نئی مملکت اللہ داد ناپرساں

یہ نئی مملکت اللہ داد ناپرساں جسے عرف عام میں ’’نیا ناپرساں‘‘ اور عرف خاص میں انقلابی ناپرساں کہا جاتا ہے

barq@email.com

پیارے بچو! دلارے نوجوانو اور خدا مارے بوڑھو! یہ جو ''مملکت اللہ داد ناپرساں'' دنیا کے نقشے پر ابھری ہوئی ہے، یہ مملکت اللہ داد سے پہلے مملکت خدا داد ناپرساں ہوا کرتی تھی لیکن پھر جب مملکت کے سارے بڑے بڑے سروں والے سردار آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور آپس میں ''دانائی و دانش'' کا تبادلہ کیا تو قرار پایا کہ ''خدا'' چونکہ غیروں غمازوں کا بھی ہے اور مملکت ناپرساں کی پراپرٹی خدا نہیں بلکہ اللہ ہے تو مملکت کا نام بدل کر خدا داد کے بجائے ''اللہ داد'' رکھ لیا گیا، لیکن اگر آپ کا یہ خیال ہو کہ یہ کام آسانی سے ہوا ہو گا اور مملکت اللہ داد ناپرساں کی نئی مملکت اتنی آسانی سے بنی ہو گی تو آپ بالکل غلطی پر ہیں۔

یہ نئی مملکت اللہ داد ناپرساں جسے عرف عام میں ''نیا ناپرساں'' اور عرف خاص میں انقلابی ناپرساں کہا جاتا ہے بڑی کوشش جدوجہد اور قربانیوں سے وجود میں آئی ہے چونکہ نئے ناپرساں کی نئی نسل اپنی پرانی تاریخ سے بے خبر ہے، اس لیے ہم ایک بہت بڑی سرچ لائٹ لگا کر اس کی گذشتہ، گذشتہ سے پیوستہ اور پیوستہ سے وابستہ تاریخ پر روشنی ڈال رہے، سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ مملکت اللہ داد ناپرساں، سابق مملکت خدا داد ناپرساں کی تاریخ بہت بڑے بڑے جمبو جیٹ قسم کے نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے، اتنے بڑے بڑے نشیب جس میں کئی ''فراز'' سما جائیں اور اتنے بڑے بڑے ''فراز'' جن کی طرف دیکھ کر نشیبوں کی پگڑی گر پڑے، یہ ملک جب بہت پرانے زمانے کے سادہ بندوں نے مملکت خدا داد کے نام سے بنوایا تو اس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں تھی۔

یوں کہئے کہ بھان متی کا کنبہ تھا جس میں طرح طرح کے اینٹ روڑے بھرے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں جب چار مختلف دانشوروں کو اس پر چھوڑا گیا کہ اس کی تعریف کریں یہ چنے ہوئے دانشور ظاہری آنکھوں سے تو محروم تھے لیکن ان کے باطن میں بڑی بڑی آنکھیں لگی ہوئی تھیں، ان چار دانشوروں میں سے ایک نے بتایا کہ مملکت ایک پائپ کی طرح لمبی ہے دوسرے جو اس کے کانوں تک پہنچا تھا بتایا کہ مملکت ناپرساں ہو بہو بڑے بڑے پنکھوں کی طرح ہے۔

اس کی ٹانگوں تک رسائی رکھنے والے نے اسے چار بے ہنگم ستونوں جیسا بتایا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرنے والے نے اسے ایک بڑا مٹکا قرار دیا، مملکت کے باتدبیروں کو یہ سن کر بڑا دکھ پہنچا کہ جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی، جیسے ہم مملکت سمجھ رہے تھے وہ تو ایک ہاتھی نکلی ۔کچھ بزرگ مہروں نے کوشش کی کہ ''ہاتھی اور اسلام'' کا آپس میں کوئی تعلق جوڑا جائے لیکن افسوس کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، اس کی کوئی ''کل'' سیدھی ہونے کے بجائے اور ''کج'' ہوتی چلی گئی۔ ادھر فلک بھی کج رفتار تھا چنانچہ ہاتھی یعنی گنج سے بات ''کج'' تک پہنچ گئی، اس زمانے میں ایک ملک الشعراء نے کہا کہ

مقدر میں جو ''کجی'' تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلی
لحد کھودی گئی میری تو ''جلیبی'' زمین نکلی

