سیاسی ڈیڈ لاک بدستور موجود

دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی جرگہ کیا کام کرتا ہے ...

دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی جرگہ کیا کام کرتا ہے. فوٹو: ایکسپریس نیوز /فائل

WASHINGTON:
اسلام آباد میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری دھرنوں سے جو سیاسی بحران پیدا ہوا ہے' وہ ابھی تک جوں کا توں موجود ہے۔ درمیان میں ایسے مرحلے آتے رہے جب یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید یہ بحران حل ہو جائے لیکن بعد میں صورت حال پھر وہیں پر آ گئی جہاں پہلے سے موجود تھی کیونکہ فریقین کسی حل پر نہیں پہنچ سکے۔

پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری بدستور دھرنا دیے ہوئے ہیں' اب یہ معاملہ جس مرحلے میں داخل ہو گیا ہے' وہ ملک و قوم کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن رہا ہے اور عوام میں بھی مایوسی پیدا ہورہی ہے لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے جلد از جلد پرامن انداز میں طے کیا جائے تاکہ ملک میں اطمینان اور سکون کی لہر پیدا ہو سکے۔ گزشتہ روز سیاسی جرگہ نے بھی دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی ہے' انھوں نے حکومت کے حوالے سے بھی بعض تجاویز دی ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ سیاسی جرگہ کیا کام کرتا ہے' اس کی بات مانی جاتی ہے یا رد کر دی جاتی ہے۔ ادھر حکومت سے متعلقہ شخصیات اور دھرنا دینے والوں کے بیانات'تقاریر اور مطالبات سے یہی لگتا ہے کہ کوئی بھی فریق لچک پر آمادہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ڈیڈ لاک بدستور برقرار ہے۔

اگلے روز پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں سگری میں تیل و گیس کے کنویں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے موجودہ بحران کے حوالے سے کہا کہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام نے انھیں وزیراعظم منتخب کیا ہے، 5 ہزار افراد کی خواہش پر استعفیٰ کیسے دے دوں، راستے اور سڑکیں صاف کرنا مشکل کام نہیں لیکن حکومت تحمل سے کام لے رہی ہے، پوری قوم جمہوری سفر پر کاربند رہنے کا پختہ عزم رکھتی ہے لیکن کچھ لوگ منفی سیاست کر رہے ہیں جس سے قومی ترقی کو خطرہ لاحق ہے۔


انھوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ انتخابات میں اگر کہیں دھاندلی ہوئی ہے تو ان سے پوچھا جائے جو اس کے ذمے دار ہیں۔ انتخابات ہماری حکومت نے نہیں کرائے نہ ہی ہم نے نگران حکومتیں قائم کی تھیں۔ پوری قوم ایک طرف اور چند ہزار لوگ دوسری طرف، پوری پارلیمنٹ ایک طرف اور ایک جماعت دوسری طرف ہے۔ عام انتخابات 2013 میں دھاندلی کے ذمے دار نہیں کیونکہ اس وقت بنائی جانے والی عبوری حکومت کا مسلم لیگ (ن)سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے یاد دلایا کہ عام انتخابات 2008 کے بارے میں بعض تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے ملک میں جمہوریت کے تسلسل کی خاطر نتائج کو قبول کیا تھا۔

2008کے انتخابات میں ہمارے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے لیکن ہم نے دھاندلی کا رونا نہیں رویا۔ادھر اخباری اطلاع کے مطابق الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حلقے این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کے معائنے کی اجازت دیدی۔ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس انور ظہیر جمالی کی زیرصدارت اجلاس میں انتخابی عذرداریوں اور الیکشن ٹریبونل سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی جوائنٹ الیکشن کمشنرکی زیر نگرانی مذکورہ حلقے کے بیلٹ پیپرز کی کائونٹر فائل اور ووٹر لسٹوں کے مطابق حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کا معائنہ کیا جائے گا، عام انتخابات میں عمران خان اور ایاز صادق این اے 122میں مد مقابل تھے، عمران کو شکست ہوئی تھی جس پرانھوں نے دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ اجلاس میں انتخابات 2013 کا چاروں صوبوں میں موجود تمام ریکارڈ بھی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیاتاہم قائم مقام چیف الیکشن کمشنر نے عمران خان کی جانب سے انتخابات میں ریٹرننگ افسران کی تقرری اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری پر لگائے گئے الزامات کو مستردکر دیا۔

اس ساری صورت حال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اپنے مینڈیٹ کے حوالے سے واضح ہے اور وہ انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے تحریک انصاف کے مطالبے سے متفق نہیں ہے' ادھر پاکستان عوامی تحریک کے اپنے مطالبات ہیں' یوں دیکھا جائے تو ایک جانب دھرنے ہیں' دوسری جانب بعض انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی جانچ پڑتال بھی ہو رہی ہے' یوں صورتحال خاصی پیچیدہ ہے' ایسے حالات میں سیاسی قیادت کو چاہیے تو یہ ہے کہ وہ اس بحران کو جلد از جلد طے کرے کیونکہ ان دھرنوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب ہو رہا ہے۔

چین کے صدر کا دورہ منسوخ ہو چکا ہے اور وہ سری لنکا کے دورے کے بعد بھارت آ چکے ہیں' چین کے صدر کے دورہ پاکستان کی منسوخ سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں گیا۔ اب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جانا ہے' لہٰذا وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام آباد میں جاری دھرنوں کو کسی آبرو مندانہ طریقے سے ہٹایا جائے۔ یہ کام سیاسی قیادت کا ہے اور اسے ہی کرنا ہے۔ جتنی تاخیر ہوتی جائے گی' اتنا ہی نقصان بڑھتا جائے گا۔
Load Next Story