افہام و تفہیم… دوسرا راستہ نہیں

ملک کے تمام جمہوریت پسند دھرنوں سے پیدا ہونے والے مسائل اور بحث کا ایک سادہ حل چاہتے ہیں اور وہ حل سیاسی بات چیت ہے

ملک کے تمام جمہوریت پسند دھرنوں سے پیدا ہونے والے مسائل اور بحث کا ایک سادہ حل چاہتے ہیں اور وہ حل سیاسی بات چیت ہے۔ فوٹو: فائل

پارلیمنٹ نے آئین کی حکمرانی، جمہوریت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے استحکام کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنوں سے ہونے والے قومی معیشت کے نقصان، چینی صدر سمیت اہم غیر ملکی شخصیات کے دوروں کی منسوخی، سیلاب اور آئی ڈی پی جیسے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی مذمت کی گئی ہے اور مسئلے کا بات چیت کے ذریعے پر امن حل نکالنے کے یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ تعمیری و صحت مند جمہوریت کا واضح اور بنیادی اصول کھلی بات چیت ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ حکومت مخالف جماعتوں سے کشادہ دلی کے ساتھ مکالمہ کے سوا اور کیا ہے۔ ایسی بات چیت کے مثبت نتائج بھی نکلتے ہیں اور فریقین کسی بڑے تصادم اور شو ڈاؤن کی بربادیوں سے خود کو نکال کر مفاہمت اور مصالحت کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں لیکن دھرنوں میں شامل دو سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا جو سلسلہ چلا وہ مایوسیوں کی نوید ہی دیتا رہا، جب کہ سیاست میں تصادم یا مار دھاڑ ناگزیر نہیں ہوتی اس کی پرورش خود وہی حکمراں اور سیاست دان کرتے ہیں جو معاملہ فہمی اور دور اندیشی کی دولت اور دل بینا سے محروم ہوتے ہیں۔

چنانچہ جمہوری اقدار و روایات پر کاربند جمہوری ملکوں میں آئینی، معاشی بحران، سماجی بدامنی، شورش، بغاوت، احتجاج اور خانہ جنگی کے خطرات یا امکانات کو جس چیز سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں وہ مذاکرات اور دو طرفہ بات چیت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں لہٰذا اس تناظر میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ قرارداد جمہوریت سے کمٹمنٹ کی غمازی کرتی ہے، اور خوش آئند ہے، مگر اتنا کافی نہیں، ہماری ملکی تاریخ، پارلیمان، صوبائی حکومتوں کو آج بڑے مسائل کا سامنا ہے، وقت کم ہے اور ملکی سلامتی سمیت انتظامی، اقتصادی، سماجی، سیاسی اور امن و امان کی بحالی کے کئی چیلنج اژدھوں کی طرح منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ انھیں زیر کرنا سیاسی قائدین اور اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

جمعہ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے ارکان کی عدم موجودگی میں وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قرار داد پیش کی کہ یہ ایوان غیر متزلزل اور واشگاف انداز میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ آئین کی حکمرانی، جمہوریت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے استحکام پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

ادھر وزیر اعظم نواز شریف نے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور اداروں کی مضبوطی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ترقی کا ہر راستہ آئین و قانون سے نکلے گا، وطن عزیز کو ایسا جنگل نہیں بننے دیں گے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چلے، منصب عوام کے مینڈیٹ سے سنبھالا ہے، کوئی کھیل تماشہ، کوئی فتنہ فساد، کوئی لانگ مارچ، شارٹ مارچ ہمیں ہمارے مشن سے نہیں ہٹا سکتا۔

