ٹی 20 کپتان آفریدی کے ساتھ فواد بھی دوڑ میں شامل
شہریار خان نے مستقبل کے قائدکیلیے مصباح الحق اور وقار سے مشاورت شروع کردی۔
ڈسپلنری مسائل کے سبب احمد شہزاد حکام کے گڈبکس سے خارج ہو گئے، حتمی فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کی مشاورت کے بعد ہوگا۔ فوٹو : فائل
لاہور:
قومی ٹوئنٹی 20 اسکواڈ کے نئے کپتان کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا، شاہد آفریدی کے ساتھ حیران کن طورپر فواد عالم بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
ڈسپلنری مسائل کے سبب احمد شہزاد حکام کے گڈبکس سے خارج ہو گئے، حتمی فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کی مشاورت کے بعد ہوگا، دوسری جانب چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے مستقبل کے کپتان کیلیے مصباح الحق اور وقار یونس سے مشاورت شروع کر دی، ٹیسٹ اور ون ڈے میں اسد شفیق کو گروم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں برس بنگلہ دیش میں منعقدہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں بھی جگہ نہ بنا سکی، ویسٹ انڈیز سے آخری میچ میں بیٹنگ لائن 82 رنز پر زمین بوس ہو گئی، اس ناقص پرفارمنس پر کپتان محمد حفیظ زیر عتاب آئے اور انھیں مستعفی ہونا پڑا، وہ ایونٹ کے چار میچز میں صرف55 رنز بنا سکے تھے، اب کئی ماہ بعد قومی ٹیم 3 اکتوبر کو دبئی میں آسٹریلیا سے مختصر طرز کا میچ کھیلے گی، بورڈ حکام ان دنوں نئے کپتان کے حوالے سے صلاح و مشورے میں مصروف ہیں۔
اگر شارٹ ٹرم منصوبے پر عمل کیا گیا تو شاہد آفریدی ذمہ داری سنبھالنے کیلیے فیورٹ ہوں گے،کچھ عرصے قبل احمد شہزاد بھی زیرغور تھے مگر ڈسپلنری مسائل کے سبب وہ حکام کی گڈبکس سے باہر ہو گئے، ذرائع کے مطابق بورڈ چیف کسی تعلیم یافتہ اور فائٹنگ اسپرٹ کے حامل کرکٹر کو کپتان بنانا چاہتے ہیں، ٹی ٹوئنٹی قیادت کی دوڑ میں حیران کن طور پر نوجوان بیٹسمین فوادعالم بھی شامل ہو گئے، یہ تجویز چیف کوچ وقار یونس کی جانب سے سامنے آئی، چیئرمین بورڈ شہریار خان بھی فواد کی حالیہ کارکردگی اور اچھے رویے سے متاثر ہیں جو ورلڈٹی ٹوئنٹی کے اسکواڈ میں بھی شامل نہ تھے۔
البتہ چیف سلیکٹر و منیجر معین خان کی مکمل سپورٹ آفریدی کو حاصل ہے، نئے کپتان کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا، ٹیم کو نومبر میں نیوزی لینڈ سے بھی دبئی میں مختصر طرز کے2 میچز کھیلنے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں لاہور میں وقار یونس اورمصباح الحق سے میٹنگ کے دوران چیئرمین نے نئے کپتان پر تبادلہ خیال کیا، وہ کراچی میں معین خان کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کریں گے اور پھر واپسی پر کپتان اور کوچ سے ایک اور ملاقات بھی ہوگی، شہریار نے مصباح اور وقار سے ٹیسٹ اور ون ڈے کیلیے کسی نوجوان کو بطور قائد گروم کرنے کا بھی کہا۔
اس حوالے سے اسد شفیق کا نام زیرغور آیا ہے جو سری لنکا سے سیریز میں ون ڈے اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے، ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نے مصباح الحق کو مکمل سپورٹ کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ قیادت کے حوالے سے بے فکر رہیں، کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں ہے، انھوں نے وقار یونس سے زیادہ سپورٹنگ اسٹاف پر بھی بات کی، چیئرمین کا خیال ہے کہ وقار یونس جب کھلاڑیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں تو شاہد اسلم ، گرانٹ فلاور ، اور مشتاق احمد کا ٹور پر کیا کام ہے، اس سے مسائل ہو سکتے ہیں، معین خان بھی زیادہ آفیشلز کی موجودگی سے خوش نہیں ہیں۔
