پاکستان کے سیاسی بحران سے جوہری تنصیبات کو خطرہ نہیں امریکی رپورٹ
دھرنوں سے پاکستان سے متعلق امریکی حکومت کے سیکیورٹی مفادات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے، رپورٹ
رپورٹ کانگریشنل ریسرچ سروسز نے تیار کی اور اسے تمام امریکی قانون سازوں میں تقسیم کیا گیا. فوٹو؛فائل
امریکی کانگریشنل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران سے ملکی جوہری تنصیبات پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے، پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے احتجاج سے پاکستان سے متعلق امریکی حکومت کے سیکیورٹی مفادات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
امریکی کانگریشنل کی پاکستان میں سیاسی انتشار کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے سویلین لیڈرز کی ملکی سیکیورٹی پالیسی پر کنٹرول میں کمزوری سے جوہری تنصیبات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے احتجاج سے پاکستان سے متعلق امریکی حکومت کے سیکیورٹی مفادات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے جو جوہری سیکیورٹی، ان کے پھیلاؤ کی روک تھام، افغان استحکام اور پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے پر مشتمل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ انسداد دہشت گردی اور مقامی عسکریت پسندی کی روک تھام کے حوالے سے واشنگٹن برسوں سے پاکستانی فوج کی جانب سے عسکریت پسند گروپس میں امتیاز کرنے پر برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتا رہا ہے۔ رپورٹ کانگریشنل ریسرچ سروسز نے تیار کی اور اسے تمام امریکی قانون سازوں میں تقسیم کیا گیا۔
امریکی کانگریشنل کی پاکستان میں سیاسی انتشار کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے سویلین لیڈرز کی ملکی سیکیورٹی پالیسی پر کنٹرول میں کمزوری سے جوہری تنصیبات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے احتجاج سے پاکستان سے متعلق امریکی حکومت کے سیکیورٹی مفادات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے جو جوہری سیکیورٹی، ان کے پھیلاؤ کی روک تھام، افغان استحکام اور پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے پر مشتمل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیاکہ انسداد دہشت گردی اور مقامی عسکریت پسندی کی روک تھام کے حوالے سے واشنگٹن برسوں سے پاکستانی فوج کی جانب سے عسکریت پسند گروپس میں امتیاز کرنے پر برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتا رہا ہے۔ رپورٹ کانگریشنل ریسرچ سروسز نے تیار کی اور اسے تمام امریکی قانون سازوں میں تقسیم کیا گیا۔