ملک میں سیاسی استحکام آگیا انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں وزیراعظم
چین کیساتھ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ اورشاندارتعلقات پرفخرہے،ترقیاتی منصوبوںمیںمعاونت پرشکر گزار ہیں،چینی وفد سے گفتگو
اسلام آباد:وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے پرائم منسٹر ہائوس میں چین کا فوجی وفد ملاقات کررہا ہے۔ فوٹو: اے پی پی
وزیراعظم راجاپرویزاشرف نے کہاہے کہ ہمیں چین کے ساتھ اپنے شاندار تعلقات پر فخرہے جس کے ساتھ ہماری اسٹرٹیجک شراکت داری ہے۔
چین کے ساتھ علاقائی اوربین الاقوامی سطح پر تعاون مثالی ہے ۔ وہ چین کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ایم اے ژائوشن کی قیادت میں 6رکنی وفد گفتگو کررہے تھے جنھوں نے وزیراعظم ہائوس میں ان سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑی اہمیت دیتاہے جو مشکل کی ہرگھڑی میں پورا اترتے ہیں ،ہم اپنے چینی دوستوں کا پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوںمیں تعاون پرشکریہ اداکرتے ہیں ۔ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے ،ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیںگے ۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی صورتحال مستحکم ہے اورہم انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں ،پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام جڑیں پکڑ رہاہے ۔ اس موقع پر چینی جنرل نے چین کے وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات کاپیغام پہنچایا اورانھیں کامیاب دورہ چین کی مبارکباد دی ۔ انھوںنے کہاکہ چین اورپاکستان کے درمیان دوستی کی دفاعی اہمیت ہے ،یہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور گہری ہوتی جائے گی ۔ ادھر وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے 47 ویں اجلاس کی صدارت کی جس میں کونسل کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر پرویز اشرف نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے حتمی حل کیلیے سازگارماحول پیدا کیا جائے،پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کیلیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کیلیے کشمیریوں کی جائز جدوجہد میں ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے حتمی حل کیلیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے بجٹ کی منظوری اور آزاد کشمیر کے عوام کو یوم عشق رسول ؐ پر امن طور پر منانے پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر جنرل اسمبلی میں توہین آمیز فلم کے مسئلے کو بھی اٹھائیں گے، پاکستان مناسب قانون سازی کی منظوری چاہتا ہے جس کے تحت پیغمبر یا دیگر مذاہب کے مذہبی رہنمائوں کی توہین پر سزا ہو۔ آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم نے گورنر سندھ کو ٹیلیفون کر کے ایم کیو ایم کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
چین کے ساتھ علاقائی اوربین الاقوامی سطح پر تعاون مثالی ہے ۔ وہ چین کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ایم اے ژائوشن کی قیادت میں 6رکنی وفد گفتگو کررہے تھے جنھوں نے وزیراعظم ہائوس میں ان سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کوبڑی اہمیت دیتاہے جو مشکل کی ہرگھڑی میں پورا اترتے ہیں ،ہم اپنے چینی دوستوں کا پاکستان میں جاری ترقیاتی منصوبوںمیں تعاون پرشکریہ اداکرتے ہیں ۔ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے ،ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیںگے ۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی صورتحال مستحکم ہے اورہم انتخابات کی جانب بڑھ رہے ہیں ،پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام جڑیں پکڑ رہاہے ۔ اس موقع پر چینی جنرل نے چین کے وزیراعظم کی جانب سے نیک خواہشات کاپیغام پہنچایا اورانھیں کامیاب دورہ چین کی مبارکباد دی ۔ انھوںنے کہاکہ چین اورپاکستان کے درمیان دوستی کی دفاعی اہمیت ہے ،یہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور گہری ہوتی جائے گی ۔ ادھر وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے 47 ویں اجلاس کی صدارت کی جس میں کونسل کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر پرویز اشرف نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے حتمی حل کیلیے سازگارماحول پیدا کیا جائے،پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کیلیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انھوں نے کہا کہ حق خود ارادیت کیلیے کشمیریوں کی جائز جدوجہد میں ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔
انھوں نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کے حتمی حل کیلیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنانا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے بجٹ کی منظوری اور آزاد کشمیر کے عوام کو یوم عشق رسول ؐ پر امن طور پر منانے پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر جنرل اسمبلی میں توہین آمیز فلم کے مسئلے کو بھی اٹھائیں گے، پاکستان مناسب قانون سازی کی منظوری چاہتا ہے جس کے تحت پیغمبر یا دیگر مذاہب کے مذہبی رہنمائوں کی توہین پر سزا ہو۔ آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم نے گورنر سندھ کو ٹیلیفون کر کے ایم کیو ایم کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