خط لکھ رہے ہیں لیکن مقدمات نہیں کھلیں گےگورنرپنجاب
پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا جیالا ہوگا،شریف برادران کے رویے جمہوری نہیں
پنجاب کا اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا جیالا ہوگا،شریف برادران کے رویے جمہوری نہیں۔ فوٹو: فائل
گورنر پنجاب لطیف خان کھوسہ نے کہاہے کہ ہم سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل میں خط تو لکھ رہے ہیں لیکن اس خط سے سوئس عدالتوں میں مقدمات نہیں کھلیں گے۔
سوئس قانون کے تحت پندرہ سال بعدکیس نہیں کھل سکتے اور ویسے بھی صدر کے خلاف ساٹھ ملین ڈالرکا کیس جھوٹا تھا ۔پنجاب میں اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا جیالا ہوگا۔شریف برادران کے رویے جمہوری نہیں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں کیا ۔گورنر پنجاب نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہاہے کہ ملک قیوم کے لکھے ہوئے خط کو واپس لیں اور اس کو کالعدم قراردیں سپریم کورٹ نے بھی مانا ہے کہ آصف زرداری ہمارے بھی صدر ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ خط لکھنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صدر کے استثنیٰ کے بارے میں ہم اپنے فیصلے میں بھی لکھیں گے۔انھوںنے کہاکہ اگر بابر اعوان پیپلزپارٹی کے وفادار ہوتے تو خط کا معاملہ اتنی طوالت اختیار نہ کرتا، جس قدر پنجاب میں بری گورننس ن لیگ کے دور میں ہوئی ہے کبھی تاریخ میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ؟چند لوگوں کے سوا ن لیگ کے سارے وزرا بے اختیار ہیں ۔سابق وزیر اعظم نے بلاتفریق ن لیگ کے ایم پی ایز کو فنڈز دیے لیکن انھوں نے پیپلزپارٹی کے کسی وزیر کو کچھ نہیں دیا۔جنوبی پنجاب میں اب ن لیگ کو امید وار نہیں ملنے کیونکہ عوام کا احساس محرومی بہت بڑھ چکا ہے ۔ ن لیگ کا کچھ کام عمران خان بھی خراب کرے گا ۔
سوئس قانون کے تحت پندرہ سال بعدکیس نہیں کھل سکتے اور ویسے بھی صدر کے خلاف ساٹھ ملین ڈالرکا کیس جھوٹا تھا ۔پنجاب میں اگلا وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا جیالا ہوگا۔شریف برادران کے رویے جمہوری نہیں ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پروگرام کل تک میں اینکر پرسن جاوید چوہدری سے گفتگو میں کیا ۔گورنر پنجاب نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہاہے کہ ملک قیوم کے لکھے ہوئے خط کو واپس لیں اور اس کو کالعدم قراردیں سپریم کورٹ نے بھی مانا ہے کہ آصف زرداری ہمارے بھی صدر ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ خط لکھنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صدر کے استثنیٰ کے بارے میں ہم اپنے فیصلے میں بھی لکھیں گے۔انھوںنے کہاکہ اگر بابر اعوان پیپلزپارٹی کے وفادار ہوتے تو خط کا معاملہ اتنی طوالت اختیار نہ کرتا، جس قدر پنجاب میں بری گورننس ن لیگ کے دور میں ہوئی ہے کبھی تاریخ میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ؟چند لوگوں کے سوا ن لیگ کے سارے وزرا بے اختیار ہیں ۔سابق وزیر اعظم نے بلاتفریق ن لیگ کے ایم پی ایز کو فنڈز دیے لیکن انھوں نے پیپلزپارٹی کے کسی وزیر کو کچھ نہیں دیا۔جنوبی پنجاب میں اب ن لیگ کو امید وار نہیں ملنے کیونکہ عوام کا احساس محرومی بہت بڑھ چکا ہے ۔ ن لیگ کا کچھ کام عمران خان بھی خراب کرے گا ۔