سیاسی بحران کے باعث ایکسپو پاکستان 3 ماہ کیلئے موخر کردی ایس ایم منیر

موجودہ حالات میں غیرملکی فرمز و سرمایہ کار شرکت سے ہچکچا رہے ہیں، ظہرانے سے خطاب

بھارت میں نمائش سے 3.5 کروڑ کا منافع، فوڈ ایکسپورٹ پر 6 فیصد آر اینڈ ڈی کیلیے کام کا یقین دلایا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے دھرنوں سے بیرونی دنیا میں پہنچنے والے منفی پیغام کی وجہ سے ایکسپو پاکستان نمائش 3 ماہ کے لیے موخر کردی گئی ہے کیونکہ دنیا بھر میں 90 فیصد سفارتخانوں کے کمرشل اتاشیوں نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے غیرملکی کمپنیاں اور سرمایہ کار ایکسپو پاکستان میں شرکت سے ہچکچارہے ہیں۔

فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے ظہرانے سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا تاثر بہت خراب ہوا اورغیرملکی سفارت خانوں سے ویزوں کے اجرا میں بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں، تاجر برادری ان دھرنوں کے خلاف ہے کیونکہ اس سے ملک کو معاشی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی ایکسپوسینٹر میں 4 روزہ ایکسپو پاکستان 22 اکتوبر سے شروع ہونے والی تھی جسے اب 3 ماہ کے لیے موخر کردیا گیا ہے۔


ایس ایم منیر کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں 'عالیشان پاکستان' نمائش سے ٹی ڈیپ کو 3.5 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے، اس مرتبہ انتظامی اخراجات 80 فیصد کم کیے گئے، نمائش میں 15 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی اور بھارتی شہریوں نے پاکستان مصنوعات کی قطار میں لگ کر خریداری کی، اس نمائش کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر پاک بھارت تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

عالیشان پاکستان نمائش کو بھارتی تاجروں، صنعت کاروں اور عوام میں زبردست پزیرائی ملی مگر بھارت کے اعلیٰ سرکاری حکام نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جس کے بارے میں بھارت کی اعلی بیوروکریسی کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے کیونکہ پاکستان میں جب بھی بھارت کی نمائش ہوئی اسے حکومتی سطح پر پزیرائی دی گئی مگربھارت کا حالیہ رویہ اس کے برعکس تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عالیشان پاکستان نمائش کی رپورٹ جلد وزیر اعظم کو پیش کردی جائے گی۔ انہوں نے کراچی کے حالات دوبارہ بگڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو برآمدات کیسے بڑھائی جاسکیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ زیر التوا سیلز ٹیکس ریفنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک کے لیے ٹی ڈیپ سنجیدگی سے کام کر رہی ہے کیونکہ ریفنڈ کی مستقل عدم ادائیگی اور طریقہ کار سے برآمدات میں اضافہ مشکل ہے۔ انہوں نے فوڈ ایکسپورٹرز کے لیے 6 فیصد ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی ادائیگی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنے کا یقین دلایا۔ فباٹی کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ ٹی ڈیپ آئندہ نمائشوں میں پاکستانی فوڈ سیکٹر کے لیے علیحدہ پویلین قائم کرنے کی منصوبہ بندی کرے، اس موقع پر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ فیروز عالم لاری، محمد عرفان اصلی پری، مسرور علوی، ریحان ذیشان، سینیٹر عبدالحسیب خان، منیر سلطان، ادریس گیگی، خالد تواب اور میاں زاہد حسین بھی موجود تھے۔
Load Next Story