پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد افراد خودکشی کرنے لگے
زیادہ تر واقعات سندھ اور پنجاب میں پیش آتے ہیں، ملتان خودکشیوں میں سرفہرست
پاکستان سمیت دنیا بھر میں خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا گیا، سیمینارز کا انعقاد۔ فوٹو: فائل
پاکستان سمیت دنیا بھر میں خودکشی کی روک تھام کاعالمی دن منایا گیا، دن منانے کا مقصد خودکشی کے واقعات کی روک تھام کیلیے عوامی شعوراجاگر کرنا ہے۔
اس موقع پر کراچی کے بعض اسپتالوں کے نفیساتی یونٹ میں سیمینارز کا اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے خودکشی کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر زور دیا، ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں ہر سال 10 لاکھ لوگ خودکشی کرتے ہیں بعض ممالک میں خودکشی کے واقعات حادثات میں مرنیوالوں سے بڑھ جاتے ہیں دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں 15 سے 44 سال کی عمر کے لوگوں کی زیادہ تعداد شامل ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد لوگ خودکشی کرتے ہیں جبکہ 3 ہزار سے زائد لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں، پاکستان میں خودکشی کے زیادہ واقعات سندھ اور پنجاب میں ہوتے ہیں، جنوبی پنجاب میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات ملتان میں پیش آتے ہیں، ہمارے معاشرے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی لاتعداد وجوہات ہیں جن میں غربت بے روزگاری گھریلو چپقلش خوف ناانصافی، حساس طبیعت اور ذہنی عدم توازن سرفہرست ہیں۔
اس موقع پر کراچی کے بعض اسپتالوں کے نفیساتی یونٹ میں سیمینارز کا اہتمام کیا گیا جس میں مقررین نے خودکشی کے خلاف عوام میں شعور بیدار کرنے کی اہمیت پر زور دیا، ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں ہر سال 10 لاکھ لوگ خودکشی کرتے ہیں بعض ممالک میں خودکشی کے واقعات حادثات میں مرنیوالوں سے بڑھ جاتے ہیں دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں 15 سے 44 سال کی عمر کے لوگوں کی زیادہ تعداد شامل ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد لوگ خودکشی کرتے ہیں جبکہ 3 ہزار سے زائد لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں، پاکستان میں خودکشی کے زیادہ واقعات سندھ اور پنجاب میں ہوتے ہیں، جنوبی پنجاب میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات ملتان میں پیش آتے ہیں، ہمارے معاشرے میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی لاتعداد وجوہات ہیں جن میں غربت بے روزگاری گھریلو چپقلش خوف ناانصافی، حساس طبیعت اور ذہنی عدم توازن سرفہرست ہیں۔