حضرو 3 مغوی بچے قتل مظاہرین نے موٹر وے بندکردی

2 کی لاشیں مل گئیں،اغواکاروں نے 18 روز قبل اغواکرکے10 لاکھ روپے تاوان مانگا تھا۔

2 کی لاشیں مل گئیں،اغواکاروں نے 18 روز قبل اغواکرکے10 لاکھ روپے تاوان مانگا تھا۔ فوٹو: فائل

حضرو کے نواحی علاقے جلالیہ سے اغواکیے گئے تین بچوں کو اغواکاروںنے قتل کردیا دوکی لاشیں مل گئیں جبکہ تیسرا تاحال لاپتہ ہے۔


عوام نے احتجاج کے طور پر موٹر وے بند کر دی، نواحی گائوں جلالیہ کے تین لڑکوں محمدسجادولدمحمد ریاض عمر 14سال، مہران علی اورکاشف محمود کو اغواء کر لیا گیا تھا ، نامعلوم اغواء کاروںنے مغوی کے موبائل فون سے لواحقین سے رابطہ کرکے10لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا مگر تینوں ملزمان انتہائی غریب ہونے کی وجہ سے اس کی سکت نہ رکھتے تھے ، علاقہ کی معروف سیاسی شخصیت خان واثق خان نے اپنی جیب سے 3لاکھ روپے ادا کرنے کی ڈیل کی جس پر وہ رضا مند بھی ہوگئے تھے تاہم اس کے بعد مغویوں کے موبائل فون مسلسل بند رہنے لگے۔

ڈی ایس پی حضرو سید اکبر عباس کے مطابق ایس ایچ او اسرار ستی نے انتہائی مہارت سے ملزمان کو ٹریس کیا تو ان میں سے ایک موضع نرتوپہ (حضرو) کا رہائشی حافظ قرآن الہ یار نکلا ،اس نے سب کچھ اگل دیا جس کی نشاندہی پرمحمد سجادنامی بچے کی لاش موٹر وے کے قریب صابر ساکن نرتوپہ کے گھر سے زمین میں دفن ملی،اس مغوی کو ہاتھ پائوں باندھ کر اسکے گلہ میں پھندا ڈال کر بے دردی سے قتل کیا اور پائو ں اور ہاتھوں میں کیلیں گاڑیں گئیں تھیں، ملزم حافظ الہ یار کے مزید انکشافات کہ میرے ساتھی اکرام نے مہران علی اورکاشف محمود کو غازی بروتھا نہر میں دھکا دیدیا تھا جن کی لاشیں ملنے پر اٹک پولیس نے امانتاً دفن کر دیں تھیں ۔
Load Next Story