سیاسی بحران جلد حل ہونے کی امید پر حصص مارکیٹ میں تیزی کی بڑی لہر 29000 کی حد بحال
افواہوں کے دم توڑنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، غیرملکیوں اور میوچل فنڈز کی بڑے پیمانے پر خریداری
367 میں سے 301 کمپنیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، مارکیٹ سرمایہ 1 کھرب 68 ارب روپے بلند، کاروباری حجم 48 فیصد بہتر، 18 کروڑ 27 لاکھ حصص کا لین دین۔ فوٹو: آئی این پی
سیاسی افق پر منفی افواہوں کا زور ٹوٹنے، پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں سیاسی جماعتوں کا جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی حمایت جیسے عوامل نے کراچی اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیوں پر بھی منگل کو مثبت اثرات مرتب کیے اور تیزی کی بڑی لہر رونما ہوئی جس سے انڈیکس کی 29000 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی۔
تیزی کے باعث 82 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت یکدم 1کھرب68 ارب37 کروڑ48 لاکھ 11 ہزار263 روپے بڑھ گئی۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ سیاسی افق پر بہتری کی امید پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ توقع کررہے ہیں کہ سیاسی فریقین کے درمیان معاملات پرجلد ہی تصفیہ ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ منگل کو غیرملکیوں سمیت دیگر شعبوں نے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جس سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن رہا۔
ٹریڈنگ کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی حالانکہ مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 66 لاکھ 17 ہزار 369 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے30 لاکھ 95 ہزار643 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے32 لاکھ 458 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ 21 ہزار 268 ڈالر مالیت کی ہونے والی سرمایہ کاری نے کاروبار کے مورال کو بلند کیا۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 766.55 پوائنٹس کے اضافے سے29260.29 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 524.46 پوائنٹس کے اضافے سے 20337.07 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 1379.10 پوائنٹس کے اضافے سے 47880.52 ہو گیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 48.61 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 18 کروڑ27 لاکھ59 ہزار 10 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 367 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں301 کے بھاؤ میں اضافہ، 56 کے داموں میں کمی اور10 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
تیزی کے باعث 82 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت یکدم 1کھرب68 ارب37 کروڑ48 لاکھ 11 ہزار263 روپے بڑھ گئی۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ سیاسی افق پر بہتری کی امید پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور وہ توقع کررہے ہیں کہ سیاسی فریقین کے درمیان معاملات پرجلد ہی تصفیہ ہوجائے گا، یہی وجہ ہے کہ منگل کو غیرملکیوں سمیت دیگر شعبوں نے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی جس سے مارکیٹ کا گراف تیزی کی جانب گامزن رہا۔
ٹریڈنگ کے تمام دورانیے میں مارکیٹ مثبت زون میں رہی حالانکہ مقامی کمپنیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر 66 لاکھ 17 ہزار 369 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا بھی کیا گیا لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے30 لاکھ 95 ہزار643 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے32 لاکھ 458 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے3 لاکھ 21 ہزار 268 ڈالر مالیت کی ہونے والی سرمایہ کاری نے کاروبار کے مورال کو بلند کیا۔
نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 766.55 پوائنٹس کے اضافے سے29260.29 ہوگیا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 524.46 پوائنٹس کے اضافے سے 20337.07 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 1379.10 پوائنٹس کے اضافے سے 47880.52 ہو گیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 48.61 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 18 کروڑ27 لاکھ59 ہزار 10 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ 367 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں301 کے بھاؤ میں اضافہ، 56 کے داموں میں کمی اور10 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