پاکستان میں سرمایہ کاری دہشت گردی سے کم ہوئی امریکا
انویسٹرز کا اعتماد بحال کیا جائے، توانائی وتجارت میں تعاون کررہے ہیں، قونصل جنرل
سرمایہ کاری معاہدے پر جلد عملدر آمد دونوں ملکوں کے حق میں ہے، عبداللہ ذکی۔ فوٹو: فائل
کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کو مضبوط جمہوری ملک دیکھنا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو مستحکم اور خوشحال بنانے کے لیے امریکا بھرپور مدد کررہا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم، صحت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں امریکا تعاون کررہا ہے اور یہ مدد جاری رہے گی، کراچی سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہوئی، تجارت کے شعبے میں بھی تمام ممکنہ تعاون کیا جارہا ہے، امریکا کی تمام تر کوششیں پاکستان میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اوریہاں کے لوگوں کی مدد کرنے پر مرکوز ہیں۔
یو ایس ایڈ کے ذریعے پاکستان میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو اور سرحد پار تجارت کوجاری رکھنے میں مدد فراہم کی جارہی ہے، سسٹم میں مزید بجلی شامل کرنے کے لیے بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی کام کرنے کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں بھی مدد فراہم کی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں بچے تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے حصوں میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے حملوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے جسے بحال کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن توانائی بحران ملکی جی ڈی پی پر اثر انداز ہو رہا ہے، اس ضمن میں امریکا امدادکے ذریعے توانائی بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین انجم نثار نے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 6 فیصد کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔ کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلیے سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز کے حوالے سے کراچی میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو امداد نہیں تجارت چاہیے اور ہم نے امریکا سمیت مغربی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے تاہم پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے 2009 سے کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آئی جس پر جلد از جلد عمل درآمد ممکن بنانے کی ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کے حق میں ہے۔عبداللہ ذکی نے دونوں ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود اور حکام کے انفرادی دورے، سنگل کنٹری نمائشوں، جوائنٹ وینچرز اور سفری سہولتوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔
کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم، صحت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں امریکا تعاون کررہا ہے اور یہ مدد جاری رہے گی، کراچی سمیت مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہوئی، تجارت کے شعبے میں بھی تمام ممکنہ تعاون کیا جارہا ہے، امریکا کی تمام تر کوششیں پاکستان میں کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اوریہاں کے لوگوں کی مدد کرنے پر مرکوز ہیں۔
یو ایس ایڈ کے ذریعے پاکستان میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو اور سرحد پار تجارت کوجاری رکھنے میں مدد فراہم کی جارہی ہے، سسٹم میں مزید بجلی شامل کرنے کے لیے بجلی گھروں کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی کام کرنے کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں بھی مدد فراہم کی جارہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں بچے تعلیم حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک کے حصوں میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے حملوں سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے جسے بحال کرنے کی ضرورت ہے، اگرچہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے لیکن توانائی بحران ملکی جی ڈی پی پر اثر انداز ہو رہا ہے، اس ضمن میں امریکا امدادکے ذریعے توانائی بحران پر قابو پانے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔
بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین انجم نثار نے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 6 فیصد کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔ کراچی چیمبر کے صدر عبداللہ ذکی نے امریکی قونصل جنرل برائن ہیتھ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سرمایہ کاروں اور تاجروں کیلیے سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز کے حوالے سے کراچی میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو امداد نہیں تجارت چاہیے اور ہم نے امریکا سمیت مغربی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے تاہم پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے 2009 سے کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آئی جس پر جلد از جلد عمل درآمد ممکن بنانے کی ضرورت ہے جو دونوں ملکوں کے حق میں ہے۔عبداللہ ذکی نے دونوں ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارتی وفود اور حکام کے انفرادی دورے، سنگل کنٹری نمائشوں، جوائنٹ وینچرز اور سفری سہولتوں کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