حکومتی ریلیف… مثبت فیصلے

سرکاری ملازمتوں پر عرصہ دراز کی بندش کا خاتمہ ایک پیش رفت ہے ۔۔۔

سرکاری ملازمتوں پر عرصہ دراز کی بندش کا خاتمہ ایک پیش رفت ہے. فوٹو: این این آئی/فائل

KARACHI:
وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمتوں پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے جب کہ وزیراعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے بلوں میں اضافی رقم کی وصولی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آڈٹ کا بھی حکم دیا ہے۔ کابینہ کا اجلاس پیر کو وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت ہوا جس میں متاثرین سیلاب کے لیے امدادی سرگرمیوں ، آپریشن ضرب عضب اور دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا ۔اجلاس میں پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کے لیے سروے کرانے اور سیلاب سے متاثرہ6لاکھ خاندانوں کو عید سے قبل 25،25 ہزار روپے دیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ۔

وفاقی کابینہ نے ملک کو درپیش انتہائی اہم بحران شکن مرحلے میں قدرے بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے ۔ سرکاری ملازمتوں پر سے پابندی کا اٹھنا، بجلی بلوں کی مد میں ریلیف ، متاثرین سیلاب کے لیے نقد امداد اور محنت کشوں کی 12 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر عملدرآمد خوش آیند فیصلے ہیں مگر لازم ہے کہ ان پر فوری عمل ہو ۔ تاہم موجودہ کشیدگی ، کشمکش ، جمود اور مایوسی کی فضا میں یہ فیصلے ہوا کے خوشگوار جھونکے ہیں ۔

ادھر ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم اور دہشت گردی کا گراف ہولناک ہے، غربت ، بے انصافی ، بے روزگاری اور احساس محرومی نے بدامنی کے بڑے اسباب کیے ہیں اور کوئی جمہوری معاشرہ زندگی کے تحفظ ، روزگار ، صحت ، تعلیم اور رہائش کی بنیادی سہولتوں کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، بلکہ روبہ زوال ہونا اس کا مقدر بن جاتا ہے، ملکی اندوہ ناک داخلی صورتحال ، دہشت گردی و لاقانونیت اور مضطرب عوام کے دھرنوں کے دہکتے الاؤ کے پیچھے سماجی اور سیاسی ناکامیوں کی ایک تاریک سرنگ دکھائی دیتی ہے، لگتا ہے ہر ادارہ شکست وریخت سے دوچار ہوگیا ہے، حکومت کی عدم توجہ، نااہلی، تساہل اور عوام سے بے نیازی کے باعث آج کا پاکستان بحرانوں کی زد میں ہے ، کروڑوں کیوسک پانی زندگیوں کا خراج لیتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف بڑھ رہا ہے، سمندر پانی پی گیا ، ملک کی 45 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ۔

جب کہ بے کار افرادی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے چناب و جہلم دریا سے امڈتے سیلابی پانی کے کتنے نئے ذخائر بنائے جاسکتے تھے ۔دنیا ہمارے بارے میں طرح طرح کے قصے سنتی ہے ۔ قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا نام ونشان مٹانے کے لیے پاک فوج کے افسر وجوان اپنی جانیں نثار کررہے ہیں ، قوم کی حمایت ان کے جذبہ شہادت کو مہمیز کیے دے رہی ہے، سیاسی رہنماؤں کو بھی دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہیے،اور صورتحال کا ادراک کرنا چاہیے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی ایک صبر آزما کام ہے، اسے صوبائی انتظامیہ اور فوج نے مل کر انجام دینا ہے ۔اس کے لیے ماحول بنانا پڑے گا،امن کی ضمانت دینا ہوگی، چنانچہ اس تناظر میں حکومتی ریلیف مثبت اقدام ہے ۔


