جنرل اسمبلی کا اجلاس اور عالمی حقائق

اقوام متحدہ فوری طور پر اس خطرناک معاملے اور دنیا میں بڑھتی ہوئی تلخیوں پر توجہ دے

صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام مخالف فلم جیسے عمل کو مجرمانہ فعل قرار دے۔ فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 67 ویں اجلاس سے صدر آصف علی زرداری اور امریکی صدر بارک اوباما کا خطاب دنیا کے 6 ارب سے زائد ان انسانوں کے لیے تھا جو ترقی، خوشحالی، خواندگی، روزگار، رہائش اور تفریحات کی ایک جیسی سہولتوں سے فیضیاب نہیں۔

ایک دنیا وہ ہے جہاں داخلی امن، سکون اور معاشی اطمینان ہے اور دوسری دنیا وہ ہے جہاں ممکنہ تہذیبی تصادم کے خطرات کا شور ہے جس میں غربت، جنگ کی تباہ کاریاں، شورش، ریاستی جبر، خانہ جنگی، تشدد، قتل و غارتگری اور دہشت گردی ہے۔ چنانچہ تقابلی نقطہ نظر سے دونوں رہنمائوں کے خطاب ہائے فکر انگیز کو ملکی اور عالمی صورتحال کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام مخالف فلم جیسے عمل کو مجرمانہ فعل قرار دے۔ صدر نے کہا کہ میں اپنی تقریر شروع کرنے سے پہلے دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف نفرت کو ابھارنے اور ہمارے پیارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی بھر پور مذمت کرنا چاہتا ہوں۔

عالمی برادری توہین آمیز فلم جیسے عمل پر خاموش تماشائی نہ بنے، ایسے فعل کو جرم قرار دے جس سے دنیا کا امن تباہ ہو اور آزادی اظہار کے غلط استعمال سے دنیا کی سلامتی کو خطرے میں پڑ جائے۔

اقوام متحدہ فوری طور پر اس خطرناک معاملے اور دنیا میں بڑھتی ہوئی تلخیوں پر توجہ دے تا کہ قوموں میں شائستگی اور احترام کی فضا پیدا ہو سکے۔ صدر کی اس اپیل میں پاکستان کا پورا مقدمہ سمٹ آیا ہے، اور عالمی برادری کو ان کی تقریر کے ایک ایک نکتہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے یہ بات بر محل کہی کہ میں یہاں پاکستان کے بارے میں سوالات کے جواب دینے نہیں آیا بلکہ اپنے عوام کی طرف سے یہ سوال کرتا ہوں کہ پاکستان کو مزید کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے انسانی جانیں ضایع، سماجی اقدار تار تار اور پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی۔

صدر مملکت نے یہ کہہ کر کہ آج ہماری حالت ڈکٹیٹر شپس کی ایک پروڈکٹ جیسی ہے در حقیقت جمہوریت پر شب خونوں کی دردناک تاریخ کا ورق کھول دیا۔ عالمی برادری کب اس چیز کا ادراک کرے گی کہ ڈرون حملوں اور شہری اموات کی وجہ سے اس جنگ کی پیچیدگی میں نہ صرف اضافہ ہو رہا ہے بلکہ دہشت گردی کے گرداب سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔

صدر کا شکوہ بجا ہے کہ ''جو لوگ ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ ہم نے زیادہ کام نہیں کیا میں ان سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہمارے شہیدوں اور ان کے لواحقین کی توہین نہ کریں۔''

چین سے تعلقات استحکام کے حوالے سے صدر کا اشارہ بلیغ ہے، وہ امریکا، بھارت اور اسرائیل سمیت تمام عالمی اسٹیک ہولڈرز کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاک چین دوستی کا کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم سے سروکار نہیں، اسی طرح انھوں نے ایک خود مختار، مستحکم اور محفوظ افغانستان ہی کو افغان عوام کے لیے بہتر قرار دیگر خطے کی اصل حقیقت اور ضرورت کا احساس دلایا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بارک اوباما نے کہا کہ مسلمانوں کے پیغمبرؐ کی توہین کرنے والوں کی مستقبل میں کوئی جگہ نہیں، تاہم انھوں نے امریکی آئین میں پہلی ترمیم یا آزادی تقریر کی وجہ سے گستاخانہ فلم پر پابندی لگانے پر اپنی مجبوری ظاہر کر دی، ان کا استدلال تھا کہ لیبیا میں امریکی سفارتخانے پر حملہ امریکا پر حملہ تھا، حالانکہ امریکی فلم بھی اسلامی اقدار و عقائد پر شدید حملہ ہے۔


شام میں صدر اوباما بشار الاسد کا اقتدار ہر صورت ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ضروری اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اوباما کہ کہنا ہے مذہبی جذبات سے کھیلنے اور اسرائیل کو مسئلہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، بلکہ اپنی تقریر میں ان کا لب لباب یہ تھا کہ امریکی پرچم جلانے سے کسی بچے کو تعلیم نہیں ملے گی۔

