محکمہ تعلیم میں 13 ہزار جعلی بھرتیاں ہوئیں اہلیت کے خلاف کسی کو تقرر نامہ نہیں ملے گا وزیر تعلیم

امیدوار این ٹی ایس ٹیسٹ دیں جو قابلیت سے ٹیسٹ پاس کرے گا اسے بھرتی کرلیں گے،دھرنوں سے مرعوب نہیں، نثار کھوڑو

غلطیاں سدھارنے کا عزم رکھتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کی ہدایات ہیں کہ محکمہ تعلیم کو بوگس طریقے سے نہیں چلایا جائے گا، ہمیں پڑھے لکھے اور قابل استاد چاہئیں۔ فوٹو: فائل

محکمہ تعلیم میں 2 سال قبل ایس ایل ٹی ، ڈرائنگ ٹیچرز، اورینٹ ٹیچرز سمیت نان ٹیچرز کیڈرز کی1500 اسامیوں پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر 13 ہزار جعلی بھرتیاں کی گئیں، کل کی غلطی سدھارنے اور اہلیت کو ترجیح دینے کے لیے سخت فیصلہ کیا ہے۔

بھرتیوں پر پابندی ہٹنے کے بعد تمام امیدوار این ٹی ایس ٹیسٹ دیں اور جو امیدوار قابلیت کے مطابق میرٹ پر ٹیسٹ پاس کرلے اسے بھرتی کرلیا جائے گا، دھرنوں سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے، اہلیت کے خلاف کسی قسم کے تقررنامے جاری نہیں کیے جائیں گے، جعلی بھرتیوں میں ملوث افسران معطل کردیے گئے ہیں جن کے خلاف مزید کارروائی جاری ہے، ان خیالات کا اظہار سینئر صوبائی وزیرنثار احمد کھوڑو نے سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، انھوں نے کہا کہ بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے اب محکمہ تعلیم میں تمام بھرتیاں نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے ہوں گی۔


بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی ہے کہ محکمہ تعلیم کو بوگس طریقے سے نہیں چلایا جائے گا، جعلی بھرتیوں میں ملوث محکمہ تعلیم کے سابق افسران عطا اللہ دل، فرناز ریاض سمیت12 افسران تاحال معطل ہیں ان کی برطرفی کے لیے کارروائی جاری تھی لیکن افسران نے عدالتوں سے حکم امتناع لے لیا ہے، اب ہمیں پڑھے لکھے اور قابل استاد چاہئیں تاکہ قوم کا مستقبل روشن ہوسکے، اساتذہ پڑھانے کے قابل ہوں گے تو بچوں کو پڑھاسکیں گے، ماضی میں سندھی لینگویج ٹیچرز کی بھرتیوں میں غیر سندھی ٹیچر بھرتی کیے گئے، 63 امیدوار تو اسامی کے لیے ہی اہل نہ تھے 13 کی ڈگریاں جعلی تھیں انھیں کیسے قبول کیا جاسکتا ہے۔

منظور شدہ اسامیوں سے زیادہ جعلی بھرتیوں پر اے جی سندھ نے اعتراض کیا اسی لیے جعلی بھرتیوں والے امیدواروں کی تنخواہیں روکی گئیں، اہلیت کو ترجیح دینے کے لیے یہ سخت فیصلہ کیا ہے،کراچی میں ٹیچنگ کیڈر کی 1500 اسامیوں پر 13000 جعلی ملازمین بھرتی کیے گئے جبکہ 1400 جعلی بھرتیاں حیدرآباد اور 700 دیگر اضلاع میں کی گئیں، جعلی بھرتیاں ہم کیسے قبول کرسکتے ہیں، دھرنے دے کر قادری اور عمران کی روش کو نہ دہرایا جائے۔

ہم دھرنوں کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، تمام امیدواروں کو بھرتیوں پر عائد پابندی ختم ہونے کے بعد ہر صورت این ٹی ایس ٹیسٹ میں بیٹھنا ہوگا، امیدواروں کا دھرنا ختم کرانے دو بار ان کے پاس گیا لیکن انھوں نے تنخواہوں کا نوٹیفکیشن ملنے تک دھرنا ختم نہ کرنے کی بات کی جو نامناسب ہے، مذاکرات میں دھرنا دینے والوں کو بتایا کہ جلد محکمہ تعلیم این ٹی ایس ٹیسٹ کے حوالے سے اشتہارات شایع کرے گی تمام امیدوار اس میں حصہ لے کر اہلیت ثابت کردیں تو حکومت انھیں خوش آمدید کہے گی لیکن اہلیت کے برعکس دباؤ کے تحت کسی قسم کے اقدامات کی توقع نہ رکھی جائے۔
Load Next Story