قومی ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں ٹیموں کے انتخاب میں اقربا پروری کا انکشاف

بیٹے، بھائی، بھتیجے ومن پسند کرکٹرز کی جگہ بنانے کیلیے باصلاحیت کھلاڑی نظر انداز

بیٹے، بھائی، بھتیجے ومن پسند کرکٹرز کی جگہ بنانے کیلیے باصلاحیت کھلاڑی نظر انداز۔ فوٹو: فائل

KABUL:
قومی ٹوئنٹی20 کرکٹ ٹورنامنٹ کیلیے ٹیموں کے انتخاب میں اقربا پروری کا انکشاف ہوا ہے، بیٹے، بھائی، بھتیجے اور من پسند کرکٹرز کی جگہ بنانے کیلیے کئی باصلاحیت کھلاڑی نظر انداز کردیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں جاری ایونٹ میں 16 ریجنز کی 18 ٹیمیں شریک ہیں،اسلام آباد ریجن کے صدر اور پی سی بی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ شکیل شیخ کا بیٹا معید احمد لیپرڈز ٹیم میں شامل ہے، نوجوان بیٹسمین نے گذشتہ سال ٹوئنٹی 20 ٹورنامنٹ کے 2 میچز میں صرف 5 رنز بنائے تھے،گذشتہ ایونٹ کے 5 مقابلوں میں 40 رنز بنانے کے ساتھ 6 وکٹیں لینے والے شکیل شیخ کے بھتیجے زوہیب احمد بھی اسلام آباد ٹیم کا حصہ ہیں، عمر گل ٹیم کے قائد اور انھیں شان مسعود کی خدمات بھی حاصل ہیں۔


لاہور سے تعلق رکھنے والے سابق انڈر19 کپتان بابر اعظم کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، ماضی میں سیالکوٹ اسٹالینز اور راولپنڈی ریمز کی نمائندگی کرنے والے اسپنر رضا حسن کو بھی اسلام آباد ٹیم میں جگہ فراہم کردی گئی۔ آسٹریلوی فرنچائز ہوبارٹ کی طرف سے چیمپئنز لیگ ٹوئنٹی 20 لیگ میں شریک شعیب ملک کی جگہ قیادت سنبھالنے والے عبدالرحمان کے فاسٹ بولر بھائی عمران ملک کو بھی سیالکوٹ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔

کراچی نے ون ڈے کپ جیتنے والی ڈولفنز ٹیم کے کپتان آصف ذاکر کو حیران کن طور پر کسی اسکواڈ کے قابل نہیں سمجھا۔ ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ انتخاب عالم سے سوال کیا گیا کہ ایک ریجنل ٹیم میں 2 مہمان کرکٹرز کو کھلانے کی پالیسی ہونے کے باوجود عمرگل، شان مسعود، بابر اعظم اور رضا حسن کو اسلام آباد کی نمائندگی کی اجازت کیوں دی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے ریجنز پر بھی منحصر ہوتے ہیں، بعض اوقات موقع کی مناسبت سے کھلاڑیوں کو اسکواڈز میں شامل کرنا پڑ جاتا ہے۔
Load Next Story