اقتصادی ترقی انتہا پسندی سے نمٹنے کا اہم ہتھیار ہے صدر زرداری
برطانیہ امن کیلیے تعاون جاری رکھے گا، کیمرون،امن عمل میں پاکستانی بھائیوں کی شراکت چاہتے ہیں،کرزئی،سہ فریقی مذاکرات
نیویارک:صدر آصف علی زرداری ،افغان صدر حامد کرزئی اور برطانوی وزیراعظم کیمرون سے مذاکرات کررہے ہیں،حنا ربانی و دیگر بھی موجود ہیں۔ فوٹو: آئی این پی
پاکستان، افغانستان اور برطانیہ کی سہ فریقی سربراہ کانفرنس یہاں ہوئی جس میں تینوں سربراہان نے خطے میں امن قائم رکھنے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
صدرآصف زرداری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان خطے میں امن کیلیے افغانستان سے بھر پورتعاون کررہا ہے، پاکستان، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتا ہے، سماجی اور اقتصادی ترقی انتہاپسندی سے نمٹنے کا اہم ہتھیار ہے، روزگاردے کر نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچایاجاسکتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانا ہوگا کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردوںکے مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہے۔
خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان افغانستان میں اندرونی مذاکرات کا حامی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا عالمی برادری سے طویل شراکت داری چاہتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھر پور تعاون جاری رکھے گا۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں حامد کرزئی نے کہا دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے باہر تک پھیلی ہوئی ہیں، افغان امن عمل میں پاکستانی بھائیوں کی شراکت چاہتے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پاک افغان سرحد پر ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔ صدر سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے الگ سے بھی ملاقات کی جس میں پاک برطانیہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاک، برطانیہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ علاوہ ازیں صدر زرداری سے چینی وزیر خارجہ یانگ جی چی نے ملاقات کی، صدر نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، آئی ٹی، مواصلات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں منصوبوں پر تیزی سے عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدرآصف زرداری نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان خطے میں امن کیلیے افغانستان سے بھر پورتعاون کررہا ہے، پاکستان، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی چاہتا ہے، سماجی اور اقتصادی ترقی انتہاپسندی سے نمٹنے کا اہم ہتھیار ہے، روزگاردے کر نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچایاجاسکتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانا ہوگا کیونکہ منشیات کی اسمگلنگ دہشت گردوںکے مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہے۔
خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان افغانستان میں اندرونی مذاکرات کا حامی ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا عالمی برادری سے طویل شراکت داری چاہتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ برطانیہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھر پور تعاون جاری رکھے گا۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں حامد کرزئی نے کہا دہشت گردی کی جڑیں افغانستان سے باہر تک پھیلی ہوئی ہیں، افغان امن عمل میں پاکستانی بھائیوں کی شراکت چاہتے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، پاک افغان سرحد پر ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کیلئے کام کرنا ہوگا۔ صدر سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے الگ سے بھی ملاقات کی جس میں پاک برطانیہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں پاک، برطانیہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ڈیوڈ کیمرون نے کہا برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ علاوہ ازیں صدر زرداری سے چینی وزیر خارجہ یانگ جی چی نے ملاقات کی، صدر نے دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، آئی ٹی، مواصلات اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں منصوبوں پر تیزی سے عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