سیلاب کی مزید تباہ کاریاں
بیس سال بعد ایسا شدید اور تباہ کن سیلاب آیا ہے جس نے بے شمار درد انگیز کہانیاں اور الم ناک واقعات کو جنم دیا۔۔۔
بیس سال بعد ایسا شدید اور تباہ کن سیلاب آیا ہے جس نے بے شمار درد انگیز کہانیاں اور الم ناک واقعات کو جنم دیا۔ فوٹو: فائل
لاہور:
ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب یہ سیلابی ریلہ ملتان اور دیگر اضلاع میں تباہی پھیلانے کے بعد ہیڈ پنجند پر پہنچنا شروع ہو گیا۔ اری گیشن حکام کے مطابق پنجند ہیڈ ورکس پر درمیانی درجے کا سیلاب ہے اور فی الحال خطرے کی کوئی علامت نہیں۔ دریائے چناب کے ریلے سے مظفر گڑھ شہر کو خطرہ پیدا ہوا تو اسے بچانے کے لیے دوآبہ بند میں دو شگاف ڈالنے پڑے۔ اس سے ارد گرد کے دیہات زیر آب آ گئے۔ اس سیلاب نے پنجاب کے ایک بڑے حصے کو شدید متاثر کیا ہے۔
بیس سال بعد ایسا شدید اور تباہ کن سیلاب آیا ہے جس نے بے شمار درد انگیز کہانیاں اور الم ناک واقعات کو جنم دیا ہے۔ اتوار کو ملتان کے علاقے شیر شاہ کے قریب ایک نہایت افسوسناک واقعہ رونما ہوا، سیلابی ریلے میں باراتیوں کی کشتی الٹنے سے دولہا اس کے بھائی سمیت 17 افراد ڈوب گئے جب کہ انھیں بچاتے ہوئے پاک فوج کا نائب صوبیدار عناب گل بھی شہید ہو گیا۔ کشتی میں 35 افراد سوار تھے، دلہن سمیت 20 افراد کو بچا لیا گیا۔ حادثہ کشتی میں سوار لوگوں کی اپنی غلطی کے باعث پیش آیا۔ ایک تو کشتی میں گنجائش سے زائد لوگ سوار تھے دوسرے ہیلی کاپٹر گزرنے پر لوگ کھڑے ہو گئے جس سے کشتی کا توازن بگڑ گیا۔
صدر مملکت ممنون حسین' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد مختلف حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حکومتی اور نجی سطح پر ان حادثات کے سدباب کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ٹریفک حادثات ڈرائیوروں کی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث پیش آتے ہیں۔
مختلف علاقوں میں کشتیاں الٹنے سے جو ہلاکتیں ہوتی ہیں ان کی بھی ایک ہی وجہ اوور لوڈڈ ہونا سامنے آئی۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو حادثات کا باعث بننے والے عوامل کا بخوبی ادراک ہے مگر حیرت ہے وہ پھر بھی قوانین کی پابندی اور احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ شہریوں کی اکثریت دانستہ طور پر قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتی چاہے وہ کسی مسئلے کا شکار ہی کیوں نہ ہو جائے۔
پنجاب میں آنے والے اس سیلاب میں درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے، مکانات کی دیواریں اور چھتیں گرنے کے علاوہ کرنٹ لگنے سے بھی متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اگر سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنا ممکن نہیں تو کم از کم انتظامی معاملات بہتر بنا کر کرنٹ لگنے اور بوسیدہ گھر گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کو تو روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں سیلاب پہلی بار نہیں آیا،یہ ہر سال آتا ہے، 2010 میں آنے والے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی،فوری طور پر تو متاثرین کی مدد کر دی جاتی ہے مگر سیلاب اترنے کے بعد مستقبل میں اس کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔
اگر بڑے پیمانے پر ڈیم' بیراج اور آبی ذخائر تعمیر کیے جاتے تو آج سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے ممکن ہے اس کی نوبت نہ آتی۔ حیرت ہے کہ اس وقت ہر طرف پانی ہی پانی ہے جب کہ سیلاب اترنے کے کچھ عرصے بعد ملک میں پانی کی قلت کی آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر حکومت سیلاب کے اس پانی کو محفوظ کرنے کی طرف توجہ دے تو یہ زحمت کے بجائے رحمت بن سکتا ہے۔ سیلاب سے جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں اس کا درست تخمینہ تو بعد میں لگایا جائے گا لیکن یہ امر طے ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے حکومت کو اربوں روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔
