نئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر
لاکھوں کیوسک سیلابی کارآمد پانی سمندر میں جاگرتا ہے اور ہم برس دوبرس کے بعد ’قدرتی آفت زدہ‘ قوم کی صورت میں کھلے۔۔۔
لاکھوں کیوسک سیلابی کارآمد پانی سمندر میں جاگرتا ہے اور ہم برس دوبرس کے بعد ’قدرتی آفت زدہ‘ قوم کی صورت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوتے ہیں۔ فوٹو: فائل
دریاؤں کے آس پاس آباد انسانوں کی بستیاں، تمدن اور ثقافت کی علامت ہوتی ہیں، دریا کھیتوں کو سیراب کرکے خوشحالی لاتے اور جب بپھرنے پر آتے ہیں توسب کچھ خس وخاشاک کی طرح بہا لے جاتے ہیں، دریا انسان کے دوست بھی ہیں اور دشمن بھی۔ پاکستان کے سوا خطے کے دیگر ممالک نے دریاؤں پر بند باندھ کر اور سیکڑوں ڈیمز بنا کر ان کو مکمل قابو میں کرکے انسان دوست بنا لیا ہے۔
پن بجلی سے سستی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں اور ڈیمز میں ذخیرہ شدہ پانی سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ ہمارے شہر اور بستیاں باربار 'دلی' کی طرح اجڑتی ہیں ۔ پنجاب میں سیلابی ریلا تباہی مچانے کے بعد دریائے سندھ میں شامل ہونا شروع ہوگیا ہے جہاں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ سیکڑوں دیہات تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے اور متعدد تاحال زیرآب ہیں۔
پنجاب میں سیلاب متاثرین کی مجموعی تعداد 22 لاکھ 27 ہزار 271 ہے۔ ملک میں توانائی کا شدید ترین بحران ہے، لاکھوں کیوسک سیلابی کارآمد پانی سمندر میں جاگرتا ہے اور ہم برس دوبرس کے بعد 'قدرتی آفت زدہ' قوم کی صورت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوتے ہیں۔ حکومت کو نئے ڈیمز کی تعمیر پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف توانائی کا بحران حل ہو بلکہ سیلابوں کی تباہ کاری سے نجات مل سکے۔
پن بجلی سے سستی ترین بجلی پیدا کرتے ہیں اور ڈیمز میں ذخیرہ شدہ پانی سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ ہمارے شہر اور بستیاں باربار 'دلی' کی طرح اجڑتی ہیں ۔ پنجاب میں سیلابی ریلا تباہی مچانے کے بعد دریائے سندھ میں شامل ہونا شروع ہوگیا ہے جہاں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ سیکڑوں دیہات تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے اور متعدد تاحال زیرآب ہیں۔
پنجاب میں سیلاب متاثرین کی مجموعی تعداد 22 لاکھ 27 ہزار 271 ہے۔ ملک میں توانائی کا شدید ترین بحران ہے، لاکھوں کیوسک سیلابی کارآمد پانی سمندر میں جاگرتا ہے اور ہم برس دوبرس کے بعد 'قدرتی آفت زدہ' قوم کی صورت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہوتے ہیں۔ حکومت کو نئے ڈیمز کی تعمیر پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف توانائی کا بحران حل ہو بلکہ سیلابوں کی تباہ کاری سے نجات مل سکے۔