2 ارب ڈالر کی روسی منڈی تک رسائی
روس کی جانب سے یورپی یونین، امریکا اوردیگرملکوں پرپابندی کے بعد پاکستان سے روس کو برآمدات بڑھانے کا راستہ کھل گیا
روس کی جانب سے یورپی یونین، امریکا اوردیگرملکوں پرپابندی کے بعد پاکستان سے روس کو برآمدات بڑھانے کا راستہ کھل گیا. فوٹو: فائل
امریکا اور یورپ سے درآمدات پر روس کی جانب سے پابندی کے بعد پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے2ارب ڈالر کی روسی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ ملکی معیشت کی آزمائش میں گھری صورتحال کو مد نظر دیکھتے ہوئے روس سے تجارتی اور کاروباری تعلقات کا در کھلنا ایک معاشی بریک تھرو کے مترادف ہے، جس کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان نے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ماسکو کا رخ کرلیا ہے۔
اس وقت ملک کو اقتصادی ،تجارتی اور سماجی ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور علاقائی تجارتی منڈیوں تک رسائی کی اشد ضرورت ہے ۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 4 روزہ عالی شان پاکستان لائف اسٹائل نمائش کا کامیاب انعقاد اس ضمن میں خوش آیند اقدام ہے۔ یاد رہے روس کی طرف سے امریکا ، کینیڈا ، یورپی یونین ، ناروے، اور آسٹریلیا سے درآمدات پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔یہ غیر معمولی خلا ہے جسے پاکستانی تاجر احسن طریقے سے پر کرسکتے ہیں ، جب کہ پاکستانی پھل اپنے معیار مٹھاس ، و کھٹاس اور تازگی و لذت کے لیے پہلے ہی دنیا میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ، اب اگر سبزی ،گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی کھپت کے لیے روسی منڈی دستیاب ہورہی ہے تو یہ نعمت غیر مترقبہ ہے۔
مذکورہ پابندی کے نتیجہ میں روس کو پھل اور سبزیوں کی 2 ارب ڈالر کی درآمدات کے لیے متبادل منڈیوں کی ضرورت پہلے سے تھی ، اس پر پیشگی توجہ دینی چاہیے تھی تاہم دیر آید درست آید کے مصداق اب وزارت تجارت کو اس شعبے میں سرعت سے روس سمیت یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کا ماسٹر پلان مرتب کرنا چاہیے کیونکہ جغرافیائی محل وقوع قیمت اور معیار کے لحاظ سے پاکستانی مارکیٹ انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان سے پہلے ہی روس کینو اور آلو برآمد کیا جاتا ہے، آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسی ایشن کے مطابق روسی منڈی میں پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسوسی ایشن نے اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے جس کے تحت 20 سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے نمایندے 15سے 18 ستمبر تک ماسکو میں ہونے والی ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش میں شرکت کریں گے ، 6 کمپنیاں اسٹال بھی لگا رہی ہیں جہاں پاکستانی پھلوں کے ساتھ ویلیو ایڈڈ مصنوعات مینگو پلپ، ایپل کلیئر کنسنٹریٹ کی بھی نمائش کی جائے گی ۔
انھوں نے بتایا کہ روس کی جانب سے یورپی یونین ، امریکا اور دیگر ملکوں پر پابندی کے بعد پاکستان سے روس کو پھل اور سبزیوں کے ساتھ گندم، گوشت ،پولٹری، اور ڈیری کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا بھی راستہ کھل گیا ہے۔ اقتصادی و تجارتی حکمت عملی کا تقاضہ ہے کہ حکومت متعلقہ شعبوں کے در آمد و برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت اور ترغیبات مہیا کرے ۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ناگفتہ بہ داخلی صورتحال کے باعث ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے ، معاشی جمود کو توڑنے اور کرپشن اور نااہلی کے در بند کیے بغیر ملکی معیشت کو سیٹ بیک کا خطرہ ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں11 ستمبر 2014ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 7.29 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کے معاملے پر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ لیت و لعل سے کام لینے لگی ہے جس کے باعث آیندہ سیزن میں کھاد بحران پیدا ہونے خدشہ ہے ۔
