سیاسی بحران سے معیشت کو 100 ارب کا نقصان پہنچا میاں زاہد
دنیا میں منفی پیغام جارہا ہے، مغربی میڈیا فائدہ اٹھا رہا ہے، ملکی مفاد میں دھرنے فوری ختم کیے جائیں
35ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کاحصول ناممکن ہوگا، صدر کراچی انڈسٹریل الائنس کی گفتگو۔ فوٹو: فائل
ملک میں جاری سیاسی بحران کے باعث گزشتہ دوماہ سے تجارت وبرآمدی سرگرمیاں مفلوج ہونے کے سبب 100 ارب روپے سے زائد مالیت کا معیشت کو نقصان پہنچ چکا ہے، تاجرو صنعتکار مزید نقصان کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
یہ بات کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے دھرنا دینے والی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت اورعوام کو مزید یرغمال بنانے کے بجائے پاکستان کے مفاد کوعزیز رکھتے ہوئے فی الفوردھرنے ختم کرنے کا اعلان کریں کیونکہ جاری دھرنوں کی وجہ سے بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثر بڑھتا جارہا ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ اس کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی صنعتی شعبہ پہلے ہی بجلی، گیس، امن وامان کے علاوہ دیگرمتعدد چیلنجز سے دوچار ہے جبکہ جاری دھرنوں کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کے بیرونی خریدار پاکستان آمد سے گریز کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جاری سیاسی بحران کی وجہ سے رواں مالی سال کا مقررہ 35 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف کا حصول ناممکن ہوجائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کے مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو دھرنوں، احتجاج سمیت دیگر جلوسوں کی روایت کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی کے ساتھ پاکستان کی معاشی بہتری اور عوام کی معیار زندگی بلند کرنے کیلیے کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بیرونی دنیا میں پاکستان مثبت تاثر دوبارہ قائم ہوسکے۔ ملکی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکے۔
یہ بات کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے دھرنا دینے والی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت اورعوام کو مزید یرغمال بنانے کے بجائے پاکستان کے مفاد کوعزیز رکھتے ہوئے فی الفوردھرنے ختم کرنے کا اعلان کریں کیونکہ جاری دھرنوں کی وجہ سے بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثر بڑھتا جارہا ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ اس کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی صنعتی شعبہ پہلے ہی بجلی، گیس، امن وامان کے علاوہ دیگرمتعدد چیلنجز سے دوچار ہے جبکہ جاری دھرنوں کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کے بیرونی خریدار پاکستان آمد سے گریز کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جاری سیاسی بحران کی وجہ سے رواں مالی سال کا مقررہ 35 ارب ڈالر کا برآمدی ہدف کا حصول ناممکن ہوجائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ملک وقوم کے مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو دھرنوں، احتجاج سمیت دیگر جلوسوں کی روایت کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی کے ساتھ پاکستان کی معاشی بہتری اور عوام کی معیار زندگی بلند کرنے کیلیے کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بیرونی دنیا میں پاکستان مثبت تاثر دوبارہ قائم ہوسکے۔ ملکی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکے۔