کُرد پناہ گزینوں کا ترکی میں سیلاب

پناہ گزینوں کے سیلاب نے ترکی کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کر دیا ہے ...

پناہ گزینوں کے سیلاب نے ترکی کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کر دیا ہے. فوٹو؛ اے ایف پی

شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں کرد باشندے ترکی کی سرحد پہنچ رہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ چار روز میں ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد کرد پناہ گزین شام کی سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہو چکے ہیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کی جنوبی سرحد کے قریب لڑائی میں بہت تیزی آ گئی ہے جس کے باعث ترکی کو کرد پناہ گزینوں کے سیلاب کا سامنا ہے اور لگتا ہے کہ مزید سیکڑوں ہزار افراد ادھر آئیں گے۔

ترک حکام نے کہا ہے کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ انسان کی بنائی ہوئی تباہی ہے اور شام سے جان بچا کر ترکی میں آنے والوں میں عورتوں' بچوں اور بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ادھر اس غیر معمولی صورت حال میں ترک حکومت اور ترکی کے کرد علاقے میں بسنے والے کردوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کردوں کا کہنا ہے کہ ترک حکومت انھیں شام میں اپنے بھائی بندوں کی مدد کے لیے جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ شام میں مارچ 2011سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں بشار الاسد حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو بیرونی امداد بھی حاصل ہو رہی ہے۔ کرد پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کو اسلامی انتہا پسندوں کی طرف سے بے دریغ قتل و غارت کا سامنا ہے، جہاں ان کے گھروں کو مبینہ طور پر مکینوں سمیت جلایا جا رہا ہے۔


ترکی شروع میں اس قضیے میں ملوث ہونے سے کترا رہا تھا تاہم اب پناہ گزینوں کے سیلاب نے ترکی کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کر دیا ہے۔ اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ کرد مسلمانوں کو جنگ عظیم دوئم کے بعد چار مختلف ممالک میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ کرد اس وقت ایران، عراق، شام اور ترکی میں تقسیم ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سارا علاقہ ایک وحدت ہے اور اس میں کرد اکثریت میں آباد ہیں لیکن اس علاقے کو چار ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ صدام حکومت کے دور میں عراقی کردوں پر بھی اتنا تشدد ہوا تھا۔ ایران بھی کردوں کو دبائے ہوئے ہے۔ شام بھی کردوں کے معاملے میں تعصب کا شکار ہے۔

ادھر ترکی میں بھی کرد مطمئن نہیں ہیں۔ اب شام میں جاری لڑائی کے باعث وہاں موجود کرد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ترکی کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ صورت حال خطرناک ہو سکتی ہے لہٰذا ضروری یہ ہے کہ اس معاملے کو جلد ازجلد طے کیا جائے۔ ترکی کو بھی چاہیے کہ وہ پناہ گزینوں کواپنے ہاں آنے دے تاکہ انسانی المیے جنم نہ لے سکیں۔
Load Next Story