اسکاٹ لینڈ میں پر امن استصواب رائے
اعداد وشمار کے مطابق انگلینڈ کے ساتھ رہنے کے حق میں 55.3 فیصد افراد نے رائے دی جب کہ علیحدگی طلب کرنے والوں کی شرح۔۔۔
اعداد وشمار کے مطابق انگلینڈ کے ساتھ رہنے کے حق میں 55.3 فیصد افراد نے رائے دی جب کہ علیحدگی طلب کرنے والوں کی شرح 44.7 فیصد رہی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
یو کے یعنی یونائٹڈ کنگڈم، جس میں صدیوں سے اسکاٹ لینڈ اور منقسم آئر لینڈ برطانیہ کے ساتھ شامل ہیں وہاں اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ سے علیحدگی کی تحریک جاری تھی جس کے فیصلے کے لیے تاریخ ساز قومی ریفرنڈم کا انعقاد 19 ستمبر جمعہ کے روز کرایا گیا۔ ریفرنڈم میں اسکاٹ لینڈ کے شہریوں کی اکثریت نے علیحدگی کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے انگلستان کے ساتھ شامل رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق علیحدگی کے خلاف یعنی انگلینڈ کے ساتھ رہنے کے حق میں 55.3 فیصد افراد نے رائے دی جب کہ علیحدگی طلب کرنے والوں کی شرح 44.7 فیصد رہی۔ گو کہ ان دونوں مکاتب فکر کی حمایت کرنے والوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں جس سے امکان ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایک بار پھر اس معرکے کی بازگشت سنائی دینے لگے تاہم وقتی طور پر اسکاٹوں نے تاج برطانیہ سے وفادارانہ وابستگی کو ہی اپنے لیے سود مند محسوس کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کے نتیجے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اگر ہماری یونائٹڈ کنگڈم ختم ہو جاتی تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔ واضح رہے اگر اسکاٹ لینڈ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتا تو ڈیوڈ کیمرون کا منصب بھی قائم نہ رہتا۔ تاہم اب برطانوی حکومت کو اسکاٹ لینڈ کو زیادہ اختیارات اور زیادہ خود مختاری دینا پڑے گی جس کا کہ ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انگلینڈ ٹوٹنے سے بچ گیا، اسکاٹ لینڈ میں ہونیوالے ریفرنڈم میں ووٹروں سے سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا اسکاٹ لینڈ کو آزاد ملک ہونا چاہیے یا برطانیہ کا حصہ رہنا چاہیے، اس پر ووٹرز کو 'ہاں' یا 'نہ' میں جواب دینا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے کہا کہ وہ لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔
دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ پورا کرے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ایک مثال ہے، کشمیر کا مسئلہ بھی اسی طرح پر امن طریقے سے حل ہو سکتا ہے۔ حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کو برطانیہ سے سبق سیکھنا چاہیے اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ ادھر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی رائے شماری سے کشمیر میں رائے شماری کی راہ ہموار ہو گی۔
اسکاٹ لینڈ میں جو ریفرنڈم ہوا ہے، وہ دراصل جمہوریت کی فتح ہے۔ عوام کی اکثریت نے فیصلہ دیا اور اقلیت نے اسے خوش دلی سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہی جمہوری رویہ ہے جس سے جمہوری نظام مضبوط و مستحکم ہوتا ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے اس ریفرنڈم میں کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم کا نتیجہ کیوں تسلیم ہوا؟ شکست کھانے والوں نے دھاندلی کا الزام کیوں نہیں لگایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ووٹ کاسٹ کرنے کا سسٹم انتہائی فول پروف ہے جس میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ڈالے گئے ووٹوں میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل ہو سکتا ہے۔ جب پولنگ کا نظام صاف و شفاف ہو گا تو ووٹرز کو پختہ یقین ہوگا کہ ان کے ساتھ دھاندلی نہیں ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ نتائج تسلیم کر لیتا ہے۔