ہر سال آنے والا سیلاب زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے منفی اثرات صنعتی اور کاروباری معاملات پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور ترقی کرتی ہوئی معیشت کئی برس پیچھے چلی جاتی ہے۔ حکومت اگر ملک کو واقعی ترقی دینے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے سیلاب پر قابو پانے پر توجہ دینا ہو گی۔ اس وقت سیلاب سے ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلوں کے علاوہ سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں جس سے متعدد علاقوں کا باہمی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے،نتیجتاً تجارتی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ایک طرف جہاں بے خانماں ہونے والے افراد کی جمع پونجی سیلاب کی نذر ہو جاتی ہے وہاں وہ اس قابل نہیں رہتے کہ فوری طور پر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور ان کا زیادہ تر انحصار حکومتی امداد پر رہ جاتا ہے۔
سیلاب زدگان کی بحالی پر کثیر سرمایہ خرچ ہونے کے سبب حکومت کے مالیاتی خسارہ میں جہاں اضافہ ہو گا وہاں معاشی اہداف بھی متاثر ہوں گے۔ ذرایع کے مطابق سیلاب سے قبل تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ اور دھرنوں سے پیدا شدہ صورت حال کے باعث ملکی معیشت کو ایک ہزار ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچ چکا ہے اور اب سیلاب سے مزید نقصان ہوا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پاک فوج کا کردار بلاشبہ قابل تحسین ہے، فوج کے ہیلی کاپٹر اور کشتیاں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں، متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔
کوئی بھی حکومت تنہا بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر قابو نہیں پا سکتی۔ اس مشکل موقع پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے متحرک ہوں یہی وقت ان کی عوامی اور ملکی ہمدردی کے امتحان کا ہے۔ دوسری جانب شہروں میں بھی سیوریج' ڈرین سسٹم اور برساتی نالوں کی صورت حال تسلی بخش نہیں، شہروں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ماسٹر پلان بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سیلاب پر قابو پانے کے لیے اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں ترقی کا عمل کبھی تیزی سے آگے نہ بڑھ سکے گا کیونکہ تمام ترقی اور خوشحالی سیلاب کی نذر ہو جاتی رہے گی۔
ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب یہ سیلابی ریلہ ملتان اور دیگر اضلاع میں تباہی پھیلانے کے بعد ہیڈ پنجند پر پہنچنا شروع ہو گیا۔ اری گیشن حکام کے مطابق پنجند ہیڈ ورکس پر درمیانی درجے کا سیلاب ہے اور فی الحال خطرے کی کوئی علامت نہیں۔ دریائے چناب کے ریلے سے مظفر گڑھ شہر کو خطرہ پیدا ہوا تو اسے بچانے کے لیے دوآبہ بند میں دو شگاف ڈالنے پڑے۔ اس سے ارد گرد کے دیہات زیر آب آ گئے۔ اس سیلاب نے پنجاب کے ایک بڑے حصے کو شدید متاثر کیا ہے۔
بیس سال بعد ایسا شدید اور تباہ کن سیلاب آیا ہے جس نے بے شمار درد انگیز کہانیاں اور الم ناک واقعات کو جنم دیا ہے۔ اتوار کو ملتان کے علاقے شیر شاہ کے قریب ایک نہایت افسوسناک واقعہ رونما ہوا، سیلابی ریلے میں باراتیوں کی کشتی الٹنے سے دولہا اس کے بھائی سمیت 17 افراد ڈوب گئے جب کہ انھیں بچاتے ہوئے پاک فوج کا نائب صوبیدار عناب گل بھی شہید ہو گیا۔ کشتی میں 35 افراد سوار تھے، دلہن سمیت 20 افراد کو بچا لیا گیا۔ حادثہ کشتی میں سوار لوگوں کی اپنی غلطی کے باعث پیش آیا۔ ایک تو کشتی میں گنجائش سے زائد لوگ سوار تھے دوسرے ہیلی کاپٹر گزرنے پر لوگ کھڑے ہو گئے جس سے کشتی کا توازن بگڑ گیا۔
صدر مملکت ممنون حسین' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد مختلف حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ حکومتی اور نجی سطح پر ان حادثات کے سدباب کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ٹریفک حادثات ڈرائیوروں کی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث پیش آتے ہیں۔
مختلف علاقوں میں کشتیاں الٹنے سے جو ہلاکتیں ہوتی ہیں ان کی بھی ایک ہی وجہ اوور لوڈڈ ہونا سامنے آئی۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو حادثات کا باعث بننے والے عوامل کا بخوبی ادراک ہے مگر حیرت ہے وہ پھر بھی قوانین کی پابندی اور احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ شہریوں کی اکثریت دانستہ طور پر قوانین پر عملدرآمد نہیں کرتی چاہے وہ کسی مسئلے کا شکار ہی کیوں نہ ہو جائے۔
