کراچی کو10کروڑ گیلن پانی کی فراہمی بند
اس نوعیت کے شگاف زیادہ سے زیادہ 36 گھنٹے میں درست کردیے جاتے تھے
واٹربورڈ کی طرف سے تین دن کے لیے متاثرہ علاقوں میں کسی متبادل انتظامات کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث ان علاقوں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ فوٹو: پی پی آئی/ فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں حب ڈیم میں جمع ہونے والے پانی کو کراچی کے شہریوں تک پہنچانے کا راستہ فراہم کرنے والی حب ڈیم کی کینال میں شگاف پڑگیا۔
جس کے باعث 3 روز تک یومیہ دس کروڑ گیلن پانی کی فراہمی معطل رہی ، پانی کی اس کمی سے سب سے زیادہ جو علاقے متاثر ہوں گے ان میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، شیرشاہ، نارتھ ناظم آباد ، منگھوپیر سمیت اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
واٹربورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس شگاف کی مرمت میں تین دن لگیں گے جس کے بعد صورتحال معمول پر آجائے گی تاہم واٹربورڈ کی طرف سے تین دن کے لیے متاثرہ علاقوں میں کسی متبادل انتظامات کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث ان علاقوں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ذرایع کے مطابق اس صورتحال کی ذمے داری مکمل طور پر واٹربورڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ واپڈا کی جانب سے واٹر بورڈ انتظامیہ کو کئی ماہ سے نشاندہی کی جارہی تھی کہ متاثرہ مقام کمزور ہورہا ہے جس کی فوری مرمت کی ضرورت ہے لیکن واٹر بورڈ کے بلک ڈپارٹمنٹ نے اس جانب کان نہ دھرے۔
مرمت کے حوالے سے تین دن کے تخمینے پر ذرایع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ اس حوالے سے بھی سست روی کا مظاہرہ کررہا ہے کیونکہ ماضی میں پڑنے والے اس نوعیت کے شگاف زیادہ سے زیادہ 36 گھنٹے میں درست کردیے جاتے تھے، شگاف کو بھرنے کے لیے کوئی بہت مشکل انجینئرنگ درکار نہیں ہوتی بلکہ صرف شگاف کی جگہ پر مٹی بھری جاتی ہے۔
پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن شہریوں کو عام حالات میں بھی پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے ایسے میں واٹر بورڈ کی جانب سے یہ غفلت مجرمانہ زمرے میں آتی ہے۔صرف چشم تصور سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ جس شہر میں پانی غائب اور بجلی بار بار معطل ہونے کا تماشا لگا ہوا ہو وہاں زندگی کے مزید عذاب کتنے ہولناک ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شگاف کو نہ صرف فوری پُر کیا جائے بلکہ آیندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔
جس کے باعث 3 روز تک یومیہ دس کروڑ گیلن پانی کی فراہمی معطل رہی ، پانی کی اس کمی سے سب سے زیادہ جو علاقے متاثر ہوں گے ان میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، شیرشاہ، نارتھ ناظم آباد ، منگھوپیر سمیت اطراف کے علاقے شامل ہیں۔
واٹربورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس شگاف کی مرمت میں تین دن لگیں گے جس کے بعد صورتحال معمول پر آجائے گی تاہم واٹربورڈ کی طرف سے تین دن کے لیے متاثرہ علاقوں میں کسی متبادل انتظامات کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث ان علاقوں کے مکینوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔
ذرایع کے مطابق اس صورتحال کی ذمے داری مکمل طور پر واٹربورڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ واپڈا کی جانب سے واٹر بورڈ انتظامیہ کو کئی ماہ سے نشاندہی کی جارہی تھی کہ متاثرہ مقام کمزور ہورہا ہے جس کی فوری مرمت کی ضرورت ہے لیکن واٹر بورڈ کے بلک ڈپارٹمنٹ نے اس جانب کان نہ دھرے۔
مرمت کے حوالے سے تین دن کے تخمینے پر ذرایع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ اس حوالے سے بھی سست روی کا مظاہرہ کررہا ہے کیونکہ ماضی میں پڑنے والے اس نوعیت کے شگاف زیادہ سے زیادہ 36 گھنٹے میں درست کردیے جاتے تھے، شگاف کو بھرنے کے لیے کوئی بہت مشکل انجینئرنگ درکار نہیں ہوتی بلکہ صرف شگاف کی جگہ پر مٹی بھری جاتی ہے۔
پانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن شہریوں کو عام حالات میں بھی پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے ایسے میں واٹر بورڈ کی جانب سے یہ غفلت مجرمانہ زمرے میں آتی ہے۔صرف چشم تصور سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ جس شہر میں پانی غائب اور بجلی بار بار معطل ہونے کا تماشا لگا ہوا ہو وہاں زندگی کے مزید عذاب کتنے ہولناک ہوں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شگاف کو نہ صرف فوری پُر کیا جائے بلکہ آیندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