تھر میں قحط سالی اور ہلاکتیں سرکاری محکموں کی رپورٹ مسترد
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر دیگر شہروں میں دائر درخواستوں کی تفصیلات طلب
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو نااہل قرار دینے کی درخواست پر دیگر شہروں میں دائر درخواستوں کی تفصیلات طلب ۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تھرپارکرمیں قحط سالی اور ہلاکتوں سے متعلق محکمہ صحت کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے محکمہ صحت، خوراک، صوبائی وزارت داخلہ اوردیگر کو تفصیلی اور جامع رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
فاضل بینچ نے جمعرات کو تھرپارکر میں قحط سالی اور ہلاکتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک اور دیگر نے سیکریٹری صحت،محکمہ ریونیواور محکمہ خوراک کی جانب سے رپورٹس پیش کیں، سیکریٹری صحت اقبال درانی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھرپارکر جیسے علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تھرپارکر میں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں،وہاں حال ہی میں 57 اسپیشلسٹ، وومن میڈٖیکل افسران کنٹریکٹ پر تعینات کیے گئے ہیں، ان ڈاکٹروں میں 54 کام کررہے ہیں جبکہ 3 ڈاکٹر ابھی تک مفرور ہیں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ سیکریٹری صحت جیسے عہدے پر تعینات افسر کو اپنی ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے اور وہ ایسی رپورٹ پیش کرے جس میں ہر سوال کا جواب ہو اور عدالت جو سوالات وقتا فوقتا اٹھاتی رہی ہے۔
ان سمیت دیگر معاملات کے بھی جواب شامل ہونا چاہئیں، عدالت نے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو نااہل قراردینے اور اسمبلیاں تحلیل کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذکرنے کیلیے دائر درخواستوں کی نوعیت کے متعلق درخواست گزار اور سرکاری وکیل میں اختلاف کے باعث سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیرالتوا اس جیسی درخواستوں کے متعلق تفصیلات اور اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقل طلب کرلی۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مولوی اقبال حیدر کی جانب سے دائرکردہ آئینی درخواستوں کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے بینچ کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ ایسا ہی مقدمہ ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کرچکی ہے جبکہ ایک ایسا ہی مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے یہ درخواست خارج کردی جائے۔
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تھرپارکرمیں قحط سالی اور ہلاکتوں سے متعلق محکمہ صحت کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے محکمہ صحت، خوراک، صوبائی وزارت داخلہ اوردیگر کو تفصیلی اور جامع رپورٹیں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
فاضل بینچ نے جمعرات کو تھرپارکر میں قحط سالی اور ہلاکتوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملک اور دیگر نے سیکریٹری صحت،محکمہ ریونیواور محکمہ خوراک کی جانب سے رپورٹس پیش کیں، سیکریٹری صحت اقبال درانی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھرپارکر جیسے علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تھرپارکر میں خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں،وہاں حال ہی میں 57 اسپیشلسٹ، وومن میڈٖیکل افسران کنٹریکٹ پر تعینات کیے گئے ہیں، ان ڈاکٹروں میں 54 کام کررہے ہیں جبکہ 3 ڈاکٹر ابھی تک مفرور ہیں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ سیکریٹری صحت جیسے عہدے پر تعینات افسر کو اپنی ذمے داری کا احساس ہونا چاہیے اور وہ ایسی رپورٹ پیش کرے جس میں ہر سوال کا جواب ہو اور عدالت جو سوالات وقتا فوقتا اٹھاتی رہی ہے۔
ان سمیت دیگر معاملات کے بھی جواب شامل ہونا چاہئیں، عدالت نے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کردی، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو نااہل قراردینے اور اسمبلیاں تحلیل کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذکرنے کیلیے دائر درخواستوں کی نوعیت کے متعلق درخواست گزار اور سرکاری وکیل میں اختلاف کے باعث سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیرالتوا اس جیسی درخواستوں کے متعلق تفصیلات اور اس حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی مصدقہ نقل طلب کرلی۔
جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مولوی اقبال حیدر کی جانب سے دائرکردہ آئینی درخواستوں کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین نے بینچ کو بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ ایسا ہی مقدمہ ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کرچکی ہے جبکہ ایک ایسا ہی مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اس لیے یہ درخواست خارج کردی جائے۔