پنجاب میں آنے والے اس سیلاب میں درجنوں افراد زندگی کی بازی ہار گئے، مکانات کی دیواریں اور چھتیں گرنے کے علاوہ کرنٹ لگنے سے بھی متعدد افراد کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اگر سیلاب سے ہونے والی تباہی کو روکنا ممکن نہیں تو کم از کم انتظامی معاملات بہتر بنا کر کرنٹ لگنے اور بوسیدہ گھر گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کو تو روکا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں سیلاب پہلی بار نہیں آیا،یہ ہر سال آتا ہے، 2010 میں آنے والے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی،فوری طور پر تو متاثرین کی مدد کر دی جاتی ہے مگر سیلاب اترنے کے بعد مستقبل میں اس کی تباہ کاریاں روکنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔
اگر بڑے پیمانے پر ڈیم' بیراج اور آبی ذخائر تعمیر کیے جاتے تو آج سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے ممکن ہے اس کی نوبت نہ آتی۔ حیرت ہے کہ اس وقت ہر طرف پانی ہی پانی ہے جب کہ سیلاب اترنے کے کچھ عرصے بعد ملک میں پانی کی قلت کی آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر حکومت سیلاب کے اس پانی کو محفوظ کرنے کی طرف توجہ دے تو یہ زحمت کے بجائے رحمت بن سکتا ہے۔ سیلاب سے جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں اس کا درست تخمینہ تو بعد میں لگایا جائے گا لیکن یہ امر طے ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے حکومت کو اربوں روپے خرچ کرنا پڑیں گے۔
ہر سال آنے والا سیلاب زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کے منفی اثرات صنعتی اور کاروباری معاملات پر بھی مرتب ہوتے ہیں اور ترقی کرتی ہوئی معیشت کئی برس پیچھے چلی جاتی ہے۔ حکومت اگر ملک کو واقعی ترقی دینے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے سیلاب پر قابو پانے پر توجہ دینا ہو گی۔ اس وقت سیلاب سے ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلوں کے علاوہ سڑکیں اور پل بھی تباہ ہو گئے ہیں جس سے متعدد علاقوں کا باہمی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے،نتیجتاً تجارتی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ایک طرف جہاں بے خانماں ہونے والے افراد کی جمع پونجی سیلاب کی نذر ہو جاتی ہے وہاں وہ اس قابل نہیں رہتے کہ فوری طور پر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور ان کا زیادہ تر انحصار حکومتی امداد پر رہ جاتا ہے۔
سیلاب زدگان کی بحالی پر کثیر سرمایہ خرچ ہونے کے سبب حکومت کے مالیاتی خسارہ میں جہاں اضافہ ہو گا وہاں معاشی اہداف بھی متاثر ہوں گے۔ ذرایع کے مطابق سیلاب سے قبل تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مارچ اور دھرنوں سے پیدا شدہ صورت حال کے باعث ملکی معیشت کو ایک ہزار ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچ چکا ہے اور اب سیلاب سے مزید نقصان ہوا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے پاک فوج کا کردار بلاشبہ قابل تحسین ہے، فوج کے ہیلی کاپٹر اور کشتیاں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں، متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور شہریوں کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔
کوئی بھی حکومت تنہا بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی پر قابو نہیں پا سکتی۔ اس مشکل موقع پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے متحرک ہوں یہی وقت ان کی عوامی اور ملکی ہمدردی کے امتحان کا ہے۔ دوسری جانب شہروں میں بھی سیوریج' ڈرین سسٹم اور برساتی نالوں کی صورت حال تسلی بخش نہیں، شہروں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ماسٹر پلان بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سیلاب پر قابو پانے کے لیے اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں ترقی کا عمل کبھی تیزی سے آگے نہ بڑھ سکے گا کیونکہ تمام ترقی اور خوشحالی سیلاب کی نذر ہو جاتی رہے گی۔