سیاسی محاذ آرائی کراچی اسٹاک ایکسچینج کو 138 ارب کا نقصان

اقتدار کیلیے معیشت کو ذبح کرنا ٹھیک نہیں، خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑے گا، چیئرمین آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن

اقتدار کیلیے معیشت کو ذبح کرنا ٹھیک نہیں، خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑے گا، رانا اخلاق، چوہدری نواز۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن کے سابق چیئر مین رانا اخلاق احمداور سابق وائس چیئرمین چوہدری محمد نواز نے ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکسچینج کو ہونے والے ایک کھرب 38 ارب کے نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقتدار کے لیے معیشت کو ذبح کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ترک کردیں۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج کو ہونے والے نقصان کی ذمے داری بھی کوئی سیاسی جماعت قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اتوار کو اپنے مشترکہ بیان میں انہوںنے کہا کہ گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے مگر توقع تھی کہ پر امن انتقال اقتدار کے بعد سیاسی محاذ آرائی ختم ہو جائے گی اور آئندہ 5 سال صرف ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کا موقع مل سکے گا۔ مگر بد قسمتی سے اس کے فوراً بعد سیاسی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کرنے شروع کر دیے جن سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔


انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی قوتیں اقتدار کی رسہ کشی میں ملکی معیشت کو ذبح کر رہی ہیں اور اس کے باوجود ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام دوست ہیں اور عوام کے مفادات کے لیے جد و جہد کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کو ہونے والے نقصان کی ذمے داری بھی کوئی سیاسی جماعت قبول کرنے کو تیار نہیں مگر عوام کو سمجھنا چاہیے کہ مڈٹرم الیکشن جیسے مطالبات سے صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ملک سے غربت جہالت اور بے روزگاری کا خاتمہ تو درکنار آنے والے مہینوں اور سالوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کی سزا براہ راست پاکستان کے عوام کو بھگتنا پڑے گی۔
Load Next Story