اسٹیک ہولڈرزکے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں ہیں ، ملک کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے، تاجر و صنعتکار برادری نے زور دیا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ آرگنائزیشنز اور چیمبرز آف کامرس کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں ۔ادھرانڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 230 ارب 60 کروڑ روپے کے بقایا کی فوری ادائیگی کرکے پاور سیکٹر کے پرائیویٹ ونگ کو بچایا جائے جب کہ بھاری ٹیکسوں سے کمپیوٹر انڈسٹری بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اس ساری صورتحال کو تدبر اور نتیجہ خیز داخلی اقتصادی و تجارتی بریک تھرو سے بدلا جاسکتا ہے ۔
اس وقت ملک کو اقتصادی ،تجارتی اور سماجی ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور علاقائی تجارتی منڈیوں تک رسائی کی اشد ضرورت ہے ۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 4 روزہ عالی شان پاکستان لائف اسٹائل نمائش کا کامیاب انعقاد اس ضمن میں خوش آیند اقدام ہے۔ یاد رہے روس کی طرف سے امریکا ، کینیڈا ، یورپی یونین ، ناروے، اور آسٹریلیا سے درآمدات پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔یہ غیر معمولی خلا ہے جسے پاکستانی تاجر احسن طریقے سے پر کرسکتے ہیں ، جب کہ پاکستانی پھل اپنے معیار مٹھاس ، و کھٹاس اور تازگی و لذت کے لیے پہلے ہی دنیا میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں ، اب اگر سبزی ،گوشت، ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی کھپت کے لیے روسی منڈی دستیاب ہورہی ہے تو یہ نعمت غیر مترقبہ ہے۔
مذکورہ پابندی کے نتیجہ میں روس کو پھل اور سبزیوں کی 2 ارب ڈالر کی درآمدات کے لیے متبادل منڈیوں کی ضرورت پہلے سے تھی ، اس پر پیشگی توجہ دینی چاہیے تھی تاہم دیر آید درست آید کے مصداق اب وزارت تجارت کو اس شعبے میں سرعت سے روس سمیت یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو مستحکم کرنے کا ماسٹر پلان مرتب کرنا چاہیے کیونکہ جغرافیائی محل وقوع قیمت اور معیار کے لحاظ سے پاکستانی مارکیٹ انتہائی موزوں ہے۔ پاکستان سے پہلے ہی روس کینو اور آلو برآمد کیا جاتا ہے، آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسی ایشن کے مطابق روسی منڈی میں پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایسوسی ایشن نے اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے جس کے تحت 20 سے زائد پاکستانی کمپنیوں کے نمایندے 15سے 18 ستمبر تک ماسکو میں ہونے والی ورلڈ فوڈ ماسکو نمائش میں شرکت کریں گے ، 6 کمپنیاں اسٹال بھی لگا رہی ہیں جہاں پاکستانی پھلوں کے ساتھ ویلیو ایڈڈ مصنوعات مینگو پلپ، ایپل کلیئر کنسنٹریٹ کی بھی نمائش کی جائے گی ۔
انھوں نے بتایا کہ روس کی جانب سے یورپی یونین ، امریکا اور دیگر ملکوں پر پابندی کے بعد پاکستان سے روس کو پھل اور سبزیوں کے ساتھ گندم، گوشت ،پولٹری، اور ڈیری کی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا بھی راستہ کھل گیا ہے۔ اقتصادی و تجارتی حکمت عملی کا تقاضہ ہے کہ حکومت متعلقہ شعبوں کے در آمد و برآمد کنندگان کو ہر ممکن سہولت اور ترغیبات مہیا کرے ۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ناگفتہ بہ داخلی صورتحال کے باعث ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے ، معاشی جمود کو توڑنے اور کرپشن اور نااہلی کے در بند کیے بغیر ملکی معیشت کو سیٹ بیک کا خطرہ ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں11 ستمبر 2014ء کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں 7.29 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کے معاملے پر وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ لیت و لعل سے کام لینے لگی ہے جس کے باعث آیندہ سیزن میں کھاد بحران پیدا ہونے خدشہ ہے ۔
اسٹیک ہولڈرزکے درمیان مذاکرات آخری مراحل میں ہیں ، ملک کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے، تاجر و صنعتکار برادری نے زور دیا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ آرگنائزیشنز اور چیمبرز آف کامرس کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں ۔ادھرانڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 230 ارب 60 کروڑ روپے کے بقایا کی فوری ادائیگی کرکے پاور سیکٹر کے پرائیویٹ ونگ کو بچایا جائے جب کہ بھاری ٹیکسوں سے کمپیوٹر انڈسٹری بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، اس ساری صورتحال کو تدبر اور نتیجہ خیز داخلی اقتصادی و تجارتی بریک تھرو سے بدلا جاسکتا ہے ۔