ای سی ایل میں نام ڈالنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک نے نادہندگان اور دھوکے بازوں کی فہرست مانگ لی
عدالتی فیصلے کی روشنی میں نظر ثانی شدہ پالیسی مرتب،2001اور2012کی ہدایات واپس لے لی گئیں
فہرست30روزمیں ارسال کی جائیں،بینکوں کوہدایت،خلاف ورزی پرتادیبی کارروائی ہوگی، سرکلرجاری ۔ فوٹو: فائل
لاہور:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک نادہندگان اور دھوکا دہی کے مرتکب افرادکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے بینکوں سے اپ ڈیٹ فہرست طلب کرلی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کوبینکوں کے لیے جاری کردہ بینکنگ پالیسی ریگولیٹری ڈپارٹمنٹ سرکلر نمبر9کے مطابق بینک نادہندگان اور دھوکا دہی کے مرتکب افرادکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے نظرثانی شدہ پالیسی مرتب کی گئی ہے۔یہ پالیسی لاہورہائی کورٹ میں پٹیشن نمبر 6003/2010 پر دیے گئے 29جولائی 2010کے فیصلے کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینک ڈیفالٹرزکے نام ای سی ایل مین ڈالنے کے لیے7دسمبر 2001اور 12مئی 2010کو جاری کردہ ہدایات واپس لے لی گئی ہیں۔
بینکوں کوہدایت کی گئی ہے کہ بینک ڈیفالٹرز اور دھوکا دہی کے مرتکب افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے فہرست 30روزمیں اسٹیٹ بینک کوارسال کی جائے خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کو تادیبی کارروائی کا سامنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی سابقہ ہدایات کی رو سے 10ملین روپے اور اس سے زائد کے ڈیفالٹرز اوردھوکا دہی کے معاملات میں ملوث افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جاسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینک نادہندگان اور دھوکا دہی کے مرتکب افرادکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے بینکوں سے اپ ڈیٹ فہرست طلب کرلی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کوبینکوں کے لیے جاری کردہ بینکنگ پالیسی ریگولیٹری ڈپارٹمنٹ سرکلر نمبر9کے مطابق بینک نادہندگان اور دھوکا دہی کے مرتکب افرادکے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے نظرثانی شدہ پالیسی مرتب کی گئی ہے۔یہ پالیسی لاہورہائی کورٹ میں پٹیشن نمبر 6003/2010 پر دیے گئے 29جولائی 2010کے فیصلے کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینک ڈیفالٹرزکے نام ای سی ایل مین ڈالنے کے لیے7دسمبر 2001اور 12مئی 2010کو جاری کردہ ہدایات واپس لے لی گئی ہیں۔
بینکوں کوہدایت کی گئی ہے کہ بینک ڈیفالٹرز اور دھوکا دہی کے مرتکب افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے فہرست 30روزمیں اسٹیٹ بینک کوارسال کی جائے خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کو تادیبی کارروائی کا سامنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کی سابقہ ہدایات کی رو سے 10ملین روپے اور اس سے زائد کے ڈیفالٹرز اوردھوکا دہی کے معاملات میں ملوث افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جاسکتے ہیں۔