بحران اور سیاسی قیادت

موجودہ صورت حال میں ملک کی سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے

موجودہ صورت حال میں ملک کی سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ فوٹو: آن لائن/فائل

KARACHI:
ملک میں جاری سیاسی بحران بدستور جاری ہے اور اس کے کسی مثبت کروٹ بیٹھنے کے تاحال امکانات نظر نہیں آ رہے تاہم سیاسی صورت حال میں بعض نئی تبدیلیاں ضرور رونما ہوئی ہیں۔ پیر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں 12 پارلیمانی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔

یہ غیر معمولی اجلاس 4 گھنٹے جاری رہا' اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں پارلیمانی پارٹیوں نے اپنی پہلے سے منظور کردہ قرار دادوں کی روشنی میں ایک بار پھر اپنا یہ عہد دہرایا کہ ملکی استحکام اور جمہوری نظام کے تسلسل پر آنچ نہیں دی جائے گی۔ یوں ملک کی 12سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے جمہوریت کی جدوجہد میں وزیراعظم کا مکمل ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی واشگاف الفاظ میں کہاکہ وہ استعفیٰ دیں گے نہ چھٹی پر جائیں گے۔ منگل کو پارلیمنٹ کا جو اجلاس ہوا' اس میں بھی جمہوریت کا ساتھ دینے کے حوالے سے تقاریر کی گئیں۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ ملک کی 12 پارلیمانی جماعتوں نے جمہوریت کے ساتھ اپنی غیر مشروط وابستگی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے پارلیمانی جماعتیں بالغ نظر ہو چکی ہیں اور وہ ملک میں جمہوری نظام کے سوا اور کوئی نظام نہیں چاہتیں اور اس کے تحفظ کے لیے متحد اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ادھر اسلام آباد میں دھرنا دینے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی جمہوریت اور آئین کی سربلندی کی بات کر رہے ہیں' اس صورت حال کو دیکھا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ جب تمام لوگ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور آئین کی سربلندی کی بات کرتے ہیں تو پھر جاری سیاسی بحران کوبھی حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بحران کیسے حل کرنا ہے یہ بھی ملک کی سیاسی قیادت کی ذمے داری ہے۔ ادھر یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ پارلیمنٹ میں بعض رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں ایسے الفاظ استعمال کیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دھرنا دینے والوں کو بزور قوت وہاں سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں حکومت کو اس قسم کے اقدامات کرنے کی تحریک بھی دی۔ اصولی طور پر کسی ایسے سیاسی لیڈر کو جو جمہوریت پر یقین رکھتا ہے اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے' اس کی زبان سے تشدد اور طاقت کے استعمال کی بات کو سراہا نہیں جا سکتا۔اس سے حالات سلجھیں گے نہیں بلکہ مزید بگڑیں گے جب کہ اس وقت ضرورت حالات کو بگاڑنے کی نہیں سنوارنے کی ہے۔


پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کے تمام سنجیدہ اور فہمیدہ طبقے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ادھر بعض سیاستدان ملفوظ انداز میں افواج پاکستان کو بھی ہدف تنقید بنا رہے ہیں' تحریک انصاف سے الگ ہونے والے رہنما جاوید ہاشمی نے فوج کے ساتھ ساتھ قابل احترام چیف جسٹس کے حوالے سے بھی بات کی' اسے غیر ذمے داری ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ سیاست میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں اور سیاستدان پارٹیاں بھی تبدیل کرتے ہیں لیکن اس کا جواز اپنی ذات تک رکھا جانا چاہیے تھا'ان میں اداروں کو ملوث کرنا مثبت سیاست نہیں ہے۔ بہر حال حالات ابھی تک سنگین ہیں' عالمی سطح پر بھی پاکستان کے امیج کوئی اچھا نہیں جا رہا۔ امریکا بھی اس حوالے سے اپنا بیان جاری کر چکا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک بھی اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی ماننا پڑے گا اور جاری بحران کو اس سطح تک لے جانے میں جہاں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ہاتھ ہے' وہاں حکومت کو بھی اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر فوراً درج ہو جاتی اور عمران خان کے مطالبے کے جواب میں چار حلقے کھول دیے جاتے تو شاید یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔

بہر حال غلطیاں دونوں طرف سے ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ مختلف سیاستدان اس صورت حال میں بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ابھی تک متحرک ہیں' پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔جس کی انھیں داد دینی چاہیے۔ حالات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانے سے پہلے اس بحران کا حل تلاش کیا جانا ہے۔ ہم ایک سے زائد بار اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ اس وقت وطن عزیز سنگین خطرات سے دوچار ہے۔

موجودہ صورت حال میں ملک کی سیاسی قیادت کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے' پارلیمانی سیاسی جماعتوں کا جمہوریت اور وزیراعظم کا ساتھ دینا اچھی بات ہے لیکن اگر وہ متحد ہو کر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کرنے کا اعلان بھی کر دیتے تو بہت اچھا ہوتا۔اب بھی وقت ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کا راستہ اختیار کریں تو یہ بحران خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔
Load Next Story