پاکستانی چوکی پر حملہ ناقابل برداشت ہے
تاریخی تناظر میں پاک افغان تعلقات کے نشیب وفراز خاصے اضطراب انگیز رہے ہیں تاہم افغان قیادت کی پاکستان دشمنی کبھی۔۔۔
تاریخی تناظر میں پاک افغان تعلقات کے نشیب وفراز خاصے اضطراب انگیز رہے ہیں تاہم افغان قیادت کی پاکستان دشمنی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ فوٹو: فائل
HYDERABAD/SUKKUR:
پاک فورسز نے پاکستانی چوکی پر افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کو علی الصبح افغانستان سے آنیوالے دہشتگردوں کی جانب سے سپن وام کے علاقے ڈنڈی کچھ میں فرنٹیئر کور کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس پرسیکیورٹی فورسز نے بھی بھر پور جوابی کارروائی کی، فائرنگ کا تبادلہ دیر تک رہا،جس میں 3 اہلکار شہید ہوگئے جب کہ11 حملہ آور مارے گئے ۔ فورسز نے ایک شدت پسندکو زندہ پکڑ لیا، دہشتگرد اپنے 3 ساتھیوں کی لاشیں چھوڑکرفرارہوگئے جنھیں فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پاکستانی چوکی پر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا حملہ ناقابل برداشت کھلی جارحیت ہے اور افغان حکام کی جانب سے صورتحال کو دانستہ سنگین تر بنانے کی سازش بھی۔لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ افغان سیاست و سماج میں پیداشدہ اضمحلال ، انتظامی و عسکری انتشار، طالبان، افغان اسٹبلشمنٹ کے درمیان مستقل جھڑپوں اور بدامنی و دہشت گردی کا گرداب اور نائن الیون کے بعد کا سیناریو اس قدر الجھا دینے والا ہے کہ افغان قیادت کبھی زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتی اور یہ اس کی تاریخی مخاصمت کا نتیجہ ہے کہ افغان سیاست کاروں حتیٰ کہ پاکستان کے خلاف اقدامات و جارحیت پر کرزئی انتظامیہ بھی اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہ لاسکی، وہی پاکستان کے خلاف مستقل الزام تراشی اور بہتان طرازی کا فرسودہ طریقہ کار جس نے خطے کی تعمیری سیاسی حرکیات کا مکمل ستیاناس کردیا اور امریکی سامراج کو افغان صورتحال کے گلے کا طوق بنا دیا۔
حالانکہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار کی ادائیگی کی یقین دہانی سمیت ہر تعمیری اقدام اور عالمی فورم پر امن کے قیام کے لیے پیش کی جانیوالی تجاویز کا ہمیشہ خیرمقدم کیا ۔ مگر بے سود ۔ وجہ افغان سیاسی طرز عمل میں ضد ، ہٹ دھرمی اور بلاوجہ الزام تراشی کا وتیرہ۔ چنانچہ اس ضمن میںوزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی وامورخارجہ سرتاج عزیز نے پاکستان کی چار دہائیوں کے بعد تبدیل ہونے والی افغان پالیسی پر مبنی بہترین انداز نظر پیش کیا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کو ''سیاسی حربے''کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات غلط ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، انھوں نے ''ایکسپریس'' سے گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی سے متعلق پاکستان کا بڑا واضح موقف ہے، ہم ہر طرح کی دہشتگردی کو مسترد کرتے ہیں، شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پاکستان کے اس عزم کا واضح ثبوت اورآئینہ دار ہے ، ہم بلاامتیاز دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی پر بعض افغان حکام کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کیخلاف لڑنے والے عسکریت پسندوںکی معاونت کے الزامات صریحاً حقائق کے منافی ہیں ، ہم سمجھتے ہیں افغانستان کی صورتحال کا کوئی فوجی حل نہیں ، اس مسئلہ کے حل کے لیے تمام افغان ''اسٹیک ہولڈرز'' کے درمیان مصالحتی عمل کے ذریعے پرامن حل نکالاجایا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بھی ایک بیان میں پاکستان پر افغان قومی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ کے الزامات پرافسوس ظاہر کرتے ہوئے زمینی حقائق سے جڑے ہوئے پاکستانی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خطرے سے باہمی تعاون سے نمٹا جاسکتا ہے جس کے لیے افغان حکام سرحد پار تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہیں ختم کرنے اور وہاں پناہ لینے والے دہشتگردوں کی حوالگی کے اقدامات کریں، دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات خطے میں پائیدار امن ، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔
