کراچی اور باجوڑ میں الم ناک واقعات

لیاری میں جہاں کچھ عرصے سے ٹھہراؤ تھا ایک بار پھر شورش زور پکڑ رہی ہے...

لیاری میں جہاں کچھ عرصے سے ٹھہراؤ تھا ایک بار پھر شورش زور پکڑ رہی ہے، پولیس۔ فوٹو: فائل

KARACHI/LAHORE:
دشمنان ملک و ملت ملک کے نازک حالات سے فائدہ اٹھا کر ایک مرتبہ پھر مذموم سازشوں میں مصروف ہوچکے ہیں، ایک طرف احتجاج اور دھرنوں کی سیاست ہے تو دوسری طرف سیلاب کی تباہ کاریوں سے قوم صدمے سے دوچار ہے ۔ گزشتہ روز باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند میں پولیو مہم کے تیسرے روز انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار جاں بحق ہوگیا۔

پاکستان کے مستقبل کو معذور اور اپاہج ہونے سے بچانے کے لیے جو مسیحا میدان عمل میں ہیں ان پر دشمنان قوم کے حملے ایک عرصے سے جاری ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہماری آیندہ نسلیں صحت مند اور اس قدر طاقت ور ہوں کہ ان کی شرانگیزی کا مقابلہ کرسکیں۔ اسی طرز فکر کے تحت ملک کے ایک حصے میں پولیو مہم کے خلاف نہ صرف مسلح کارروائیاں ہورہی ہیں بلکہ فرسودہ مائنڈ سیٹ رکھنے والے سادہ لوح عوام کے مذہبی رجحانات کو بھڑکا کر پولیو مہم کے خلاف اکسا رہے ہیں ۔ ان ہی شرانگیزیوں کے باعث خاص کر صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو مہم کو نہ صرف سختی سے نقصان پہنچایا گیا بلکہ عوام بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے گریزاں رہے۔ نتیجتاً پشاور میں ایک ہی دن میں پولیو کے مزید 5 کیس سامنے آئے۔ ملک بھر میں پولیو سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 143 جب کہ فاٹا میں 104 ہوگئی ہے۔

ذرایع کے مطابق اب تک فاٹا سے 104، خیبر پختونخوا سے 25، سندھ سے 11، پنجاب سے ایک اور بلوچستان سے 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان عاقبت نااندیشوں کے خلاف حکومت وقت کے ساتھ عوام کو بھی میدان عمل میں آنا ہوگا۔ دوسری جانب ملک کے معاشی ہب کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غاری گری کے واقعات میں گزشتہ روز 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ بدھ کو جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کے داماد مولانا مسعود بیگ کو ٹارگٹ کلرز نے نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی کے قریب فائرنگ کرکے شہید کردیا جب کہ ایک اور واقعے میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدرعباس رضوی کے کوآرڈینیٹر سلمان کاظمی کو قتل کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ ہفتہ کی شام ممتاز شیعہ عالم دین عباس کمیلی کے صاحبزادے کو بھی شہید کردیا گیا تھا جس کے بعد سے شہر کے حالات کشیدہ چلے آرہے ہیں ۔


واقعے کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی نے حسب روایت ایس ایچ او حیدری سب انسپکٹر ندیم تنولی کو معطل کرکے ان کے عہدے میں ایک درجہ تنزلی کردی ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مولانا مسعود کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ مولانا مسعود کے قتل میں ملوث دہشتگردوںکوفوری گرفتارکرکے قرار واقعی سزا دی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مولانا مسعود کے قتل کا واقعہ شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کی سازش ہے ۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے، انھوں نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور بلاتفریق و دباؤ کارروائی کرکے ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے، گورنرسندھ نے مفتی نعیم سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

بعدازاں مولانا مسعود بیگ کی سائٹ جامعہ بنوریہ قبرستان میں تدفین کردی گئی جہاں مفی نعیم نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مدارس دینیہ کے علماء و طلبا کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کے باوجود ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے ۔ روایتی طور پر ٹارگٹ کلنگ اور دیگر وارداتوں کے سدباب کے لیے حکومت کا نزلہ ایک بار پھر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر گرا اور محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ کے پیش نظر کراچی میں 10 روز کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ، پابندی کے اس فیصلے کو شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ واضح رہے منی پاکستان میں قتل وغارت کی حالیہ لہر فرقہ وارانہ اور مذہبی کشیدگی پھیلانے کی مذموم سازش ہے ، اخبارات کے صفحات گواہ ہیں کہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے 2012-13 ء دہشت ناک سال قرار پائے تھے، 2012 ء میں2095 جب کہ2013 ء میں3200 افراد لقمہ اجل بنا دیے گئے جب کہ غیر ملکی میڈیا مسلسل اس چیز کا پرچار کرتا رہا کہ کراچی شہر سیاسی اعتبار سے اب کسی کا نہیں بلکہ مافیاز کی تحویل میں چلا گیا ہے، ایک اخبار نے لکھا کہ کراچی سماجی، ثقافتی اور مسلکی سرگرمیوں کے حوالے سے ''نائٹ میئر'' یعنی ڈراؤنے خواب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے ۔

کراچی کے دیگر علاقوں کورنگی عوامی کالونی، اورنگی، شریف آباد ایف سی ایریا، پاک کالونی، خدا کی بستی اور لیاری میں مختلف واقعات میں 10 افراد کو قتل کردیا گیا۔ لیاری میں جہاں کچھ عرصے سے ٹھہراؤ تھا ایک بار پھر شورش زور پکڑ رہی ہے، تین چار لاشوں کا روز گرنا معمول ہے۔ مجموعی طور پر کراچی شہر میں دس سے پندرہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتی میں مزاحمت پر ہلاکت معمول بن چکی ہے۔ خلق خدا کو ہر جانب سے ستایا جارہا ہے۔ پاکستان تاریخ کے نازک موڑ پر ہے، خدارا سیاستدان اپنی سیاست کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ملک وقوم کے لیے کچھ کریں ، قوم بھی اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھے تاکہ دشمن ہماری کمزوریوں کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔
Load Next Story