امریکا اور یورپ پر پابندی کے بعد روس کو پاکستانی ایکسپورٹ بڑھنے کا امکان
موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے 20 کمپنیاں 15 تا 18 ستمبر ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش میں شرکت کریں گی
موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے 20 کمپنیاں 15 تا 18 ستمبر ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش میں شرکت کریں گی فوٹو: فائل
روس کی جانب سے امریکا اور یورپ سے درآمدات پر پابندی کے بعد پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے 2ارب ڈالر کی روسی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستانی ایکسپورٹرز نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ماسکو کا رخ کرلیا ہے۔ روس کی جانب سے امریکا، کینیڈا، یورپی یونین، ناروے اور آسٹریلیا سے درآمدات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں روس کو پھل اور سبزیوں کی 2ارب ڈالر کی درآمدات کے لیے متبادل منڈیوں کی ضرورت ہے جن میں جغرافیائی محل وقوع قیمت اور معیار کے لحاظ سے پاکستانی مارکیٹ انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان سے پہلے ہی روس کینو اور آلو برآمد کیا جاتا ہے۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحید احمد کے مطابق روسی منڈی میں پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسوسی ایشن نے اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے جس کے تحت 20سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے 15سے 18 ستمبر تک ماسکو میں ہونے والی ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش مین شرکت کریں گے۔ 6کمپنیاں اسٹال بھی لگارہی ہیں جہاں پاکستانی پھلوں کے ساتھ ویلیو ایڈڈ مصنوعات مینگو پلپ، ایپل کلیئر کنسنٹریٹ کی بھی نمائش کی جائیگی.
انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد اپنے قیام کے دوران روسی درآمد کنندگان اور حکومتی نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گا اور اس دورے میں پاکستانی سیب کے لیے روس کے بڑے آرڈرز حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ روس کی جانب سے یورپی یوین، امریکا اور دیگر ملکوں پر پابندی کے بعد پاکستان سے روس کو پھل سبزیوں کے ساتھ گندم، گوشت، پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا بھی راستہ کھل گیا ہے تاہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت پاکستان کو بھی سفارتی سطح پر مربوط کوششیں کرنا ہوں گی.
روسی درآمد کنندگان اور تجارتی وفود کو پاکستان مدعو کیا جائے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں بالخصوص بینکاری سے متعلق مسائل حل کرکے روسی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے خاطر خواہ مارکیٹ شیئر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی ایکسپورٹرز نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ماسکو کا رخ کرلیا ہے۔ روس کی جانب سے امریکا، کینیڈا، یورپی یونین، ناروے اور آسٹریلیا سے درآمدات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس پابندی کے نتیجے میں روس کو پھل اور سبزیوں کی 2ارب ڈالر کی درآمدات کے لیے متبادل منڈیوں کی ضرورت ہے جن میں جغرافیائی محل وقوع قیمت اور معیار کے لحاظ سے پاکستانی مارکیٹ انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان سے پہلے ہی روس کینو اور آلو برآمد کیا جاتا ہے۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے شریک چیئرمین وحید احمد کے مطابق روسی منڈی میں پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسوسی ایشن نے اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے جس کے تحت 20سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے نمائندے 15سے 18 ستمبر تک ماسکو میں ہونے والی ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش مین شرکت کریں گے۔ 6کمپنیاں اسٹال بھی لگارہی ہیں جہاں پاکستانی پھلوں کے ساتھ ویلیو ایڈڈ مصنوعات مینگو پلپ، ایپل کلیئر کنسنٹریٹ کی بھی نمائش کی جائیگی.
انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد اپنے قیام کے دوران روسی درآمد کنندگان اور حکومتی نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گا اور اس دورے میں پاکستانی سیب کے لیے روس کے بڑے آرڈرز حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ روس کی جانب سے یورپی یوین، امریکا اور دیگر ملکوں پر پابندی کے بعد پاکستان سے روس کو پھل سبزیوں کے ساتھ گندم، گوشت، پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا بھی راستہ کھل گیا ہے تاہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت پاکستان کو بھی سفارتی سطح پر مربوط کوششیں کرنا ہوں گی.
روسی درآمد کنندگان اور تجارتی وفود کو پاکستان مدعو کیا جائے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں بالخصوص بینکاری سے متعلق مسائل حل کرکے روسی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے خاطر خواہ مارکیٹ شیئر حاصل کیا جاسکتا ہے۔