وقار یونس بھی ’’غیر ملکی‘‘ کوچ کا روپ دھارنے لگے
2 ماہ میں دوسری بار گھر کی یاد ستانے پر ٹیم کو چھوڑچھاڑ کر آسٹریلیا روانہ
کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینے کے بجائے میدان چھوڑنے پر تنقید۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
KARACHI:
وقار یونس بھی ''غیرملکی'' کوچ کا روپ دھارنے لگے، 2 ماہ میں دوسری بار گھر کی یاد ستانے پر ٹیم کو چھوڑ چھاڑ کر آسٹریلیا روانہ ہوگئے، وہ ایک ایسے وقت میں چھٹیوں پر گئے جب ٹیم کو فٹنس ٹیسٹ سمیت کئی اہم معاملات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وقار یونس نے بطور ہیڈ کوچ اپنی دوسری اننگز یکم جولائی کو شروع کرنے سے قبل ڈیو واٹمور کے برابر معاوضے سمیت اپنی زیادہ تر شرائط منوالی تھیں، قومی ٹیم کی سری لنکا روانگی سے قبل انھوں نے اچانک عید کی چھٹیوں میں آسٹریلیا کیلیے رخت سفر باندھ لیا، آئی لینڈرز کیخلاف ٹیم کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی، ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کی شرمندگی اٹھانا پڑی تو ون ڈے میں بھی 2-1 سے مات ہوئی،سابق فاسٹ بولر چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کو کافی سمجھتے ہوئے اپنے عہدے کی مدت میں دوسری بار آسٹریلیا روانہ ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ جاری ہیں، ان کی رپورٹ آسٹریلیا کیخلاف یو اے ای میں سیریز کیلیے اسکواڈ تشکیل دیتے ہوئے پیش نظر رکھی جائے گی، بعد ازاں سلیکشن کے معاملات بھی زیر غور آنے ہیں، دنیا بھر میں کوچز آف سیزن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرکے مستقبل کے پلان تشکیل دیتے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم کی ہر شعبے میں پرفارمنس پر سوالیہ نشان موجود ہے۔
اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کوچز گرانٹ فلاور اور گرانٹ لیوڈن بدستور ڈیوٹی پر موجود ہیں تو وقار یونس کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے تھی۔ ٹیم کمبی نیشن،بیٹنگ آرڈر اور بے جان پیس بیٹری جیسے اہم مسائل پر فیصلوں کیلیے زیادہ وقت باقی نہیں، سعید اجمل پر پابندی کی تلوار لٹک رہی ہے، ان کا متبادل تیار کرنے کیلیے پلاننگ کی بھی اشد ضرورت ہے، ہیڈ کوچ کو اپنے کردار سے انصاف کرنے کیلیے اپنے معاون اسٹاف کیساتھ موجود ہونا چاہیے تھا۔
وقار یونس بھی ''غیرملکی'' کوچ کا روپ دھارنے لگے، 2 ماہ میں دوسری بار گھر کی یاد ستانے پر ٹیم کو چھوڑ چھاڑ کر آسٹریلیا روانہ ہوگئے، وہ ایک ایسے وقت میں چھٹیوں پر گئے جب ٹیم کو فٹنس ٹیسٹ سمیت کئی اہم معاملات کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وقار یونس نے بطور ہیڈ کوچ اپنی دوسری اننگز یکم جولائی کو شروع کرنے سے قبل ڈیو واٹمور کے برابر معاوضے سمیت اپنی زیادہ تر شرائط منوالی تھیں، قومی ٹیم کی سری لنکا روانگی سے قبل انھوں نے اچانک عید کی چھٹیوں میں آسٹریلیا کیلیے رخت سفر باندھ لیا، آئی لینڈرز کیخلاف ٹیم کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی، ٹیسٹ سیریز میں کلین سویپ کی شرمندگی اٹھانا پڑی تو ون ڈے میں بھی 2-1 سے مات ہوئی،سابق فاسٹ بولر چیئرمین پی سی بی سے ملاقات کو کافی سمجھتے ہوئے اپنے عہدے کی مدت میں دوسری بار آسٹریلیا روانہ ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں قومی کرکٹرز کے فٹنس ٹیسٹ جاری ہیں، ان کی رپورٹ آسٹریلیا کیخلاف یو اے ای میں سیریز کیلیے اسکواڈ تشکیل دیتے ہوئے پیش نظر رکھی جائے گی، بعد ازاں سلیکشن کے معاملات بھی زیر غور آنے ہیں، دنیا بھر میں کوچز آف سیزن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کرکے مستقبل کے پلان تشکیل دیتے ہیں، قومی کرکٹ ٹیم کی ہر شعبے میں پرفارمنس پر سوالیہ نشان موجود ہے۔
اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی کوچز گرانٹ فلاور اور گرانٹ لیوڈن بدستور ڈیوٹی پر موجود ہیں تو وقار یونس کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینا چاہیے تھی۔ ٹیم کمبی نیشن،بیٹنگ آرڈر اور بے جان پیس بیٹری جیسے اہم مسائل پر فیصلوں کیلیے زیادہ وقت باقی نہیں، سعید اجمل پر پابندی کی تلوار لٹک رہی ہے، ان کا متبادل تیار کرنے کیلیے پلاننگ کی بھی اشد ضرورت ہے، ہیڈ کوچ کو اپنے کردار سے انصاف کرنے کیلیے اپنے معاون اسٹاف کیساتھ موجود ہونا چاہیے تھا۔