نوازشریف سے فضل الرحمن کی ملاقات استعفے منظورکرنے کامشورہ
استعفوں اور تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے سیاسی بحران بڑھ سکتاہے، وزیراعظم کا جواب
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے قانونی راستے استعمال کئے جائیں، فضل الرحمٰن۔ فوٹو : فائل
وزیراعظم نوازشریف کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ایک بار پھر قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرانے پر رضا مند نہ کر سکے۔
مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے قانونی راستے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم نوا زشریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دھرنوں اورسیلاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کے دوران کہا کہ حکومت نے بہت زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دھرنے دینے والے آسانی سے یہاں سے چلے جائیں گے تو یہ خام خیالی ہوگی اس کے لیے قانونی راستے اختیار کرنا پڑیں گے۔
تاہم وزیراعظم نے ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمن نے ملاقات میں وزیر اعظم پر زور دیا کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے فوری طورپر منظور کیے جائیں، اسپیکر استعفے منظورکرکے معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کریں، خیبر پختونخوا میں بھی وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ن لیگ ساری جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے کامیاب کرائے تاہم وزیراعظم نے ان کی اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ استعفوں اور تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوسکتاہے۔
مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے قانونی راستے استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ جمعرات کو وزیر اعظم نوا زشریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دھرنوں اورسیلاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کے دوران کہا کہ حکومت نے بہت زیادہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ دھرنے دینے والے آسانی سے یہاں سے چلے جائیں گے تو یہ خام خیالی ہوگی اس کے لیے قانونی راستے اختیار کرنا پڑیں گے۔
تاہم وزیراعظم نے ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق مولانافضل الرحمن نے ملاقات میں وزیر اعظم پر زور دیا کہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے فوری طورپر منظور کیے جائیں، اسپیکر استعفے منظورکرکے معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کریں، خیبر پختونخوا میں بھی وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ن لیگ ساری جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے کامیاب کرائے تاہم وزیراعظم نے ان کی اس بات سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ استعفوں اور تحریک عدم اعتماد کی منظوری سے سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوسکتاہے۔