صدرکا استثنیٰ قائم رہے تواپنی قربانی کا غم نہیں گیلانی
ایسانہیں توحمایت نہیں کرونگا،آئین کامحافظ ہوںکسی کی انفرادی حیثیت نہیں مانتا۔
ایسانہیں توحمایت نہیں کرونگا،آئین کامحافظ ہوںکسی کی انفرادی حیثیت نہیں مانتا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اگرخط لکھنے سے صدرمملکت کااستثنیٰ قائم رہتا ہے تو مجھے اپنی قربانی کا کوئی غم نہیں لیکن اگرایسا نہیں تو میں اس کی حمایت نہیں کرونگا۔
میں 73ء اورذوالفقار علی بھٹو کے دیے ہوئے آئین کا محافظ ہوں کسی کی انفرادی حیثیت کو نہیں مانتا، ن لیگ نے ملک کی خراب معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑا اور یہ سوچ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گرجائے گی لیکن ہم نے تاریخ رقم کی، فارورڈ بلاک کے ذریعے حکومت چلانے اور لوگوں کی وفادارایاں تبدیل کرا کر نئی جماعتیں بنانے والے انقلاب نہیں لا سکتے، انقلاب نظریاتی لوگ لاتے ہیں، ان خیالات کا اظہارانھوں نے یہاں '' نئے صوبوں کے مطالبات اورآئندہ عام انتخابات '' کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کوعوام کی طاقت پر بھروسہ ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی بیساکھیوں کے سہارے انتخابات جیتنے کے انتظار میں ہیں لیکن میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ اب وہ زمانے گئے،جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کا کریڈٹ ہم نہیں لیتے وہ ن لیگ لے لے لیکن وہاں کی عوام کو ان کا حق دیا جائے،انھوں نے شریف برادران کو چیلنج کیا کہ وہ ملک بھر میں جہاں بھی جلسہ کریں گے میں ان سے بڑا جلسہ منعقد کر کے دکھائوں گا۔
سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا ہے کہ اگرخط لکھنے سے صدرمملکت کااستثنیٰ قائم رہتا ہے تو مجھے اپنی قربانی کا کوئی غم نہیں لیکن اگرایسا نہیں تو میں اس کی حمایت نہیں کرونگا۔
میں 73ء اورذوالفقار علی بھٹو کے دیے ہوئے آئین کا محافظ ہوں کسی کی انفرادی حیثیت کو نہیں مانتا، ن لیگ نے ملک کی خراب معاشی حالت کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑا اور یہ سوچ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گرجائے گی لیکن ہم نے تاریخ رقم کی، فارورڈ بلاک کے ذریعے حکومت چلانے اور لوگوں کی وفادارایاں تبدیل کرا کر نئی جماعتیں بنانے والے انقلاب نہیں لا سکتے، انقلاب نظریاتی لوگ لاتے ہیں، ان خیالات کا اظہارانھوں نے یہاں '' نئے صوبوں کے مطالبات اورآئندہ عام انتخابات '' کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کوعوام کی طاقت پر بھروسہ ہے لیکن کچھ لوگ اب بھی بیساکھیوں کے سہارے انتخابات جیتنے کے انتظار میں ہیں لیکن میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ اب وہ زمانے گئے،جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کا کریڈٹ ہم نہیں لیتے وہ ن لیگ لے لے لیکن وہاں کی عوام کو ان کا حق دیا جائے،انھوں نے شریف برادران کو چیلنج کیا کہ وہ ملک بھر میں جہاں بھی جلسہ کریں گے میں ان سے بڑا جلسہ منعقد کر کے دکھائوں گا۔