتہ سال یعنی جون 2008 اور جون 2009 کے دوران زمبیا میں کان کنی کے شعبے سے منسلک مجموعی افراد کا30.4 فیصد لوگ بیروزگارہوئے تھے۔ انھوںنے بتایاکہ موجودہ اقتصادی اورمعاشی بحران نے کئی ترقی پذیر ممالک کی اخراجات میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت کو کم کیا ہے ۔

انھوںنے بتایا کہ اسٹڈی کے مطابق کمبوڈیا ( جہاںجون 2007 سے جون 2008 کے دوران 63 ہزار افرادبیروزگارہوگئے تھے ) بھی عالمی معیشت کے منفی معاشی رجحان کے باعث کم سے کم ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیاجبکہ بینن میں 2007 سے 2009 کے دوران غربت کی زندگی گزارنے والے افراد کی شرح بڑھ کر34.4 فیصدتک جاپہنچی ہے۔

گزشتہ سال استنبول میں منعقد ہونے والی چوتھی ایل ڈی سی کانفرنس میںپروگرام آف ایکشن کے تحت 2020 تک نصف کے قریب ''LDC '' ممالک کواس درجہ بندی سے باہرنکالنے کاہدف مقررکیاگیاہے ۔

یاد رہے کہ صرف بوٹساوانا، کیپ ورد اورمالدیپ وہ ممالک ہیں جوگزشتہ 40 سال کے دوران ایل ڈی سی رینکنگ سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں آزادی کااعلان کرنے والے جنوبی سوڈان کوبھی جلدایل ڈی سی ممالک کی فہرست میں شامل کرلیاجائے گا۔
Load Next Story