قومی ٹوئنٹی 20 اسکواڈ کے نئے کپتان کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا، شاہد آفریدی کے ساتھ حیران کن طورپر فواد عالم بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
ڈسپلنری مسائل کے سبب احمد شہزاد حکام کے گڈبکس سے خارج ہو گئے، حتمی فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کی مشاورت کے بعد ہوگا، دوسری جانب چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے مستقبل کے کپتان کیلیے مصباح الحق اور وقار یونس سے مشاورت شروع کر دی، ٹیسٹ اور ون ڈے میں اسد شفیق کو گروم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں برس بنگلہ دیش میں منعقدہ آئی سی سی ورلڈ ٹی20 میں پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں بھی جگہ نہ بنا سکی، ویسٹ انڈیز سے آخری میچ میں بیٹنگ لائن 82 رنز پر زمین بوس ہو گئی، اس ناقص پرفارمنس پر کپتان محمد حفیظ زیر عتاب آئے اور انھیں مستعفی ہونا پڑا، وہ ایونٹ کے چار میچز میں صرف55 رنز بنا سکے تھے، اب کئی ماہ بعد قومی ٹیم 3 اکتوبر کو دبئی میں آسٹریلیا سے مختصر طرز کا میچ کھیلے گی، بورڈ حکام ان دنوں نئے کپتان کے حوالے سے صلاح و مشورے میں مصروف ہیں۔
اگر شارٹ ٹرم منصوبے پر عمل کیا گیا تو شاہد آفریدی ذمہ داری سنبھالنے کیلیے فیورٹ ہوں گے،کچھ عرصے قبل احمد شہزاد بھی زیرغور تھے مگر ڈسپلنری مسائل کے سبب وہ حکام کی گڈبکس سے باہر ہو گئے، ذرائع کے مطابق بورڈ چیف کسی تعلیم یافتہ اور فائٹنگ اسپرٹ کے حامل کرکٹر کو کپتان بنانا چاہتے ہیں، ٹی ٹوئنٹی قیادت کی دوڑ میں حیران کن طور پر نوجوان بیٹسمین فوادعالم بھی شامل ہو گئے، یہ تجویز چیف کوچ وقار یونس کی جانب سے سامنے آئی، چیئرمین بورڈ شہریار خان بھی فواد کی حالیہ کارکردگی اور اچھے رویے سے متاثر ہیں جو ورلڈٹی ٹوئنٹی کے اسکواڈ میں بھی شامل نہ تھے۔
البتہ چیف سلیکٹر و منیجر معین خان کی مکمل سپورٹ آفریدی کو حاصل ہے، نئے کپتان کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا، ٹیم کو نومبر میں نیوزی لینڈ سے بھی دبئی میں مختصر طرز کے2 میچز کھیلنے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں لاہور میں وقار یونس اورمصباح الحق سے میٹنگ کے دوران چیئرمین نے نئے کپتان پر تبادلہ خیال کیا، وہ کراچی میں معین خان کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کریں گے اور پھر واپسی پر کپتان اور کوچ سے ایک اور ملاقات بھی ہوگی، شہریار نے مصباح اور وقار سے ٹیسٹ اور ون ڈے کیلیے کسی نوجوان کو بطور قائد گروم کرنے کا بھی کہا۔
اس حوالے سے اسد شفیق کا نام زیرغور آیا ہے جو سری لنکا سے سیریز میں ون ڈے اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے، ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نے مصباح الحق کو مکمل سپورٹ کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ قیادت کے حوالے سے بے فکر رہیں، کسی تبدیلی کا ارادہ نہیں ہے، انھوں نے وقار یونس سے زیادہ سپورٹنگ اسٹاف پر بھی بات کی، چیئرمین کا خیال ہے کہ وقار یونس جب کھلاڑیوں کی رہنمائی کر رہے ہیں تو شاہد اسلم ، گرانٹ فلاور ، اور مشتاق احمد کا ٹور پر کیا کام ہے، اس سے مسائل ہو سکتے ہیں، معین خان بھی زیادہ آفیشلز کی موجودگی سے خوش نہیں ہیں۔