مانیٹری پالیسی کا اعلان
اقتصادی ترقی کی شرح نمو کو تیز کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورت حال بنیادی کردار ادا کرتی ہے
اقتصادی ترقی کی شرح نمو کو تیز کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورت حال بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ فوٹو فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آیندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری ملکی سیاسی بحران اور آنے والے بدترین سیلاب کے باعث معیشت کے لیے خطرات پیدا ہوئے ہیں جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب سے ملک میں دھرنوں اور مارچ کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے بعد منظر عام پر آنے والے معاشی اعدادوشمار بار بار یہ بتا رہے ہیں کہ ان سے ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، اندرونی سرمایہ کاری تو رہی ایک طرف بیرونی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی آ رہی ہے۔
دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ہے مگر سیاسی قیادت ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکی جو اس کی ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔ سیاسی قیادت کو اس مسئلے کے فوری حل کرنے کی جانب توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ بحران جتنا طویل ہوتا چلا جائے گا ملکی معیشت اتنی ہی زیادہ دبائو میں آتی چلی جائے گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ بدترین سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جو علاقے اس سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ زرعی لحاظ سے زیادہ زرخیز اور خوشحال ہیں۔ چاول اور کپاس کی فصلیں شدید طور پر متاثر ہونے سے جہاں ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی شعبہ گھاٹے میں رہے گا وہاں برآمدات بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر اشرف محمود وتھرا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حالیہ سیلاب سے خریف کی بعض فصلوں کو نقصان پہنچے گا اور غذائی اشیا کی سپلائی کا سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے، نقصانات کی پوری شدت سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، برآمدات اور درآمدات میں تازہ ترین رجحانات خصوصاً تیل کی ادائیگیوں کو مدنظر رکھا جائے تو تجارتی خسارہ بیرونی جاری کھاتے کے خسارے پر حاوی رہے گا خواہ ترسیلات زر میں بھرپور اضافہ ہو۔
مرکزی بینک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر بجلی پر سبسڈی کم کی گئی اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کیا گیا تو آٹھ فیصد گرانی ہدف سے بڑھ سکتی ہے' سیاسی تعطل' آئی ایم ایف کی قسط میں تاخیر اور سیلاب معاشی سرگرمی کے لیے خطرہ ہیں جو معاشی عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ توانائی کی مسلسل قلت ' کھاد کے پلانٹس کو گیس کی کم فراہمی اور برآمدات میں کمی معاشی نمو کو محدود کر سکتی ہے، اسی وجہ سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور نمو کا تسلسل اب زرعی پیداوار پر منحصر ہے۔
اسٹیٹ بینک نے جب اگست میں مالی سال کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی آئی اور اس کا ایکسچینج ریٹ 99 روپے پر پہنچ گیا اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں بھی بہتری آئی ہے مگر اب اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی کے مطابق ملک میں جاری سیاسی بحران اور حالیہ سیلاب کے باعث صورت حال میں تبدیلی آئی اور مالی سال کی پہلی ششماہی میں نجی شعبے کے قرضے میں اضافہ ہوا ہے، امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر بھی بڑھی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق مالی خسارہ کم رکھنے کے لیے ٹیکس اصلاحات ضروری ہیں۔ اسٹیٹ بینک ہر بار اپنی مانیٹری رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات بہتر بنانے پر زور دیتا ہے اور حکومت بھی اس معاملے پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے مگر معاملات ابھی تک جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ٹیکس کے شعبے میں بہتری لائی جائے تو حکومت کے مالی خسارے میں نمایاں کمی واقعہ ہو سکتی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ٹیکس چوری یا ٹیکس ادا نہ کرنے کی روایت پختہ ہو چکی ہے۔
حکومتی ارکان' بڑے بڑے سرمایہ کار اور کاروباری حضرات سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کی لعنت میں مبتلا ہیں جب تک اس کرپشن کا انسداد نہیں کیا جاتا تب تک کسی قسم کی ٹیکس اصلاحات معیشت میں مثبت نتائج نہیں لا سکتیں۔ ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں پاکستان میں پچاس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ہر سال اس کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت اقتصادی ترقی کے دعوے تو کرتی چلی آ رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچے۔
