آئی سی سی صنفی امتیاز برتنے کے الزام کی زد میں آگئی
ورلڈکپ میں مرد پلیئرزکا 100 ڈالر یومیہ الائونس، ویمنز کرکٹرز کیلیے 60 ڈالر
ورلڈکپ میں مرد پلیئرزکا 100 ڈالر یومیہ الائونس، ویمنز کرکٹرز کیلیے 60 ڈالر۔ فوٹو: اے ایف پی
ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران آئی سی سی صنفی امتیاز برتنے کے الزام کی زد میں آگئی۔
ایک ہی جیسے ایونٹ میں مردوں اور خواتین کے معاوضوں میں زمین آسمان کا فرق ہے.
مرد کھلاڑیوں کو یومیہ الائونس کی مد میں 100 جبکہ ویمنز کرکٹرز کو 60 ڈالر دیے جاتے ہیں، ٹورنامنٹ میں شرکت فیس اور انعامی رقم میں لاکھوں ڈالر کا فرق ہے.
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ویمنز کرکٹ کیلیے ناکافی فنڈز تفریق کی وجہ بنے۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت سری لنکا میں مردوں کے ساتھ ویمنز کا ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ بھی جاری ہے، مگر دونوں کے معاوضوں اور انعامات میں بہت زیادہ فرق ہے.
آئی سی سی کی جانب سے ایونٹ میں شریک مرد کھلاڑیوں کو یومیہ الائونس کی مد میں 100 ڈالر دیے جاتے جبکہ خواتین کرکٹرز کو فی کس 60 ڈالر ملتے ہیں۔ انعامی رقم اور شرکت فیس میں تو فرق انتہائی زیادہ ہے.
مرد ٹیموں کو ایونٹ میں شرکت کیلیے 2.75 ملین ڈالر ملیں گے جبکہ خواتین ٹیموں کو ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر پر ہی گزارا کرنا پڑے گا، اسی طرح مینز ایونٹ کی فاتح ٹیم کو انعامی رقم کی مد میں 10 لاکھ ڈالر ملیں گے جبکہ خواتین چیمپئنز کے پاس صرف 60 ہزار ڈالر آئیں گے۔
یہ ایک حقیقت کہ نشریاتی ڈیل سے حاصل ہونے والی رقم مردوں کے ایونٹ کیلیے آتی اور انہی کو سب سے زیادہ اسپانسرشپ ملتی ہے، اس لیے شرکت فیس اور انعامی رقم میں فرق قابل فہم لگتا ہے.
البتہ ڈیلی الائونس میں آئی سی سی کی جانب سے مردوں اور خواتین کرکٹرز میں رکھا جانے والا 40 ڈالر کا فرق سمجھ سے بالاتر ہے، سری لنکا کے ریسٹورینٹس میں کسی بھی ڈش کیلیے مردوں یا عورتوں کیلیے الگ الگ نرخ نہیں ہیں، خاتون کرکٹر کو بھی فش فرائی یا برگر اتنے میں ہی ملے گا جتنے میں مرد کھلاڑی خریدے گا۔
دوسری جانب آئی سی سی کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اس فرق کو ختم تو کرنا چاہتے ہیں مگر ویمنز کرکٹ کیلیے دستیاب فنڈز ناکافی ہیں،ہم خواتین کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کو بھی مرد کھلاڑیوں کے مساوی مراعات دی جا سکیں۔
ایک ہی جیسے ایونٹ میں مردوں اور خواتین کے معاوضوں میں زمین آسمان کا فرق ہے.
مرد کھلاڑیوں کو یومیہ الائونس کی مد میں 100 جبکہ ویمنز کرکٹرز کو 60 ڈالر دیے جاتے ہیں، ٹورنامنٹ میں شرکت فیس اور انعامی رقم میں لاکھوں ڈالر کا فرق ہے.
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ویمنز کرکٹ کیلیے ناکافی فنڈز تفریق کی وجہ بنے۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت سری لنکا میں مردوں کے ساتھ ویمنز کا ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ بھی جاری ہے، مگر دونوں کے معاوضوں اور انعامات میں بہت زیادہ فرق ہے.
آئی سی سی کی جانب سے ایونٹ میں شریک مرد کھلاڑیوں کو یومیہ الائونس کی مد میں 100 ڈالر دیے جاتے جبکہ خواتین کرکٹرز کو فی کس 60 ڈالر ملتے ہیں۔ انعامی رقم اور شرکت فیس میں تو فرق انتہائی زیادہ ہے.
مرد ٹیموں کو ایونٹ میں شرکت کیلیے 2.75 ملین ڈالر ملیں گے جبکہ خواتین ٹیموں کو ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر پر ہی گزارا کرنا پڑے گا، اسی طرح مینز ایونٹ کی فاتح ٹیم کو انعامی رقم کی مد میں 10 لاکھ ڈالر ملیں گے جبکہ خواتین چیمپئنز کے پاس صرف 60 ہزار ڈالر آئیں گے۔
یہ ایک حقیقت کہ نشریاتی ڈیل سے حاصل ہونے والی رقم مردوں کے ایونٹ کیلیے آتی اور انہی کو سب سے زیادہ اسپانسرشپ ملتی ہے، اس لیے شرکت فیس اور انعامی رقم میں فرق قابل فہم لگتا ہے.
البتہ ڈیلی الائونس میں آئی سی سی کی جانب سے مردوں اور خواتین کرکٹرز میں رکھا جانے والا 40 ڈالر کا فرق سمجھ سے بالاتر ہے، سری لنکا کے ریسٹورینٹس میں کسی بھی ڈش کیلیے مردوں یا عورتوں کیلیے الگ الگ نرخ نہیں ہیں، خاتون کرکٹر کو بھی فش فرائی یا برگر اتنے میں ہی ملے گا جتنے میں مرد کھلاڑی خریدے گا۔
دوسری جانب آئی سی سی کی خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اس فرق کو ختم تو کرنا چاہتے ہیں مگر ویمنز کرکٹ کیلیے دستیاب فنڈز ناکافی ہیں،ہم خواتین کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کو بھی مرد کھلاڑیوں کے مساوی مراعات دی جا سکیں۔