وزیر اعظم کا عزم بلاشبہ ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالا ہے، ایک منتخب حکومت کے خاتمہ کا واحد راستہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ہے، کسی پر تشدد اور غیر آئینی طریقہ کار یا ایجی ٹیشن کی کوئی ذی شعور پاکستانی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی حکمرانوں کو پیدا شدہ صورتحال کی ذمے داری کا پورا ملبہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی یا دیگر حلقوں پر نہیں گرانا چاہیے، جمہوریت کی کشتی جس بھنور میں آج پھنسی ہے وہ طوفان کسی غیر ملکی ہاتھ یا خفیہ قوتوں کی تنہا کارستانی نہیں، بلکہ اس میں شامل وہ تمام اہل اقتدار ہیں جو سیاسی مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام رہے، ایک دیومالائی اسکرپٹ اور اس کے نامعلوم رائٹر کی جستجو میں میڈیا اور جمہوریت کی بے آبروئی کا سامان کر رہے ہیں۔


ملک کے تمام جمہوریت پسند دھرنوں سے پیدا ہونے والے مسائل اور بحث کا ایک سادہ حل چاہتے ہیں اور وہ حل سیاسی بات چیت ہے۔ اگر نمبر ٹو قیادت سے مذاکرات کاروں سے بات نہیں کرنی تو براہ راست عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کا راستہ ہموار کیا جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر ''روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں''۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پارلیمان نے لاقانونیت پھیلانے والوں کے ارادے ناکام بنا دیے ہیں اور وہ تنہا رہ گئے ہیں۔ یلغار کرنے والوں نے 18 کروڑ عوام کی توہین کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت بات چیت پر یقین رکھتی ہے، حکومت نے بات چیت کے لیے کمیٹیاں قائم کیں، خلوص دل سے بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام داخلی اور خارجی راستوں سمیت رابطہ سڑکوں پر ہفتہ کی شام سے رات گئے بدترین ٹریفک جام رہا اور گاڑیوں کی میلوں لمبی لائنیں لگی رہیں۔ جڑواں شہر میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر ایک دن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دھرنے کی نوبت ملکی صورتحال اور گڈ گورننس کے فقدان کا نتیجہ ہی تو ہے، بدامنی عام ہے۔ غربت بڑھی ہے۔

اگر عوام کو انصاف، ضروریات زندگی اور اقتصادی ثمرات ان کے گھر کی دہلیز پر ملتے رہتے تو کس کو پڑی ہے کہ وہ سخت گرمی، بارش اور سیلابی ریلوں کے باوجود ڈی چوک اور ریڈ زون میں ڈیرے ڈال دیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اس ضمن میں ایک تجزیہ اس انداز سے بھی میڈیا میں آیا ہے کہ ''موجودہ صورتحال کا آخر حل کیا ہے اور کس کے پاس ہے؟ یہ وہ سوال ہے عوام و خواص کے حلقوں میں جس کی بازگشت سنی جا سکتی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ حکومت پر گرتے گرتے رہ گیا، پارلیمنٹ میں اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں نے حکومت کو ایک بڑی مشکل سے نکال دیا۔

دوسری طرف دھرنے کو خاموش موت مارنے کی لانگ ٹرم پالیسی پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کو حکومتی حکمت عملی کی کامیابی کی امید نہیں مگر وہ اس کا کھل کر اظہار کر کے دھرنے والوں کو فائدہ بھی پہنچانا نہیں چاہتی۔ نئی صورت حال سے حکومت اور دھرنے والوں میں ''پہلے کون گرے گا'' کی اعصابی جنگ کا عملی آغاز ہو گیا۔'' اس جنگ کا دی اینڈ ہونا ناگزیر ہے۔

جگ ہنسائی ہو رہی ہے، دانا لوگ کہتے ہیں بات چیت ڈائیلاگ ہے، خود کلامی نہیں، حکومتی مشیروں اور مذاکرات کاروں میں اچھی گفتگو کا شاید کال پڑ گیا ہے، جب ہی تو کوئی صلح صفائی نہیں ہوئی۔ مگر اب بھی بات چیت کے پلوں کے نیچے سے زیادہ پانی نہیں گرزا۔ صدر مملکت، وزیر اعظم، وفاقی کابینہ، سینیٹرز اور تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر اس بحران کا حل نکالیں۔ خدانخواستہ وقت تیزی سے کسی نئے حادثہ کی خبر نہ دے دے۔ افہام و تفہیم سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔
Load Next Story