اقتصادی ترقی کی شرح نمو کو تیز کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورت حال بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو گزشتہ برس سیاسی محاذ پر کسی قسم کے اتار چڑھائو یا افراتفری کا سامنا نہیں کرنا پڑا مگر گزشتہ ایک دو ماہ سے جاری سیاسی ہنگامہ خیزی میں اضافہ ہونے سے جو غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اقتدار پر متمکن سیاسی قیادت پر یہ ذمے داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کی جلد از جلد کوئی سبیل نکالے کیونکہ طویل ہوتا ہوا یہ بحران آنے والے وقتوں میں بہت سے خطرات کو دعوت دے سکتا ہے۔
دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ہے مگر سیاسی قیادت ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکی جو اس کی ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔ سیاسی قیادت کو اس مسئلے کے فوری حل کرنے کی جانب توجہ دینا چاہیے کیونکہ یہ بحران جتنا طویل ہوتا چلا جائے گا ملکی معیشت اتنی ہی زیادہ دبائو میں آتی چلی جائے گی۔ اس پر مستزاد یہ کہ بدترین سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جو علاقے اس سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے وہ زرعی لحاظ سے زیادہ زرخیز اور خوشحال ہیں۔ چاول اور کپاس کی فصلیں شدید طور پر متاثر ہونے سے جہاں ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی شعبہ گھاٹے میں رہے گا وہاں برآمدات بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر اشرف محمود وتھرا نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حالیہ سیلاب سے خریف کی بعض فصلوں کو نقصان پہنچے گا اور غذائی اشیا کی سپلائی کا سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے، نقصانات کی پوری شدت سامنے آنے میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، برآمدات اور درآمدات میں تازہ ترین رجحانات خصوصاً تیل کی ادائیگیوں کو مدنظر رکھا جائے تو تجارتی خسارہ بیرونی جاری کھاتے کے خسارے پر حاوی رہے گا خواہ ترسیلات زر میں بھرپور اضافہ ہو۔
مرکزی بینک نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر بجلی پر سبسڈی کم کی گئی اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس عائد کیا گیا تو آٹھ فیصد گرانی ہدف سے بڑھ سکتی ہے' سیاسی تعطل' آئی ایم ایف کی قسط میں تاخیر اور سیلاب معاشی سرگرمی کے لیے خطرہ ہیں جو معاشی عدم توازن پیدا کر سکتا ہے۔ توانائی کی مسلسل قلت ' کھاد کے پلانٹس کو گیس کی کم فراہمی اور برآمدات میں کمی معاشی نمو کو محدود کر سکتی ہے، اسی وجہ سے معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور نمو کا تسلسل اب زرعی پیداوار پر منحصر ہے۔
اسٹیٹ بینک نے جب اگست میں مالی سال کی اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا تھا تو اس وقت کہا گیا تھا کہ حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں کے باعث ڈالر کی قدر میں کمی آئی اور اس کا ایکسچینج ریٹ 99 روپے پر پہنچ گیا اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں بھی بہتری آئی ہے مگر اب اسٹیٹ بینک کی حالیہ مانیٹری پالیسی کے مطابق ملک میں جاری سیاسی بحران اور حالیہ سیلاب کے باعث صورت حال میں تبدیلی آئی اور مالی سال کی پہلی ششماہی میں نجی شعبے کے قرضے میں اضافہ ہوا ہے، امریکی ڈالر کی نسبت روپے کی قدر بھی بڑھی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اعلامیہ کے مطابق مالی خسارہ کم رکھنے کے لیے ٹیکس اصلاحات ضروری ہیں۔ اسٹیٹ بینک ہر بار اپنی مانیٹری رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات بہتر بنانے پر زور دیتا ہے اور حکومت بھی اس معاملے پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے مگر معاملات ابھی تک جوں کے توں چلے آ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ٹیکس کے شعبے میں بہتری لائی جائے تو حکومت کے مالی خسارے میں نمایاں کمی واقعہ ہو سکتی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر ٹیکس چوری یا ٹیکس ادا نہ کرنے کی روایت پختہ ہو چکی ہے۔
حکومتی ارکان' بڑے بڑے سرمایہ کار اور کاروباری حضرات سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹیکس چوری کی لعنت میں مبتلا ہیں جب تک اس کرپشن کا انسداد نہیں کیا جاتا تب تک کسی قسم کی ٹیکس اصلاحات معیشت میں مثبت نتائج نہیں لا سکتیں۔ ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں پاکستان میں پچاس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ہر سال اس کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت اقتصادی ترقی کے دعوے تو کرتی چلی آ رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچے۔
اقتصادی ترقی کی شرح نمو کو تیز کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور امن و امان کی بہتر صورت حال بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو گزشتہ برس سیاسی محاذ پر کسی قسم کے اتار چڑھائو یا افراتفری کا سامنا نہیں کرنا پڑا مگر گزشتہ ایک دو ماہ سے جاری سیاسی ہنگامہ خیزی میں اضافہ ہونے سے جو غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اقتدار پر متمکن سیاسی قیادت پر یہ ذمے داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کی جلد از جلد کوئی سبیل نکالے کیونکہ طویل ہوتا ہوا یہ بحران آنے والے وقتوں میں بہت سے خطرات کو دعوت دے سکتا ہے۔