ان حقائق کے پیش نظر افغانستان کی قیادت کو زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا، دنیا کے تھنک ٹینکوں کی تیار کردہ متعدد رپورٹس کا نچوڑ یہی ہے کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی افغان انتظامیہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی، بعض رپورٹس میں بدامنی اور انتخابات کے بعد انتظامی سقوط تک کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ کابل کی داخلی حالیہ صورتحال سخت اندوہ ناک ہے جہاں منگل کو طالبان کے خودکش حملے میں 2 امریکیوں سمیت 3 اتحادی فوجی ہلاک اور 5 فوجیوں سمیت 20 افراد زخمی ہوگئے۔
ایک طالبان خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار نیٹو کے فوجی قافلے سے ٹکرا دی جس سے بڑا زور دار دھماکا ہوا، امریکی وزارت دفاع کے ترجمان اور ایساف نے بھی خود کش حملے میں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ، طالبان نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی ہے ۔ دریں اثنا افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز نے آپریشن میں مزید 60 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاریخی تناظر میں پاک افغان تعلقات کے نشیب وفراز خاصے اضطراب انگیز رہے ہیں تاہم افغان قیادت کی پاکستان دشمنی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی، صدر کرزئی بھی اپنے پورے دورانیے میں ''صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں'' جیسی دوعملی کے بھنور میں پھنسے رہے، کبھی پاکستان کا دم بھرتے اور جہاں کہیں موقع ملتا پیٹھ پیچھے برا بھلا کہتے، جب کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کو ہمیشہ خطے کے مفاد میں سمجھا،اور اس کی کوشش رہی ہے کہ امریکا سمیت دیگر عالمی قوتوں کو افغان مسئلہ کا غیر فوجی حل تلاش کرنا چاہیے۔
افغانستان کو ابھی مکمل طور پر داخلی بحران سے نکلنا اور ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونا ہے ۔ یہ راستہ دشوار بھی ہے اور صبر آزما بھی ۔ اس لیے افغان حکام کو کشادہ نظری ،عالمی وژن اور پاک افغان تعلقات کے حوالہ سے امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال پر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک نئی قیادت افغان سماج کی ضرورت بھی ہے جب کہ مجبور و مظلوم افغان عوام کو جنگ، دہشت گردی، غربت، پسماندگی اور بربادی سے ماورا آسودہ و پر امن زندگی گزارنے کا حق بھی ملنا چاہیے، تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام اور نئے خیالات و تعمیری عزائم کے ساتھ پرانے طرز عمل سے جان چھڑا کر دوستی اور خیرسگالی کے نئے دو طرفہ سفر کا آغاز کیا جائے ۔
پاک فورسز نے پاکستانی چوکی پر افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگل کو علی الصبح افغانستان سے آنیوالے دہشتگردوں کی جانب سے سپن وام کے علاقے ڈنڈی کچھ میں فرنٹیئر کور کی چوکی پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس پرسیکیورٹی فورسز نے بھی بھر پور جوابی کارروائی کی، فائرنگ کا تبادلہ دیر تک رہا،جس میں 3 اہلکار شہید ہوگئے جب کہ11 حملہ آور مارے گئے ۔ فورسز نے ایک شدت پسندکو زندہ پکڑ لیا، دہشتگرد اپنے 3 ساتھیوں کی لاشیں چھوڑکرفرارہوگئے جنھیں فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
پاکستانی چوکی پر افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کا حملہ ناقابل برداشت کھلی جارحیت ہے اور افغان حکام کی جانب سے صورتحال کو دانستہ سنگین تر بنانے کی سازش بھی۔لیکن بدنصیبی یہ ہے کہ افغان سیاست و سماج میں پیداشدہ اضمحلال ، انتظامی و عسکری انتشار، طالبان، افغان اسٹبلشمنٹ کے درمیان مستقل جھڑپوں اور بدامنی و دہشت گردی کا گرداب اور نائن الیون کے بعد کا سیناریو اس قدر الجھا دینے والا ہے کہ افغان قیادت کبھی زمینی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتی اور یہ اس کی تاریخی مخاصمت کا نتیجہ ہے کہ افغان سیاست کاروں حتیٰ کہ پاکستان کے خلاف اقدامات و جارحیت پر کرزئی انتظامیہ بھی اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہ لاسکی، وہی پاکستان کے خلاف مستقل الزام تراشی اور بہتان طرازی کا فرسودہ طریقہ کار جس نے خطے کی تعمیری سیاسی حرکیات کا مکمل ستیاناس کردیا اور امریکی سامراج کو افغان صورتحال کے گلے کا طوق بنا دیا۔
