اوپن مارکیٹ میں روئی کی قیمتیں 5700 سے 5800 روپے من پر مستحکم
اسپاٹ ریٹ 50 روپے اضافے سے 5650 روپے من ہوگئے، ڈالر کی قدرمیں اضافے کے باعث بھائو بڑھنے کا امکان
اسپاٹ ریٹ 50 روپے اضافے سے 5650 روپے من ہوگئے، ڈالر کی قدرمیں اضافے کے باعث بھاؤ بڑھنے کا امکان۔ فوٹو: فائل
پنجاب کے بیشتر کاٹن زونز میں گزشتہ ہفتے کے دوران پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال جبکہ رواں ہفتے کے دوران سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہونے کی اطلاعات کے بعد پھٹی کی آمد میں ممکنہ کمی کے خطرات کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان بھر میں روئی کی قیمتیں کافی حد تک مستحکم رہیں۔
تاہم ملکی سیاسی حالات کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی کا وہ رجحان سامنے نہیں آ سکا کہ جس کی توقع کی جا رہی تھی جبکہ امریکا میں روئی کے ایکسپورٹ آرڈرز توقع سے زیادہ ہونے اور آسٹریلیا میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونے کے بارے میں رپورٹس جاری ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان غالب رہا۔
تاہم یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ جس میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ اور اینڈنگ اسٹاکس میں غیر معمولی اضافہ بتایا گیا تھا، کے بعد گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتوں میں معمولی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) احسان الحق نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب کے شہروں جھنگ، لیہ، مظفر گڑھ، بھکر اور ملتان کے کچھ علاقوں میں کپاس کی فصل کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان سطور کی اشاعت تک مذکورہ سیلابی ریلا رحیم یار خان سے شروع ہو کر سندھ کے اضلاع گھوٹکی، سکھر اور نوشہرو فیروز کے کچے کی حدود سے ہوتا ہوا سمندر کی جانب رواں دواں ہو جائے گا اور ماہرین کے مطابق سیلابی ریلے کی شدت میں متوقع کمی کے باعث رحیم یار خان اور سندھ میں کپاس کی فصل بھی کافی حد تک محفوظ رہنے کے امکانات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 5 ہزار 700 روپے سے 5 ہزار 800 روپے فی من تک مستحکم رہیں تاہم توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ روئی کی بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی کے رجحان اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا لیکن پاکستان میں جاری منفی سیاسی حالات کے باعث روئی اور سوتی دھاگے کی برآمدات میں کمی کے رجحان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی خریداری میں کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.40 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 75.85 سینٹ فی پاؤنڈ ،اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 4.53 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 70.61 سینٹ فی پاؤنڈ تک پہنچ گئے جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 650 روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ معروف امریکی زرعی ادارے یونائٹیڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (یو ایس ڈی اے ) اپنی حالیہ رپورٹ میں کاٹن ایئر 2014-15 کے دوران تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کپاس بھارت میں پیدا ہونے بارے رپورٹس جاری کی ہیں۔ یاد رہے کہ قبل ازیں یہ اعزاز چین کو حاصل تھا۔ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014-15 میں بھارت میں 30 ملین (480 پاؤنڈ) روئی کی بیلز پیدا ہونے کا امکان ہے جبکہ چین میں 29.5 ملین، امریکا میں 16.54 ملین جبکہ پاکستان میں 9.5 ملین روئی کی بیلز پیدا ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روئی کی کھپت پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 5 لاکھ بیلز کم ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014-15 کے آخر میں دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس 10 کروڑ 63 لاکھ بیلز رہنے کا امکان ہے جو تاریخ میں روئی کے سب سے بڑے اینڈنگ اسٹاکس ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2014-15 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں مندی کا شکار رہیں گی جس کے باعث روئی کی ٹریڈنگ 58 سے70 سینٹ فی پائونڈ کے درمیان رہنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کے مطابق 2014-15 کے دوران روئی کی قیمتوں میں اوتار چڑھائو کا فیصلہ چین کی کپاس سے متعلق حتمی پالیسی آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
تاہم ملکی سیاسی حالات کے باعث روئی کی قیمتوں میں تیزی کا وہ رجحان سامنے نہیں آ سکا کہ جس کی توقع کی جا رہی تھی جبکہ امریکا میں روئی کے ایکسپورٹ آرڈرز توقع سے زیادہ ہونے اور آسٹریلیا میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کم ہونے کے بارے میں رپورٹس جاری ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان غالب رہا۔
تاہم یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ جس میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ اور اینڈنگ اسٹاکس میں غیر معمولی اضافہ بتایا گیا تھا، کے بعد گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتوں میں معمولی مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) احسان الحق نے ''ایکسپریس''کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پنجاب کے شہروں جھنگ، لیہ، مظفر گڑھ، بھکر اور ملتان کے کچھ علاقوں میں کپاس کی فصل کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان سطور کی اشاعت تک مذکورہ سیلابی ریلا رحیم یار خان سے شروع ہو کر سندھ کے اضلاع گھوٹکی، سکھر اور نوشہرو فیروز کے کچے کی حدود سے ہوتا ہوا سمندر کی جانب رواں دواں ہو جائے گا اور ماہرین کے مطابق سیلابی ریلے کی شدت میں متوقع کمی کے باعث رحیم یار خان اور سندھ میں کپاس کی فصل بھی کافی حد تک محفوظ رہنے کے امکانات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتیں 5 ہزار 700 روپے سے 5 ہزار 800 روپے فی من تک مستحکم رہیں تاہم توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ روئی کی بین الاقوامی منڈیوں میں تیزی کے رجحان اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا لیکن پاکستان میں جاری منفی سیاسی حالات کے باعث روئی اور سوتی دھاگے کی برآمدات میں کمی کے رجحان کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی خریداری میں کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
جبکہ نیویارک کاٹن ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے کے دوران حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 1.40 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 75.85 سینٹ فی پاؤنڈ ،اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 4.53 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 70.61 سینٹ فی پاؤنڈ تک پہنچ گئے جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 50 روپے فی من اضافے کے ساتھ 5 ہزار 650 روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ معروف امریکی زرعی ادارے یونائٹیڈ اسٹیٹس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (یو ایس ڈی اے ) اپنی حالیہ رپورٹ میں کاٹن ایئر 2014-15 کے دوران تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کپاس بھارت میں پیدا ہونے بارے رپورٹس جاری کی ہیں۔ یاد رہے کہ قبل ازیں یہ اعزاز چین کو حاصل تھا۔ یو ایس ڈی اے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014-15 میں بھارت میں 30 ملین (480 پاؤنڈ) روئی کی بیلز پیدا ہونے کا امکان ہے جبکہ چین میں 29.5 ملین، امریکا میں 16.54 ملین جبکہ پاکستان میں 9.5 ملین روئی کی بیلز پیدا ہونے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روئی کی کھپت پہلے تخمینوں کے مقابلے میں 5 لاکھ بیلز کم ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014-15 کے آخر میں دنیا بھر میں روئی کے اینڈنگ اسٹاکس 10 کروڑ 63 لاکھ بیلز رہنے کا امکان ہے جو تاریخ میں روئی کے سب سے بڑے اینڈنگ اسٹاکس ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2014-15 کے دوران دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں مندی کا شکار رہیں گی جس کے باعث روئی کی ٹریڈنگ 58 سے70 سینٹ فی پائونڈ کے درمیان رہنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین کے مطابق 2014-15 کے دوران روئی کی قیمتوں میں اوتار چڑھائو کا فیصلہ چین کی کپاس سے متعلق حتمی پالیسی آنے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