آپریشن ضرب عضب کی مزید کامیابیاں
پاکستان کی طرف سے افغانستان سے بار بار تقاضہ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا پاکستان میں داخلہ روکا جائے ...
پاکستان کی طرف سے افغانستان سے بار بار تقاضہ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا پاکستان میں داخلہ روکا جائے. فوٹو: اے ایف پی/فائل
شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ''ضرب عضب'' کامیابی سے جاری ہے اور تازہ زمینی اور فضائی کارروائیوں میں مزید 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے نائب صوبیدار مزمل بھی شہید ہوگئے۔ ضرب عضب پاک فوج کا ایک بے حد اہم آپریشن ہے جس میں جہاں فوج کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں وہاں ہمارے شیردل فوجی جوان اور افسر اپنی جان کے نذرانے بھی پیش کر رہے ہیں اور ان کی یہ عظیم قربانیاں رنگ بھی لا رہی ہیں کہ اندرون ملک ہونے والے خود کش دھماکے اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اگلے روز کے آپریشن کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقہ بوچہ سے 5 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس دوران نائب صوبیدار مزمل بھی شہید ہو گئے، دریں اثنا ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں نے غلام خان کے جنوب مشرق میں گورستانی نالا کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی جس سے 12 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔
اس فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے 3 ٹھکانے اور بارود سے بھری 4گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ ادھر کالعدم تحریک طالبان نے شمالی وزیرستان آپریشن کے دوران کابل سے تعلق رکھنے والے کمانڈر محمد حسن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ کالعدم تحریک کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق محمد حسن دو روز پہلے بویہ میں پاک فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ ترجمان کے بیان کے مطابق کمانڈر حسن کچھ عرصہ قبل افغانستان کی جیل سے رہائی پا کر دوبارہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان میں جہادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
پاکستان کی طرف سے افغانستان سے بار بار تقاضہ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا پاکستان میں داخلہ روکا جائے جو یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اب کمانڈر حسن کی ہلاکت نے پاکستان کی شکایت کو حق بجانب ثابت کر دیا ہے لہٰذا افغان حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کی شکایت کا ازالہ کرے بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ افغانستان کا صدارتی بحران پروفیسر اشرف غنی کے صدر بننے کو ان کے متحارب عبداللہ عبداللہ نے بھی قبول کرلیا ہے۔ اب افغانستان میں برسراقتدار آنے والے نئے حکمرانوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو چاہیے کہ وہ مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کریں تاکہ پاک افغان تعلقات بہتر ہو سکیں۔
اگلے روز کے آپریشن کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقہ بوچہ سے 5 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 3عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس دوران نائب صوبیدار مزمل بھی شہید ہو گئے، دریں اثنا ایوی ایشن ہیلی کاپٹروں نے غلام خان کے جنوب مشرق میں گورستانی نالا کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ کی جس سے 12 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔
اس فضائی کارروائی میں دہشت گردوں کے 3 ٹھکانے اور بارود سے بھری 4گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ ادھر کالعدم تحریک طالبان نے شمالی وزیرستان آپریشن کے دوران کابل سے تعلق رکھنے والے کمانڈر محمد حسن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ کالعدم تحریک کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کے مطابق محمد حسن دو روز پہلے بویہ میں پاک فوج کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ ترجمان کے بیان کے مطابق کمانڈر حسن کچھ عرصہ قبل افغانستان کی جیل سے رہائی پا کر دوبارہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان میں جہادی سرگرمیوں میں مصروف تھا۔
پاکستان کی طرف سے افغانستان سے بار بار تقاضہ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا پاکستان میں داخلہ روکا جائے جو یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ اب کمانڈر حسن کی ہلاکت نے پاکستان کی شکایت کو حق بجانب ثابت کر دیا ہے لہٰذا افغان حکومت کو چاہیے کہ پاکستان کی شکایت کا ازالہ کرے بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ افغانستان کا صدارتی بحران پروفیسر اشرف غنی کے صدر بننے کو ان کے متحارب عبداللہ عبداللہ نے بھی قبول کرلیا ہے۔ اب افغانستان میں برسراقتدار آنے والے نئے حکمرانوں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو چاہیے کہ وہ مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کریں تاکہ پاک افغان تعلقات بہتر ہو سکیں۔