غیرقانونی قرار دیا گیا گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس دوبارہ نافذ

سپریم کورٹ نے فنانس بل کے ذریعے جی آئی ڈی سی کے نفاذ کو غیرقانونی قرار دیا تھا، وفاقی حکومت نے ایک ماہ بعد صدارتی۔۔۔

سپریم کورٹ نے فنانس بل کے ذریعے جی آئی ڈی سی کے نفاذ کو غیرقانونی قرار دیا تھا، وفاقی حکومت نے ایک ماہ بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دوبارہ نافذ کردیا۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے سُپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے فنانس بل کے ذریعے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے نفاذ کو غیر قانونی قراردینے کے ایک ماہ بعد صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دوبارہ نافذ کردیا ہے اور اس بارے میں گزشتہ روز سرکاری سطح پر ایوان صدر کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس آرڈیننس 2014 کے نفاذ کی منظوری دیدی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس رواں مالی سال کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل 2014 کے ذریعے پارلیمنٹ سے منظور کروایا تھا اور رواں مالی سال کے دوران جی آئی ڈی سی کی مد میں 28 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا جبکہ بعد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی طرف سے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کو بھی رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 2810 ارب روپے کے ہدف میں شامل کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔

جبکہ سُپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے میں واضح طور پر لکھ چُکی ہے کہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کا شمار ٹیکس میں نہیں ہوتا ہے مگر اس کے باوجود ایف بی آر نے اپنے ممکنہ شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اس سیس کو اپنے ٹیکس ریونیو ٹارگٹ میں شامل کرلیا اور باقاعدہ طور پر ایف بی آر نے فیلڈ فارمشنز کولیٹر بھجوایا ہے جس کہا ہے کہ رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 2810 ارب روپے کے ہدف میں جی آئی ڈی سی کے تحت 28 ارب روپے کی متوقع وصولیوں کی رقم بھی شامل ہے جبکہ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) کا شمار ٹیکسوں میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا شمار فیس کے طور پر ہوتا ہے اور قانونی طور پر گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی رقم کو ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف ناقابل حصول ہونے کے باعث جی آئی ڈی سی کے تحت 28 ارب روپے کی متوقع وصولیوں کو ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں شامل کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ گزشتہ مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیاں ہدف سے کم رہی ہیں جبکہ رواں مالی سال کے ہدف کے لیے گزشتہ مالی سال کے 2275 ارب روپے کے نظر ثانی شُدہ ہدف کو بنایا گیا تھا لیکن وصولیاں 2252 ارب روپے ہوئی ہیں جس کے باعث ایف بی آر نے رواں مالی سال کے ٹیکس وصولیوں کے ہدف پر نظرثانی کرنے سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا ہے تاکہ گزشتہ مالی سال کے شارٹ فال کی وجہ سے رواں مالی سال میں جتنا فرق متوقع تھا اسے جی آئی ڈی سی سے پورا کیا جائے مگر حکومت کی طرف سے فنانس بل کے ذریعے عائد کردہ اس گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کو سُپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا گیا تھا جس پر سُپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی اپیل مُسترد کردی ہے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے گزشتہ روز ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ 22 اگست 2014 کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مُسلم اور جسٹس محمد اطہر سعید پر مشتمل قائم تین رُکنی بنچ کی طرف سے وفاقی سیکریٹری پٹرولیم و قدرتی وسائل کے ذریعے فیڈریشن آف پاکستان کی دائر کردہ اپیل پردیے جانے والے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے عائد کیا جانے والا گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) ٹیکس نہیں ہے بلکہ ایک فیس ہے اور وفاقی لیجسلیٹو لسٹ کے پارٹ ون کے تحت ٹیکس طور پر نافذ ہونے والے ٹیکسوں و لیوی کی لسٹ میں گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت سیس کو منی بل کے ذریعے متعارف نہیں کروایا جاسکتا ہے لہٰذا وفاقی حکومت کی طرف سے منی بل(فنانس ایکٹ) کے ذریعے عائد کردہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس قانون کے مطابق نہیں ہے۔

سُپریم کورٹ آف پاکستان نے فنانس بل کے ذریعے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کے نفاذ کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے وفاق کی اپیل مُسترد کردی تھی جس کے باعث یہ سیس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس آرڈیننس 2014 کے نفاذ کی منظوری دیدی ہے۔
Load Next Story