مقبوضہ کشمیرمیں قابض حکومت کی نااہلی پرسیلاب متاثرین کا امدادی ٹیموں پرپتھراؤ

امدادی ٹیموں نے فوج سے مدد طلب کرلی، متاثرہ افراد مایوس ہیں تاہم امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی، فوجی حکام

سری نگر میں متعدد گھر اور اسپتال زیر آب، ایئرپورٹ کا راستہ بند، ڈل جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. فوٹو؛ فائل

مقبوضہ کشمیر میں آنے والے سیلاب کے بعد کٹھ پتلی حکومت اور بھارت کی جانب سے اس بحران کو حل کرنے میں سستی کا مظاہرہ کرنے پر مقامی افراد میں غصہ بڑھ گیا اور انھوں نے امدادی ٹیموں پر پتھراؤ کر دیا۔


غیر ملکی ایجنسی کی رپور ٹ کے مطابق سیلاب کے متاثرہ افرادکی جانب سے امدادی ٹیموں پر پتھراؤ کے بعد ان ٹیموں نے اپنی مدد کے لیے فوج کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست کردی۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ افراد نے سپاہیوں پر پتھراؤ کیا تاہم فوجی حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ متاثرہ افراد مایوس ہیں تاہم اس کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ رپورٹ کے مطابق لوگوں نے شکایت کی کہ حکومت سیلاب کے بارے میں اطلاعات نشر کرنے اور مناسب تعداد میں کشتیاں فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

سری نگر میں سیلاب سے متعدد گھر اور اسپتال زیرآب آچکے ہیں اور لوگوں کو اپنے پیاروں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ محفوظ بھی یا نہیں۔ سری نگر ایئرپورٹ کی جانب جانے والا راستہ اور گلیاں زیر آب آچکی ہیں جس کے باعث وہاں سے گزرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ بارش رکنے کے باوجود سری نگر کی ڈل جھیل میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا احساس ہے کہ لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے تاہم یہ بہت بڑی آفت ہے۔
Load Next Story