کراچی اسٹاک مارکیٹ میں مندی 30100 کی حد دوبارہ گرگئی
انڈیکس30095 ہوگیا، 429 کمپنیوں کا کاروبار 205 کے دام بڑھ گئے، 201 کے نیچے
انڈیکس30095 ہوگیا، 429 کمپنیوں کا کاروبار 205 کے دام بڑھ گئے، 201 کے نیچے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
غیر ملکیوں سمیت سرمایہ کاری کے دیگرشعبوں کی پرافٹ ٹیکنگ اور مارکیٹ میں اوجی ڈی سی ایل میں حکومتی شیئرزکی کم ویلیو پر فروخت ہونے کی افواہوں کے سبب اس کے حصص کی قیمتوں میں کمی جیسے عوامل کراچی اسٹاک ایکس کی نفسیات پر حاوی رہے اور بدھ کو اتار چڑھاؤ کے بعد مندی غالب رہی جس سے انڈیکس کی30100 کی حد دوبارہ گرگئی۔
46.85 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے9 ارب 9 کروڑ9 لاکھ98 ہزار435 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر62 لاکھ53 ہزار 521 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر197 پوائنٹس کی تیزی رونما ہونے سے انڈیکس 30340.74 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ52 ہزار262 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے30 لاکھ15 ہزار635 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے11 لاکھ 85 ہزار623 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 47.97 پوائنٹس کم ہوکر 30095.80 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس91.95 پوائنٹس کی کمی سے 20566.04 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 148.92 پوائنٹس کی کمی سے49063.31 ہوگیا۔
کاروباری حجم منگل کی نسبت 9 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ90 لاکھ 28 ہزار650 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار429 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 205 کے بھائو میں اضافہ، 201 کے داموں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
46.85 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے9 ارب 9 کروڑ9 لاکھ98 ہزار435 روپے ڈوب گئے۔ ٹریڈنگ کے دوران مقامی کمپنیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیزاور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر62 لاکھ53 ہزار 521 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جس سے ایک موقع پر197 پوائنٹس کی تیزی رونما ہونے سے انڈیکس 30340.74 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا لیکن اس دوران غیرملکیوں کی جانب سے20 لاکھ52 ہزار262 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے30 لاکھ15 ہزار635 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے11 لاکھ 85 ہزار623 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا نے تیزی کے اثرات زائل کرتے ہوئے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کردیا جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 47.97 پوائنٹس کم ہوکر 30095.80 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس91.95 پوائنٹس کی کمی سے 20566.04 اور کے ایم آئی30 انڈیکس 148.92 پوائنٹس کی کمی سے49063.31 ہوگیا۔
کاروباری حجم منگل کی نسبت 9 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر17 کروڑ90 لاکھ 28 ہزار650 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار429 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 205 کے بھائو میں اضافہ، 201 کے داموں میں کمی اور23 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