سرکاری ملازمتوں پر عرصہ دراز کی بندش کا خاتمہ ایک پیش رفت ہے ، اگرچہ سرکاری ملازمتوں سے غربت و بیروزگاری کا پہاڑ ڈھایا نہیں سکتا مگر میرٹ اور اہلیت کے مطلوبہ معیار کی روشنی میں امور حکومت و ریاست کے لیے اہل شہریوں کو روزگار اور اپنے جوہر قابل کو آزمانے کا موقع مل جاتا ہے ۔ لیکن اسامیوں کو پر کرنے کے لیے کسی قسم کا جماعتی دباؤ اور سفارش کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ کابینہ کے فیصلوں پر میڈیا کو بریفنگ میں وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ اجلاس میں 4 بڑے فیصلے کیے گئے۔ سرکاری ملازمتوں پر عائد پابندی اٹھالی گئی ہے۔ سرکاری نوکری صلاحیت، قابلیت، میرٹ پر اور شفاف طریقے سے دی جائے گی۔ دوسرے فیصلے کے تحت سیلاب زدگان کو 25 ہزار روپے فی خاندان عید سے پہلے ادا کردیے جائیں گے۔

تیسرا فیصلہ بجلی کی بلوں سے متعلق ہے جس میں گزشتہ ماہ صارفین کو اضافی یونٹ ڈال کر ایڈوانس رقوم وصول کی گئیں۔ 200 یونٹ استعمال کرنے والے جن لوگوں سے گزشتہ ماہ کے بل میں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رقم وصول کی گئی تو ان کی رقوم واپس کردی جائیں گی ۔ جب کہ مزدور کی کم از کم اجرت 12 ہزار روپے کرنے کے فیصلے کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا ۔ کم سے کم اجرت کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ ان فیصلوں پر موثر عملدرآمد ہونا چاہیے ، کیونکہ بجلی کے اضافی بلوں نے ملک بھر کے صارفین کو شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے ۔ وزیر مملکت عابد شیرعلی کے مطابق وزیراعظم نے زائد بل دینے پر سخت ایکشن لینے کا کہا ہے۔ آڈٹ کے فیصلے پر وزیراعظم نے 3 دنوں میں عملدرآمد کی ہدایت کی ہے ۔

ان کا یہ کہنا درست ہے کہ بجلی چور دندناتے پھر رہے ہیں اور عدالت سے حکم امتناع حاصل کرتے ہیں ۔ 52 ارب روپے وصولی کرنی ہیں مگر عدالتوں کے حکم امتناع کے باعث وصول نہیں کر پا رہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ واپڈا کے پاس 50 فیصد میٹر ریڈرز کی خالی اسامیاں پر کیوں نہیں کی جاتیں؟ اور میٹر ریڈنگ کیے بغیر اضافی بلنگ کا کیا جواز ہے ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے پانی و بجلی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا کہ رواں سال 5 سے 6 فیصد اضافی بجلی پیدا کی گئی جب کہ محکمے کی ملی بھگت کے باعث بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صورتحال سنگین ہے، اخباری اطلاع کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے 16 ارب روپے اضافی بلنگ سے حاصل کیے ہیں ۔

ادھر وزارت پانی و بجلی کے ذرایع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ٹیرف سلیب میں گزشتہ سال کی پوزیشن پر تبدیلی کے بغیر وزیراعظم کی طرف سے دیا جانے والا یہ ریلیف ممکن نہیں ہو گا کیونکہ اس کے لیے نیپرا کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن جاری کرنا ضروری ہو گا۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگر واقعی صارفین کو ریلیف پہنچانا تھا تو وہ اس ٹیرف سلیب میں تبدیلی کے احکامات جاری کرتی جسے خاموشی سے بڑھا دیا گیا ۔ کیونکہ نیپرا نے گزشتہ سال اکتوبر میں ٹیرف سلیب میں تبدیلی کر کے اس کا نوٹیفکیشن کو بھی خفیہ رکھا ۔ اس لحاظ سے وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد اور صارفین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف کا امکان نہیں ۔ اس معمے کو حل ہونا چاہیے، بجلی صارفین سے کھلواڑ اس نازک مرحلہ میں مناسب نہیں ۔

بقول شخصے ملک پہلے ہی طوفان آشنا اور ''گیدرنگ اسٹارم'' کا منظر پیش کررہا ہے ۔ جس میں ضرورت اقتصادی بریک تھرو اور سیاسی افہام وتفہیم کی ہے ۔ حالات کے اونٹ کی سیاسی کمر پر ظلم و جبر اور بے انصافی کا مزید ایک تنکا بھی خوفناک بلبلاہٹ پیدا کرسکتا ہے ۔ داخلی امن و امن کے قیام ، دھرنا پارٹیوں سے بات چیت اور جرأت مندانہ سیاسی فیصلوں کی مزید ضرورت ہے۔
Load Next Story