حصص مارکیٹ میں تیزی کے باعث 150 پوائنٹس کا اضافہ
انڈیکس 30144 ہو گیا، بیشتر کمپنیوں کی قیمتیں، مارکیٹ سرمایہ 27.5 ارب روپے بڑھ گیا
انڈیکس 30144 ہو گیا، بیشتر کمپنیوں کی قیمتیں، مارکیٹ سرمایہ 27.5 ارب روپے بڑھ گیا۔ فوٹو: آن لائن/فائل
او جی ڈی سی ایل کی اکتوبر کے پہلے ہفتے میں سیکنڈری پبلک آفرنگ کے فیصلے سے سرمایہ کاروں میں حکومتی نجکاری پروگرام جاری رہنے کی توقعات اور لسٹڈ کمپنی نشاط ملز کی توقعات کے مطابق مالیاتی نتائج کے اعلان نے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو کاروبار کا رحجان تبدیل کردیا۔
کاروباری دورانیے میں اتارچڑھاؤ کے بعد تیزی کے اثرات غالب ہوئے جس سے انڈیکس کی30100 کی حد دوبارہ بحال ہو گئی، تیزی کے سبب 62.26 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میںبھی27 ارب 52 کروڑ15 لاکھ82 ہزار 768 روپے کا اضافہ ہو گیا۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ میں طویل المدت سرمایہ کاری کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ وقفے وقفے سے کچھ مثبت اطلاعات مارکیٹ میں تیزی کا سبب بن رہی ہیں۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر56 لاکھ 14 ہزار 881 ڈالر کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے ایک موقع پر 37.32 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 11 لاکھ 73 ہزار957 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے9 لاکھ 43 ہزار 914 ڈالراور میوچل فنڈز کی جانب سے34 لاکھ97 ہزار 9 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے کاروبارکے منفی رحجان کو تبدیل کرتے ہوئے تیزی رونما کی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 149.90 پوائنٹس کے اضافے سے 30143.77 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 76.37 پوائنٹس کے اضافے سے 20657.99 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس452.37 پوائنٹس کے اضافے سے 49212.23 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 42.79 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 42 لاکھ 52 ہزار950 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار424 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوا جن میں 264 کے بھاؤ میں اضافہ، 139 کے دام میں کمی اور 21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
کاروباری دورانیے میں اتارچڑھاؤ کے بعد تیزی کے اثرات غالب ہوئے جس سے انڈیکس کی30100 کی حد دوبارہ بحال ہو گئی، تیزی کے سبب 62.26 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میںبھی27 ارب 52 کروڑ15 لاکھ82 ہزار 768 روپے کا اضافہ ہو گیا۔ ماہرین اسٹاک وتاجران کا کہنا تھا کہ سیاسی افق پر غیریقینی صورتحال کی وجہ سے مارکیٹ میں طویل المدت سرمایہ کاری کا فقدان ہے، یہی وجہ ہے کہ وقفے وقفے سے کچھ مثبت اطلاعات مارکیٹ میں تیزی کا سبب بن رہی ہیں۔
ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز، انفرادی سرمایہ کاروں اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر56 لاکھ 14 ہزار 881 ڈالر کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے ایک موقع پر 37.32 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے 11 لاکھ 73 ہزار957 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے9 لاکھ 43 ہزار 914 ڈالراور میوچل فنڈز کی جانب سے34 لاکھ97 ہزار 9 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری نے کاروبارکے منفی رحجان کو تبدیل کرتے ہوئے تیزی رونما کی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 149.90 پوائنٹس کے اضافے سے 30143.77 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 76.37 پوائنٹس کے اضافے سے 20657.99 اور کے ایم آئی 30 انڈیکس452.37 پوائنٹس کے اضافے سے 49212.23 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 42.79 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر16 کروڑ 42 لاکھ 52 ہزار950 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار424 کمپنیوں کے حصص تک وسیع ہوا جن میں 264 کے بھاؤ میں اضافہ، 139 کے دام میں کمی اور 21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