بھارت کو بلاتفریق مارکیٹ رسائی دینے کا معاملہ ختم نہیں ہوا خرم دستگیر
این ڈی ایم اے التوا کا شکار ہے،’عالیشان پاکستان‘ آج نئی دہلی میں شروع ہوگی،بھارتی منڈیوں تک رسائی سے۔۔۔، وزیر تجارت
اسلام آباد: وزیرتجارت خرم دستگیر ’عالیشان پاکستان‘ نمائش کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی
BRUSSELS:
وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور اکنامک ڈپلومیسی کو دھرنوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔
بھارت کے ساتھ بلاتفریق مارکیٹ تک رسائی(این ڈی ایم اے) کا معاملہ ختم نہیں ہوا البتہ تاخیر کا شکار ہے اور اس بارے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، 4 روزہ 'عالیشان پاکستان' لائف اسٹائل ایگزیبیشن جمعرات سے نئی دہلی میں شروع ہوگی۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیراہتمام بھارت میں ہونے والی اس نمائش کے بارے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کرنا چاہتا ہے، بھارت کی تجارتی منڈیوں تک کامیاب رسائی کے ذریعے پاکستان میں ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کے بعد بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی پاکستانی مصنوعات کی نمائشیں منعقد کرائی جائیں گی، جمعرات کو شروع ہونے والی نمائش میں پاکستان سے 150 سے زائد برانڈ اور کمپنیاں 320 اسٹالز پر اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنوں سے ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے صنعتی نمائش کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے مگر وزارت بند ہونے کے باوجود ہم نے نمائش کے انتظامات مکمل کیے۔
انھوں نے بتایا کہ وزارت تجارت سمیت اس کے ذیلی اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کرنا ہے مگر سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور حکومت کے اہم اصلاحی ایجنڈے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد پاکستانی مصنوعات کو بھارت کی 60 کروڑ کی مڈل کلاس آبادی تک رسائی دینا ہے ،پاکستان نے مشرق، مغرب اور شمال میں واقع تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہے۔
بھارت میں ہونے والی اس نمائش کے لیے بڑے پیمانے پر لوگوں نے شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اسٹالز کیلیے ہال کم پڑگیا ہے جس کے باعث بہت سے مینوفیکچررز سے معذرت کی گئی، 12 ستمبر کو اسی نمائش کے تحت بھارت میں بزنس سیمینار بھی منعقد ہوگا جس میں بھارت کے بڑے سرمایہ کار، صنعت کار اور تاجر شرکت کریں گے جبکہ نمائش کے مواقع پر پاکستانی و بھارتی تاجروں کے درمیان ایم او یوز پر بھی دستخط ہوں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستان میں قائم بھارتی ہائی کمشنر بھی متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے نمائش میں شرکت کیلیے جانے والے مینوفیکچررز کے ویزوں میں کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستانی مصنوعات کیلیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی، سیاسی عدم استحکام سے ممالک کی اقتصادی گروتھ کو نقصان پہنچتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کے ذمے واجب الادا غیر ملکی قرضہ میں ڈھائی سو ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹ کے متاثر ہونے سے بھی ڈھائی سو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات اہم مرحلے پر ہیں، ایران کے ساتھ تجارت کوفروغ دینے کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ چینل سے ادائیگیوں کیلیے نیا مالیاتی نظام سسٹم تیار کررہا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور اکنامک ڈپلومیسی کو دھرنوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔
بھارت کے ساتھ بلاتفریق مارکیٹ تک رسائی(این ڈی ایم اے) کا معاملہ ختم نہیں ہوا البتہ تاخیر کا شکار ہے اور اس بارے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، 4 روزہ 'عالیشان پاکستان' لائف اسٹائل ایگزیبیشن جمعرات سے نئی دہلی میں شروع ہوگی۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیراہتمام بھارت میں ہونے والی اس نمائش کے بارے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کرنا چاہتا ہے، بھارت کی تجارتی منڈیوں تک کامیاب رسائی کے ذریعے پاکستان میں ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی کے بعد بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی پاکستانی مصنوعات کی نمائشیں منعقد کرائی جائیں گی، جمعرات کو شروع ہونے والی نمائش میں پاکستان سے 150 سے زائد برانڈ اور کمپنیاں 320 اسٹالز پر اپنی مصنوعات کی نمائش کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ دھرنوں سے ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام سے صنعتی نمائش کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے مگر وزارت بند ہونے کے باوجود ہم نے نمائش کے انتظامات مکمل کیے۔
انھوں نے بتایا کہ وزارت تجارت سمیت اس کے ذیلی اداروں کی ری اسٹرکچرنگ کرنا ہے مگر سیاسی عدم استحکام سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے اور حکومت کے اہم اصلاحی ایجنڈے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کہ اس نمائش کا بنیادی مقصد پاکستانی مصنوعات کو بھارت کی 60 کروڑ کی مڈل کلاس آبادی تک رسائی دینا ہے ،پاکستان نے مشرق، مغرب اور شمال میں واقع تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہے۔
بھارت میں ہونے والی اس نمائش کے لیے بڑے پیمانے پر لوگوں نے شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اسٹالز کیلیے ہال کم پڑگیا ہے جس کے باعث بہت سے مینوفیکچررز سے معذرت کی گئی، 12 ستمبر کو اسی نمائش کے تحت بھارت میں بزنس سیمینار بھی منعقد ہوگا جس میں بھارت کے بڑے سرمایہ کار، صنعت کار اور تاجر شرکت کریں گے جبکہ نمائش کے مواقع پر پاکستانی و بھارتی تاجروں کے درمیان ایم او یوز پر بھی دستخط ہوں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ دھرنوں کی وجہ سے پاکستان میں قائم بھارتی ہائی کمشنر بھی متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے نمائش میں شرکت کیلیے جانے والے مینوفیکچررز کے ویزوں میں کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستانی مصنوعات کیلیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی، سیاسی عدم استحکام سے ممالک کی اقتصادی گروتھ کو نقصان پہنچتا ہے اور روپے کی قدر میں کمی سے پاکستان کے ذمے واجب الادا غیر ملکی قرضہ میں ڈھائی سو ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹ کے متاثر ہونے سے بھی ڈھائی سو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات اہم مرحلے پر ہیں، ایران کے ساتھ تجارت کوفروغ دینے کیلیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ چینل سے ادائیگیوں کیلیے نیا مالیاتی نظام سسٹم تیار کررہا ہے۔