سیلاب پر سراسیمگی کیسی

ملک ایک بار پھر طوفانی بارش اور سیلاب کی اندوہناک صورتحال سے دوچار ہے۔

ملک ایک بار پھر طوفانی بارش اور سیلاب کی اندوہناک صورتحال سے دوچار ہے۔۔ فوٹو: ایکسپریس

ملک ایک بار پھر طوفانی بارش اور سیلاب کی اندوہناک صورتحال سے دوچار ہے۔ آبی وسائل کے تحفظ، سیلاب کی روک تھام، اور اس کے متاثرین کی بر وقت امداد و بحالی میں حائل ہونے والی مشکلات کے مستقل خاتمہ کا کوئی نظام اچھی حکمرانی کے نصیب میں نہیں آیا، ہر آتے سیلاب میں سراسیمہ انتظامیہ، بے نیاز کابینہ اور غیر ملکی امداد کے انتظار کی تصویر سامنے آ جاتی ہے، بدقسمتی سے اس بار بھی کسی کو یاد نہیں آیا کہ پچھلے سیلابوں نے ملک کو کتنا جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا، اس کی شدت میں کمی کے لیے کس حکمران نے کیا اقدامات کیے۔

حقیقت میں کوئی ٹھوس بریک تھرو کسی حکمران کی طرف سے نہیں ہوا، چاہے جمہوری دور ہو یا آمریت کی ظلمت افروزی۔ بعد از سیلاب پورا دورانیہ متاثرہ اہل وطن کی دربدری، غربت و افلاس، بے بسی اور پریشاں حالی میں ہی گزرتا رہا۔ قحط، وبائی بیماریوں، فصلوں کی تباہی اور گھروں میں سیلابی پانی کی نکاسی کا خیال ہی خانماں بربادوں کے کلیجے چیر لیتا تھا۔ آخر 67 برسوں میں کچھ تو بدل جاتا۔ افسوس اس بار بھی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری رہیں، صوبائی حکومت نے21 اضلاع میں ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی ہے۔ دریائے چناب کا سیلابی ریلا ہیڈ تریموں کی طرف بڑھنے سے جھنگ اور چنیوٹ شہر کو خطرات لاحق ہو گئے، ادھر دریائے سندھ میں متوقع سیلابی ریلوں کے پیش نظر خان پور کے نواحی علاقے چاچڑاں شریف میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، دریائے سندھ کے بیٹ کے علاقے میں زمینی کٹاؤ کے باعث ڈیرہ غازی خان میں ہزاروں ایکڑ زمین دریا برد ہو گئی اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں سے8 لاکھ افراد کے انخلا جب کہ 17 اضلاع میں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی ہے، دریائے سندھ کے بائیں اور دائیں جانب حفاظتی بندوں پر45 مقامات کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں ممکنہ سیلابی خطرے کے پیش نظر نصیر آباد اور جعفر آباد سمیت چار اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

ادھر لاہور میں ایک اور سانحہ پیش آیا جس میں داروغہ والا میں واقع مسجد جامع حنفیہ کے برآمدے کی دو منزلہ چھت گرنے سے 35 سے زائد نمازی ملبے تلے دب گئے جن میں بچوں سمیت 24 افراد جاں بحق ہو گئے، امام مسجد سمیت 11 افراد کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا ہے، وہاڑی ڈسٹرکٹ اسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے 4 نومولود جاں بحق ہو گئے۔ ڈاکٹر اور نرس کو معطل کر دیا گیا۔ اسی طرح ملک بھر میں جرائم کا جہنم بدستور سلگتا رہا، دھرنے جاری ہیں، حکومت مذاکرات کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے، نظم حکمرانی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

بلاشبہ بارشیں اور سیلابی ریلے تباہیوں کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اپنے وقت پر گزر جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ متاثرین کا کیا ہو گا اور کب سیلاب کو قابو کرنے کی جدید ترین منصوبہ بندی ہو گی، مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کی بقول مولانا ظفر علی خان ''ہے داستان دراز بھی اور دل گداز بھی، لیکن کہاں وہ دل کہ دیا جائے اس کو طول۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے نابلد، سیلاب کو قابو کرنے کی حکمت عملی سے بے نیاز اور متاثرین سیلاب کی آبادکاری، امداد و مستقل بحالی کے دعوؤں کی دردناک کہانیاں اور مناظر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ کا حصہ ہیں، فلڈ کمیشن 2010ء کی رپورٹ پر عمل تو نہ ہو سکا جب کہ ذمے داروں کو سزا کے بجائے ترقیاں مل گئیں۔


اب جو رپورٹ تیار ہوگی وہ نہ معلوم شرمندہ عملدرآمد ہوگی بھی یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس سارے المیہ میں بات حکومتی ترجیحات، سیلاب و قدرتی آفات سے بچاؤ کی طویل المیعاد منصوبہ بندی اور خلوص نیت سے جامع پالیسیوں پر مکمل عمل کرنے کی ہے، ہر سیلاب ہمارے حکمرانوں کے ہوش اڑاتا چلا جاتا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں صوبہ پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد131 سے بڑھ کر 156 تک پہنچ گئی ہے جب کہ صوبے میں پانچ لاکھ 51 ہزار 159 افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرین کی تعداد 7 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد 64 اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض نے کہا ہے کہ شدید بارشوں کے بارے میں جولائی میں ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، پنجاب حکومت نے وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سیلاب اور بارشوں کے باعث پھلوں' سبزیوں' اجناس کی ترسیل میں کمی آ گئی ہے جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ سیلاب کا تحفہ ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے چھوڑ کر متاثرین سیلاب کی مدد کر کے ثواب حاصل کریں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور متاثرین کی مشکلات کے ازالہ کے لیے حکومت پنجاب پوری طرح متحرک ہے۔ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کی امداد کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی، سیلاب زدگان کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

پاکستان نیوی نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع سیالکوٹ اور جھنگ میں فلڈ ریلیف آپریشن کا آغاز کیا۔ فلڈ ریلیف ٹیمیں ماہرین اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ضرورت ان ملکوں کے تجربات سے کچھ سیکھنے کی ہے جو سمندری ریت کی قوسی دیواروں اور 28 ملین والے بلند کیوبک یارڈ سے طوفانی سمندری لہروں کو روکنے اور واپس جانے کے ''سینڈ انجن'' منصوبے بنا رہے ہیں۔ جمہوریت و آمریت دونوں حکومتی ادوار سیلاب دوست ثابت ہوئے۔

کسی نے ''بند باندھنے'' کی قومی ذمے داری نہیں نبھائی، آبی ذخائر نہیں بنائے، تاہم متاثرین کے لیے مگر مچھ کے محض آنسو اگر اسی طرح بہائے جاتے رہے کہ اس سے خود ایک آبی ذخیرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ اس مجرمانہ غفلت کا وطن عزیز اب متحمل نہیں ہو سکتا۔ فلڈ کنٹرول پر توجہ کی ضرورت ہے۔ متاثرین سیلاب کی امداد و بحالی کے لیے ہر شخص کو آگے بڑھنا چاہیے۔
Load Next Story