پاکستان میں ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 1977ء میں تو دھاندلی کے خلاف تحریک چلی جس کے نتیجے میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اب بھی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں دھرنے بھی اس وجہ سے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے ریفرنڈم سے سبق سیکھا جائے اور پاکستان میں انتخابی طریقہ کار کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو آزاد و خودمختار بنایا جائے۔ اس طریقے سے ہی پاکستان میں جمہوریت استحکام حاصل کر سکتی ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق علیحدگی کے خلاف یعنی انگلینڈ کے ساتھ رہنے کے حق میں 55.3 فیصد افراد نے رائے دی جب کہ علیحدگی طلب کرنے والوں کی شرح 44.7 فیصد رہی۔ گو کہ ان دونوں مکاتب فکر کی حمایت کرنے والوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں جس سے امکان ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ایک بار پھر اس معرکے کی بازگشت سنائی دینے لگے تاہم وقتی طور پر اسکاٹوں نے تاج برطانیہ سے وفادارانہ وابستگی کو ہی اپنے لیے سود مند محسوس کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کے نتیجے زبردست خوشی کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ اگر ہماری یونائٹڈ کنگڈم ختم ہو جاتی تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔ واضح رہے اگر اسکاٹ لینڈ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتا تو ڈیوڈ کیمرون کا منصب بھی قائم نہ رہتا۔ تاہم اب برطانوی حکومت کو اسکاٹ لینڈ کو زیادہ اختیارات اور زیادہ خود مختاری دینا پڑے گی جس کا کہ ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انگلینڈ ٹوٹنے سے بچ گیا، اسکاٹ لینڈ میں ہونیوالے ریفرنڈم میں ووٹروں سے سوال پوچھا گیا تھا کہ کیا اسکاٹ لینڈ کو آزاد ملک ہونا چاہیے یا برطانیہ کا حصہ رہنا چاہیے، اس پر ووٹرز کو 'ہاں' یا 'نہ' میں جواب دینا تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے کہا کہ وہ لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔
دریں اثنا مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت بھی مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کا وعدہ پورا کرے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ایک مثال ہے، کشمیر کا مسئلہ بھی اسی طرح پر امن طریقے سے حل ہو سکتا ہے۔ حریت کانفرنس کے سینئر رہنما سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارت کو برطانیہ سے سبق سیکھنا چاہیے اور کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینے کا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔ ادھر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان برجیس طاہر نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی رائے شماری سے کشمیر میں رائے شماری کی راہ ہموار ہو گی۔
اسکاٹ لینڈ میں جو ریفرنڈم ہوا ہے، وہ دراصل جمہوریت کی فتح ہے۔ عوام کی اکثریت نے فیصلہ دیا اور اقلیت نے اسے خوش دلی سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہی جمہوری رویہ ہے جس سے جمہوری نظام مضبوط و مستحکم ہوتا ہے۔ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے اس ریفرنڈم میں کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم کا نتیجہ کیوں تسلیم ہوا؟ شکست کھانے والوں نے دھاندلی کا الزام کیوں نہیں لگایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ووٹ کاسٹ کرنے کا سسٹم انتہائی فول پروف ہے جس میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ڈالے گئے ووٹوں میں کسی قسم کا کوئی ردوبدل ہو سکتا ہے۔ جب پولنگ کا نظام صاف و شفاف ہو گا تو ووٹرز کو پختہ یقین ہوگا کہ ان کے ساتھ دھاندلی نہیں ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے وہ نتائج تسلیم کر لیتا ہے۔
پاکستان میں ہر الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 1977ء میں تو دھاندلی کے خلاف تحریک چلی جس کے نتیجے میں جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اب بھی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں دھرنے بھی اس وجہ سے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والے ریفرنڈم سے سبق سیکھا جائے اور پاکستان میں انتخابی طریقہ کار کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو آزاد و خودمختار بنایا جائے۔ اس طریقے سے ہی پاکستان میں جمہوریت استحکام حاصل کر سکتی ہے۔