احمد شہزاد کیس پی سی بی کا سری لنکن بورڈ کو خط
سری لنکن مینجمنٹ یاکسی پلیئر نے اس بارے میں کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی، معین
دلشان کے ساتھ مذہبی گفتگو کا جائزہ لینے کیلیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ فوٹو؛فائل
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اوپنر احمد شہزاد کی سری لنکن بیٹسمین تلکارتنے دلشان کے ساتھ مذہبی گفتگو کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔
اسکے سربراہ ذاکر خان ہیں۔ترجمان آغا اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ پی سی بی نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو خط بھی لکھا جس میں اس معاملے کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، اس کا جواب ابھی تک نہیں آیا ہے۔ آئی لینڈرز نے اس سلسلے میں پاکستان سے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ احمد شہزاد نے تلکارتنے دلشان سے کہا تھا کہ ''اگر کوئی غیرمسلم اسلام قبول کرلے تو وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے چاہے اس نے زندگی بھر کچھ بھی کیا ہو''۔ دلشان نے اس کے جواب میں مبینہ طور پر کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے ہیں،اس پر احمد شہزاد کا یہ جملہ سنا گیا کہ ''پھر آگ میں جانے کیلیے تیار رہو''۔
یاد رہے کہ دلشان مسلمان والد اور بدھ مت والدہ کے گھر پیدا ہوئے،ان کا اسلامی نام تو آن محمد دلشان تھا، بعد میں انھوں نے بدھ مت مذہب اختیار کرلیا تھا۔ احمد شہزاد کو اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر طلب کیا گیا تھا، جہاں انھوں نے یہ وضاحت پیش کی کہ دلشان سے ہونیوالی تمام تر گفتگو نجی نوعیت کی تھی۔
پاکستانی ٹیم کے منیجر معین خان نے گذشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ نجی گفتگو تھی، یہ واقعہ آخری میچ کے دوران پیش آیا مگر سری لنکن ٹیم مینجمنٹ یا کسی پلیئر نے اس بارے میں کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ وہ عام سے واقعہ تھا۔ یاد رہے کہ احمد شہزاد کا کسی غیرملکی کرکٹر کیساتھ گفتگو میں شامل ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، رواں سال ڈھاکا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر انھوں نے آؤٹ آف فارم بھارتی بیٹسمین یوراج سنگھ کو نصیحت کرنی شروع کردی تھی کہ وہ خراب فارم سے نہ گھبرائیں۔
اسکے سربراہ ذاکر خان ہیں۔ترجمان آغا اکبر نے میڈیا کو بتایا کہ پی سی بی نے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو خط بھی لکھا جس میں اس معاملے کی تفصیلات مانگی گئی ہیں، اس کا جواب ابھی تک نہیں آیا ہے۔ آئی لینڈرز نے اس سلسلے میں پاکستان سے کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ احمد شہزاد نے تلکارتنے دلشان سے کہا تھا کہ ''اگر کوئی غیرمسلم اسلام قبول کرلے تو وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے چاہے اس نے زندگی بھر کچھ بھی کیا ہو''۔ دلشان نے اس کے جواب میں مبینہ طور پر کہا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے ہیں،اس پر احمد شہزاد کا یہ جملہ سنا گیا کہ ''پھر آگ میں جانے کیلیے تیار رہو''۔
یاد رہے کہ دلشان مسلمان والد اور بدھ مت والدہ کے گھر پیدا ہوئے،ان کا اسلامی نام تو آن محمد دلشان تھا، بعد میں انھوں نے بدھ مت مذہب اختیار کرلیا تھا۔ احمد شہزاد کو اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر طلب کیا گیا تھا، جہاں انھوں نے یہ وضاحت پیش کی کہ دلشان سے ہونیوالی تمام تر گفتگو نجی نوعیت کی تھی۔
پاکستانی ٹیم کے منیجر معین خان نے گذشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ نجی گفتگو تھی، یہ واقعہ آخری میچ کے دوران پیش آیا مگر سری لنکن ٹیم مینجمنٹ یا کسی پلیئر نے اس بارے میں کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی، لہذا میں سمجھتا ہوں کہ وہ عام سے واقعہ تھا۔ یاد رہے کہ احمد شہزاد کا کسی غیرملکی کرکٹر کیساتھ گفتگو میں شامل ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے، رواں سال ڈھاکا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر انھوں نے آؤٹ آف فارم بھارتی بیٹسمین یوراج سنگھ کو نصیحت کرنی شروع کردی تھی کہ وہ خراب فارم سے نہ گھبرائیں۔