حالانکہ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار کی ادائیگی کی یقین دہانی سمیت ہر تعمیری اقدام اور عالمی فورم پر امن کے قیام کے لیے پیش کی جانیوالی تجاویز کا ہمیشہ خیرمقدم کیا ۔ مگر بے سود ۔ وجہ افغان سیاسی طرز عمل میں ضد ، ہٹ دھرمی اور بلاوجہ الزام تراشی کا وتیرہ۔ چنانچہ اس ضمن میںوزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی وامورخارجہ سرتاج عزیز نے پاکستان کی چار دہائیوں کے بعد تبدیل ہونے والی افغان پالیسی پر مبنی بہترین انداز نظر پیش کیا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کو ''سیاسی حربے''کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات غلط ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، انھوں نے ''ایکسپریس'' سے گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی سے متعلق پاکستان کا بڑا واضح موقف ہے، ہم ہر طرح کی دہشتگردی کو مسترد کرتے ہیں، شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پاکستان کے اس عزم کا واضح ثبوت اورآئینہ دار ہے ، ہم بلاامتیاز دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آئی ایس آئی پر بعض افغان حکام کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز کیخلاف لڑنے والے عسکریت پسندوںکی معاونت کے الزامات صریحاً حقائق کے منافی ہیں ، ہم سمجھتے ہیں افغانستان کی صورتحال کا کوئی فوجی حل نہیں ، اس مسئلہ کے حل کے لیے تمام افغان ''اسٹیک ہولڈرز'' کے درمیان مصالحتی عمل کے ذریعے پرامن حل نکالاجایا جا سکتا ہے۔
دریں اثناء دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بھی ایک بیان میں پاکستان پر افغان قومی سلامتی کونسل اور وزارت خارجہ کے الزامات پرافسوس ظاہر کرتے ہوئے زمینی حقائق سے جڑے ہوئے پاکستانی موقف کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خطرے سے باہمی تعاون سے نمٹا جاسکتا ہے جس کے لیے افغان حکام سرحد پار تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہیں ختم کرنے اور وہاں پناہ لینے والے دہشتگردوں کی حوالگی کے اقدامات کریں، دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات خطے میں پائیدار امن ، استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔
ان حقائق کے پیش نظر افغانستان کی قیادت کو زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا، دنیا کے تھنک ٹینکوں کی تیار کردہ متعدد رپورٹس کا نچوڑ یہی ہے کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی افغان انتظامیہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی، بعض رپورٹس میں بدامنی اور انتخابات کے بعد انتظامی سقوط تک کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ کابل کی داخلی حالیہ صورتحال سخت اندوہ ناک ہے جہاں منگل کو طالبان کے خودکش حملے میں 2 امریکیوں سمیت 3 اتحادی فوجی ہلاک اور 5 فوجیوں سمیت 20 افراد زخمی ہوگئے۔
ایک طالبان خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار نیٹو کے فوجی قافلے سے ٹکرا دی جس سے بڑا زور دار دھماکا ہوا، امریکی وزارت دفاع کے ترجمان اور ایساف نے بھی خود کش حملے میں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ، طالبان نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی ہے ۔ دریں اثنا افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز نے آپریشن میں مزید 60 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاریخی تناظر میں پاک افغان تعلقات کے نشیب وفراز خاصے اضطراب انگیز رہے ہیں تاہم افغان قیادت کی پاکستان دشمنی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی، صدر کرزئی بھی اپنے پورے دورانیے میں ''صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں'' جیسی دوعملی کے بھنور میں پھنسے رہے، کبھی پاکستان کا دم بھرتے اور جہاں کہیں موقع ملتا پیٹھ پیچھے برا بھلا کہتے، جب کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کو ہمیشہ خطے کے مفاد میں سمجھا،اور اس کی کوشش رہی ہے کہ امریکا سمیت دیگر عالمی قوتوں کو افغان مسئلہ کا غیر فوجی حل تلاش کرنا چاہیے۔
افغانستان کو ابھی مکمل طور پر داخلی بحران سے نکلنا اور ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہونا ہے ۔ یہ راستہ دشوار بھی ہے اور صبر آزما بھی ۔ اس لیے افغان حکام کو کشادہ نظری ،عالمی وژن اور پاک افغان تعلقات کے حوالہ سے امریکی انخلا کے بعد کی صورتحال پر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک نئی قیادت افغان سماج کی ضرورت بھی ہے جب کہ مجبور و مظلوم افغان عوام کو جنگ، دہشت گردی، غربت، پسماندگی اور بربادی سے ماورا آسودہ و پر امن زندگی گزارنے کا حق بھی ملنا چاہیے، تاکہ خطے میں مستقل امن کے قیام اور نئے خیالات و تعمیری عزائم کے ساتھ پرانے طرز عمل سے جان چھڑا کر دوستی اور خیرسگالی کے نئے دو طرفہ سفر کا آغاز کیا جائے ۔