دانشوروں کے سروں میں تشویش اور فکر کی ''جوئیں'' بہت زیادہ پڑ گئیں پھر بڑھنے لگیں اور پھر لڑنے لگیں، چنانچہ سارے سر جوڑ کر ''تبادلہ خیال'' ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ مملکت کا نام بدل کر خدا داد کے بجائے اللہ داد ناپرساں رکھا جائے، یہی وہ موقع تھا جب بہت دور کیلاش پربت پر بیٹھے ہوئے ایک بزرگ کو آسمانی سنگل موصول ہوئے کہ انقلاب و انقلاب و انقلاب، صرف نام بدلنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ پوری مملکت کو سوئیٹریا کوٹ کی طرح الٹ کر نیا بنایا جائے ، بزرگ کی اس بات پر

جز ''کیش'' اور کوئی نہ آیا بروئے کار

لیڈر مگر بہ تنگی چشم حسود تھا

ایک تجربہ کار بزرگ جس نے عمر بھر مختلف میدانوں میں ''لڑائیاں'' لڑی تھیں ، اچانک سامنے آیا کہ اس مہم سے زیادہ موزوں رہنما میرے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا ۔ بزرگ نے کیلاش کی برفیلی چوٹی سے دست مبارک بڑھا کر آشیرواد دیا اور فرمایا آگے بڑھ تمہاری آنکھیں سرخ ہیں۔ میں خود بھی آرہا ہوں، یوں مملکت خداداد ناپرساں پر ہلہ بول دیا گیا اور یوں نئی مملکت اللہ داد ناپرساں وجود میں آگئی، جس کے عین بیچوں بیچ ''مینار ناپرساں'' تعمیر ہوا جس کی چوٹی پر ایک بڑی ''ٹکٹکی'' نصب کی گئی اور ٹکٹکی پر سابق ناپرساں کے تمام ''سابقون و اولون'' کو چڑھا دیا گیا، صرف ان کو چھوڑا گیا جو مشرف بہ نیا ناپرساں ہو گئے، نئی مملکت اللہ داد ناپرساں میں تمام قوانین ود ساتیر کو منسوخ کر کے نیا آئین رائج کیا گیا ۔

جس کی صرف ایک ہی دفعہ ہے اور وہ یہ کہ کہیں پر بھی کوئی بھی پرانی چیز کسی بھی شکل میں نہ رہنے دی جائے، ہر چھ مہینے بعد نئے انتخابات ہوں جس پر کم از کم 25 ارب روپے خرچ کیے جائیں جب کہ پرانے ناپرساں میں انتخابات چار پانچ سال کے بعد ہوتے ہیں، وہ بھی نہایت سستے یعنی آٹھ دس ارب والے انتخابات، جس کی وجہ سے امیدوار وزیروں کو چار پانچ سال کا گشٹ بھوگنا ہوتا ہے، ووٹر لوگ پورے پانچ سالہ فصل پر اکتفا کرتے لیکن اب ہر چھ مہینے بعد نئی گنگا بہائی جاتی ہے جس سے سب کے سب گنگا کنارے والے لوگ شرابور رہتے ہیں اور یہی گانا گاتے ہیں،

کھائی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
عیش کرے جیجا سالا
گنگا کنارے والا گنگا کنارے والا

ارے ہاں نظام حکومت کے بارے میں تو ہم نے بتایا ہی نہیں جس دن پرانے ناپرسان کے سارے تخت اور تختے الٹا دیے گئے اور سارے تاج گرا دیے گئے پرانی سستی والی پارلیمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور نئی مملکت اللہ داد ناپرساں وجود میں آگئی تب اعلان عام ہوا کہ
کنجشک فرومایہ کوشاہیں سے لڑا دو
جو نقش کہیں تم کو نظر آئے مٹا دو

ساری صاف صفائی کرنے کے بعد کیلاش کی برفیلی چوٹی والے بابا کو لا کرحکمران بنایا گیا اور پوری مملکت نئی ہو کر چل پڑی، جہاں جہاں ''زہر وزقوم'' کی نہریں بہا کرتی تھیں ان کو صاف کر کے دودھ اور شہد کی نہروں میں تبدیل کیا گیا اور ان شہد کی نہروں کو بھرا بھرا اور رواں دواں رکھنے کے لیے شہد کی مکھیاں پالی گئیں جب کہ دودھ کی نہروں کو لبالب رکھنے کے لیے گائے بھینسوں کے فارم قائم کیے گئے چنانچہ مملکت اللہ داد ناپرساں کے لوگ آرام سے پڑے رہتے ہیں اور ان نہروں کے درمیان باغوں میں بہار ہے گاتے رہتے ہیں ۔کسی کو بھی ہاتھ پیرہلانے کی ضرورت نہیں ہوتی کیوں کہ مملکت کا سارا خرچہ دعاؤں، تعویزوں اور عملیات سے چلتا ہے، یوں نئے حکمران کے مقدس سائے تلے نئی مملکت اللہ داد ناپرساں دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔
Load Next Story