معروف شاعر سرشار صدیقی شدید علالت کے بعد انتقال کرگئے
سرشارصدیقی کی شاعری کے 8مجموعے 5 نثری کتابیں بھی شائع ہوئیں ہیں ۔
حکومت پاکستان نے سرشار صدیقی کو ان کی ادبی خدمات پر 2011میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
معروف شاعر سرشار صدیقی طویل علالت کے بعد 88 برس کی عمرمیں اتوارکے روزانتقال کرگئے۔
سرشار صدیقی 1926کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کرکے کراچیمیں مستقل سکونت اختیا کی۔ سرشار صدیقی منفردلب و لہجے اور شعری اسلوب کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے۔ مرحوم نے دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ سرشارصدیقی کی شاعری کے 8مجموعے منظر عام پرآئے جبکہ 5نثری کتابیں بھی شائع ہوئیں۔
مرحوم کو حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات پر 2011میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ مرحوم سرشارصدیقی نے سوگواران میں ایک بیٹااور بیوہ کوچھوڑا ہے۔ اتوارکی شب گلستان جوہرمیں مرحوم کی نماز جنازہ اداکی گئی جس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے نائب صدر محمود احمدخان، اقبال لطیف، رسا چغتائی ، انور شعور، پروفیسرانوار احمدزئی، پروفیسر اوج کمال سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
معروف شاعر سرشار صدیقی طویل علالت کے بعد 88 برس کی عمرمیں اتوارکے روزانتقال کرگئے۔
سرشار صدیقی 1926کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت سے ہجرت کرکے کراچیمیں مستقل سکونت اختیا کی۔ سرشار صدیقی منفردلب و لہجے اور شعری اسلوب کی وجہ سے الگ شناخت رکھتے تھے۔ مرحوم نے دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ سرشارصدیقی کی شاعری کے 8مجموعے منظر عام پرآئے جبکہ 5نثری کتابیں بھی شائع ہوئیں۔
مرحوم کو حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات پر 2011میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔ مرحوم سرشارصدیقی نے سوگواران میں ایک بیٹااور بیوہ کوچھوڑا ہے۔ اتوارکی شب گلستان جوہرمیں مرحوم کی نماز جنازہ اداکی گئی جس میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے نائب صدر محمود احمدخان، اقبال لطیف، رسا چغتائی ، انور شعور، پروفیسرانوار احمدزئی، پروفیسر اوج کمال سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