جب کہ دنیا کو تعلیم کی ضرورت ہے، مصر میں تبدیلی کا اوباما نے خیر مقدم کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں اوباما کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ صدر امریکا نے اسلام مخالف فلم کے حوالہ سے آزادی تقریر کا موثر دفاع کیا۔ اخبار نے یاد دلایا کہ اوباما کے نزدیک نفرت انگیز تقریر کے خلاف سب سے موثر ہتھیار مزید آزادانہ تقریر ہے جبر نہیں۔

ہو سکتا ہے یہ فارمولہ امریکا اور یورپی کلچر کے لیے موزوں ہو مگر اس کا اطلاق عالم اسلام اور مسلم معاشروں پر بوجوہ ممکن نہیں۔ امریکا کے عظیم ادیب اور ماہر بشریات ایڈورڈ ہال کا ہمیشہ سے امریکی سفارتی حکام سے یہی گلہ رہا کہ وہ دنیا کی دیگر قوموں کے مزاج آشنا نہیں بن سکے۔صدر اوبامانے توہین رسالت Blasphemy پر بندش کے عالمی قانون کی بھی حمایت نہیں کی جب کہ امریکا نے گوانتا نامو بے میںمسلمان قیدیوں کو ماورائے آئین و قانون اور غیر انسانی طریقے سے محبوس رکھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی آئین کوئی ایسی عالمگیر استعماری دستاویز ہے جس کی پابندی امت مسلمہ اور ان مسلم ممالک پر بھی فرض ہے جو اپنا ایک لازوال، ابدی اور امن پسندانہ آئینی دستور حیات رکھتے ہیں اور جن کے لیے قرآن ان کے دین و ایمان کی بنیاد ہے۔ الیکشن سے 6 ہفتے قبل ہونے والی صدر اوباما کی اس تقریر پر امریکی میڈیا کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ دنیا کو ایک شگفتہ پیغام ملا ہے۔

تاہم مبصرین کے مطابق صدر اوباما کو عراق و افغانستان، اسرائیل و فلسطین، شام کی خانہ جنگی پر تفصیل سے اپنا انداز نظر واضح کرنا چاہیے تھا۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے گستاخانہ فلم کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ ایران پر کوئی بھی حملہ خطرناک ثابت ہو گا، شام کی صورتحال دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بارک اوباما نے گستاخانہ فلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ فلم نے مسلم دنیا میں بے چینی پیدا کی، ہم گستاخانہ فلم جیسے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔

توہین آمیز فلم سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں، فلم امریکا کی بے عزتی ہے، یہ لاکھوں امریکی مسلمانوں کے لیے بھی اشتعال کا باعث ہے، تشدد بلا جواز ہے، امریکی سفارتخانوں پر حملوں اور پاکستان میں ہلاکتوں کا کوئی جواز نہیں، ہم مذہبی آزادی اور مذہبی تحفظ پر یقین رکھتے ہیں، ہم تحمل، برداشت، اور مفاہمت کے رویوں کے حامی ہیں، انتہا پسندی اور تشدد کی مذمت کرنی چاہیے۔ درست! تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا ہدف اول ہے۔ اس سے زیادہ دہشت گردی کے دکھ کس نے اٹھائے ہیں، یہی بات صدر زرداری نے کہی ہے۔

اس لیے عالمی رہنمائوں کو اس حقیقت کا جلد ادراک کرنا ہو گا کہ پاکستان کو بھی انتخابی عمل سے گزرنے کے لیے چند ماہ درکار ہیں جب کہ اسے نائن الیون کے بعد اب اسلام مخالف فلم نے دہشت گردی، تشدد اور غیر معمولی واقعات کے جہنم میں دھکیلا ہے۔

اسی توہین آمیز فلم اور خاکوں کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ تا حال جاری ہے جب کہ دنیا بھر میںفلم مخالف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا، لبنان میں مظاہروں کے بعد مقامی عدالت نے اسلام مخالف فلم کی انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ادھر ایران نے توہین آمیز فلم کے خلاف بطور احتجاج آسکر ایوارڈ کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ لیبیا کے صدر المغارف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہلیری کلنٹن سے ملاقات میں امریکی سفیر سمیت چار امریکیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے ذمے داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس میں عالمی رہنمائوں کو عالم اسلام سمیت دنیا بھر کے لیے امن و انصاف کی فراہمی، غربت کے خاتمہ، جنگی تباہ کاریوں کے سدباب اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرنے کا ٹارگٹ سامنے رکھنا چاہیے۔ اس گستاخانہ فلم کو ایک امریکی مبصر نے ''سیٹانک ویڈیو'' قرار دیا ہے، کیا وہ بھی آزادی تقریر کے مجرم ٹھہرائے جائیں گے؟
Load Next Story